خدائی نگرانی قرآن کی سورہ نمبر 50 میں ارشاد ہوا ہے: "اور ہم نے انسان کو پیدا کیا، اور ہم جانتے ہیں ان باتوں کو جو اس کے دل میں آتی ہیں، اور ہم رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ " جب دو لینے والے لیتے رہتے ہیں، جو کہ دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہیں، کوئی لفظ وہ نہیں بولتا، مگر اس کے پاس ایک مستعد نگراں موجود ہے۔ اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی؛ یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ اور سور پھونکا جائے گا، یہ ڈرانے کا دن ہوگا۔
ہر شخص اس طرح آ گیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے، اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اس سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمہارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا۔ پس آج تمہاری نگاہ تیز ہے۔ اور اس کے ساتھ کا فرشتہ کہے گا: "یہ جو میرے پاس تھا، حاضر ہے۔
" جہنم میں ڈال دو ناشکر مخالف کو؛ نیکی سے روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، شبہ ڈالنے والا، جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بنائے۔ پس اس کو ڈال دو سخت عذاب میں۔ اس کا ساتھی شیطان کہے گا: "اے ہمارے رب، میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، بلکہ وہ خود راہ بھولا ہوا، دور پڑا تھا۔ " ارشاد ہوگا: "میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، اور میں نے پہلے ہی تم کو عذاب سے ڈرا دیا تھا۔
" میرے یہاں بات بدلی نہیں جاتی، اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ ق 16-29 دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ریکارڈنگ کا ناقابلِ خطا نظام موجود ہے۔ انسان کی سوچ اس کے ذہنی پردے پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو رہی ہے۔ انسان کا ہر بول ہوائی لہروں کی صورت میں مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔
انسان کا عمل حرارتی لہروں کے ذریعے خارجی دنیا میں اس طرح محفوظ ہو جاتا ہے کہ اس کو کسی بھی وقت دہرایا جا سکے۔ یہ سب آج کی معلوم حقیقتیں ہیں، اور یہ معلوم حقیقتیں قرآن کی اس خبر کو قابلِ فہم بنا رہی ہیں کہ انسان کی نیت، اس کا قول، اور اس کا عمل سب کچھ خالق کے علم میں ہے۔ انسان کی ہر چیز فرشتوں کے رجسٹر میں درج کی جا رہی ہے۔ ان آیتوں میں موت اور اس کے بعد آنے والی قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ یہ منظر کشی بجائے خود اتنی واضح ہے کہ اس کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 87۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.