ایک نصیحت: قرآن کی سورہ نمبر 39 میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کو زمین کے چشموں میں جاری کر دیا؟ پھر وہ اس سے مختلف قسم کی کھیتیاں نکالتا ہے، پھر یہ کھیتیاں خشک ہو جاتی ہیں، تو تم ان کو زرد دیکھتے ہو، پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں نصیحت ہے عقل والوں کے لیے۔
کیا وہ شخص جس کا سینہ خدا نے اطاعت الہی کے لیے کھول دیا، پس وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے، تو خرابی ہے ان کے لیے جن کے دل خدا کی نصیحت کے معاملے میں سخت ہو گئے؟ یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ الزمر 21:22: زمین پر بارش کا حیرت انگیز نظام، پھر اس سے سبزے کا اگنا، پھر فصل کی تیاری، ان مادی واقعات میں بے شمار معنوی نصیحتیں ہیں، مگر ان نصیحتوں کو وہی لوگ پاتے ہیں جو باتوں کی گہرائی میں اترنے کا مزاج رکھتے ہوں۔ ایک طرف خدا نے خارجی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا کہ اس کی ہر چیز حقیقتِ اعلیٰ کی نشانی بن گئی، دوسری طرف انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں رکھ دیں کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھے اور ان کو سمجھ سکے۔
اب وہ لوگ جو اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور ان سے کام لے کر دنیا کی چیزوں پر غور کریں، ان کے سینے میں معرفت کے دروازے کھل جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ نہ رکھ سکیں، وہ نصیحتوں کے ہجوم میں بھی نصیحت لینے سے محروم رہیں گے۔ وہ دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھیں گے، اور سن کر بھی کچھ نہ سنیں گے۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آغاز سے تکمیل کی طرف جاتی ہے۔
مثلاً ایک بیج پودے سے شروع ہو کر مکمل درخت بنتا ہے۔ اسی طرح کھیتی کی ایک ابتدا ہے، اور دوسری اس کی انتہا۔ یہی حال موجودہ دنیا میں تمام چیزوں کا ہے۔ یہ واقعہ انسان کے لیے خدائی سبق ہے۔
اس طرح خدا انسان کو بتاتا ہے کہ تم بھی آغاز سے تکمیل کی طرف جا رہے ہو۔ بچپن کے بعد جوانی اور بڑھاپا، اور پھر مر کر ایک نئی اور ابدی زندگی کی منزل میں داخل ہو جانا۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 84۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.