Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Tazeen-e-amal

Urdu · 4 min

تزینِ عمل: قرآن کی سورہ نمبر 35 میں ارشاد ہوا ہے: "اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ برحق ہے"۔ تو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ وہ بڑا دھوکہ باز تم کو اللہ کے باب میں دھوکہ دینے پائے۔ بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم اس کو دشمن ہی سمجھو؛ وہ تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہو جائیں۔

جن لوگوں نے انکار کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا، ان کے لیے معافی ہے اور بڑا اجر ہے۔ کیا ایسا شخص جس کو اس کا برا عمل اچھا کر کے دکھایا گیا، پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا؟ پس اللہ جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ پس ان پر افسوس کر کے تم اپنے کو ہلکان نہ کرو؛ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

فاطر 5:8: خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے زندگی کی نوعیت کے بارے میں جو خبر دی ہے، آدمی فوراً اس سے دوچار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو دنیا کی چیزیں ہیں، آدمی آج ہی ان سے دوچار ہو رہا ہے۔ موت اور زلزلہ اور حادثات گویا قیامت سے پہلے قیامت کی اطلاع ہیں، مگر شیطان فوراً ہی لوگوں کے ذہن کو یہ کہہ کر پھیر دیتا ہے کہ یہ سب اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ خدائی مداخلت کے تحت۔ لیکن اس قسم کا ہر خیال شیطان کا فریب ہے۔

وہ دن آنا لازم ہی ہے جبکہ جھوٹ اور سچ میں تفریق ہو، جبکہ اچھے لوگوں کو ان کی اچھائی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔ خدا نے ہر آدمی کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سوچے اور حق اور ناحق کے درمیان تمیز کر سکے۔ جو آدمی اپنی اس فطری صلاحیت کو استعمال کرتا ہے، وہ ہدایت پاتا ہے، اور جو شخص اس فطری صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ ہدایت نہیں پاتا۔ آدمی کے سامنے جب حق آئے تو فوراً اس کے ذہن کو جھٹکا لگتا ہے۔

اس وقت اس کے لیے دو راستے ہوتے ہیں: اگر وہ حق کا اعتراف کر لے تو اس کا ذہن صحیح سمت میں چل پڑتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ کوئی مصلحت یا کوئی نفسیاتی پیچیدگی اس کے سامنے آئے اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا اعتراف کرنے سے رک جائے، تو اس کا ذہن اپنے عدمِ اعتراف کو جائز ثابت کرنے کے لیے باتیں گھڑنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے برے عمل کو اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 81۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.