مقصدِ حیات قرآن کی سورہ نمبر 51 میں ارشاد ہوا ہے: "اور میں نے جن اور انسان کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی روزی دینے والا ہے، زور آور زبردست ہے۔ پس جن لوگوں نے ظلم کیا، ان کا ڈول بھر چکا ہے، جیسے ان کے ساتھیوں کے ڈول بھرے تھے۔
پس وہ جلدی نہ کریں۔ پس منکروں کے لیے خرابی ہے، ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ " از ذاریات 56 تا 60: "خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے، تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کو پوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔
چنانچہ ابن جریج نے "الا لیعبدون" کی تشریح "الا لیعرفون" کی ہے۔ " تفسیر ابن کثیر: یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے، وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے، اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجے میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے، اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے، اسی طرح آدمی کی مہلتِ عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آ جاتی ہے۔
جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کر لے، اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا، وہ ہلاک ہو گیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جا رہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ کہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
خدا نے انسان کو اپنی ذات کی تکمیل کے لیے نہیں پیدا کیا ہے، بلکہ اس طرح خود انسان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو خدا کا سچا بندہ ثابت کرے، تاکہ وہ خدا کی ابدی نعمتوں کا حقدار بن سکے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 88۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.