Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ilm aur beilmi

Urdu · 4 min

علم اور بے علمی۔ قرآن کی سورہ نمبر 39 میں ارشاد ہوا ہے: "اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس کی طرف رجوع ہو کر، پھر جب وہ اس کو اپنے پاس سے نعمت دے دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے وہ پہلے پکار رہا تھا، اور وہ دوسروں کو خدا کا برابر ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کر دے۔ " کہو کہ اپنے کفر سے تھوڑے دن فائدہ اٹھا لے، بے شک تو آگ والوں میں سے ہے۔ بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عاجزی کر رہا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو، اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو، کہو: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟

نصیحت تو وہی لوگ پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ الزمر 8:9: "ہر آدمی پر ایسے لمحات آتے ہیں جبکہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ رہا تھا، وہ بھی اس نازک لمحے میں اس کے مددگار نہیں بنتے۔ اس وقت آدمی سب کچھ بھول کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔

اس طرح مصیبت کی گھڑیوں میں ہر آدمی جان لیتا ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، مگر مصیبت دور ہوتے ہی وہ دوبارہ پہلے کی طرح بن جاتا ہے۔ انسان کی مزید کوتاہی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرے، وہ اس کو اسباب کا کرشمہ بتائے یا فرضی معبودوں کا کرشمہ۔ ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے، دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کر دیتی ہو۔ یہی دوسرا انسان دراصل خدا والا انسان ہے۔

اس کا اقرارِ خدا حالات کا پیداوار نہیں ہوتا، وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب یک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی بے قراریاں رات کے لمحات میں بھی اس کو بستر سے جدا کر دیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی، بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔

علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو، اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 83۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.