انسانی امتیاز۔ قرآن کی سورہ نمبر 49 میں ارشاد ہوا ہے: "اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ " الحجرات 13۔ انسان بظاہر ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، مگر سب کے سب ایک ہی ابتدائی باپ اور ماں کی اولاد ہیں، جن کو آدم اور حوا کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان جیسی ایک مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو سب سے پہلے اس نے ایک ابتدائی جوڑا پیدا کیا: ایک مرد اور ایک عورت۔
اسی ابتدائی جوڑے سے انسانی نسل کا آغاز ہوا۔ جیسے جیسے انسانوں کی تعداد بڑھتی گئی، وہ زمین کے مختلف حصوں میں پھیلنے لگے، یہاں تک کہ لمبی مدت کے بعد پوری زمین مردوں اور عورتوں سے آباد ہو گئی۔ زمین پر جغرافی حالات ہر جگہ یکساں نہیں ہیں، بلکہ ایک حصہ اور دوسرے حصے میں فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی حصے میں سخت گرمی ہے اور کسی حصے میں سخت سردی، کسی حصے میں خوراک کا زیادہ بڑا ذریعہ گوشت ہے اور کسی حصے میں خوراک کا زیادہ بڑا ذریعہ زرعی پیداوار وغیرہ۔
اس جغرافی فرق سے لوگوں کے اندر اور حلیہ اور قد اور مزاج میں بھی فرق آتا چلا گیا۔ اس طرح کوئی سفید ہو گیا، کوئی کالا، کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے۔ یہ تمام فرق اضافی ہیں، نہ کہ حقیقی۔ وہ صرف تعارف کے لیے ہیں، نہ کہ امتیاز کے لیے۔
اکثر خرابیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس ظاہری فرق کو حقیقی فرق سمجھنے لگتے ہیں، اور اس کی بنا پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کرنے لگتے ہیں۔ اس سے وہ تفریق اور تعصب وجود میں آتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان اپنے آغاز کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ ان میں امتیاز کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کون اللہ سے ڈرنے والا ہے اور کون اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔
ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق ان کی حقیقی صفات کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ ان کی ظاہری خصوصیات کی بنیاد پر۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 86۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.