Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ikhtiyaaraana ita'at

Urdu · 5 min

اختیارانہ اطاعت۔ قرآن کی سورہ نمبر 33 میں ارشاد ہوا ہے: "ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا" تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا، تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو، اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

الاحزاب 72 تا 73۔ انسان اور کائنات دونوں ہی خدا کی مخلوق ہیں، دونوں ہی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل طور پر خدا کی ماتحتی میں رہیں۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے: کائنات مجبورانہ طور پر خدا کی ماتحتی کو قبول کیے ہوئے ہے، انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اسی ماتحتی کو خود اپنے آزادانہ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اسی ماتحتی کو خود اپنے آزاد فیصلے کے تحت اختیار کرے۔ امانت سے مراد یہی اختیار ہے۔

اختیار کو امانت اس لیے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کے لیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے، تاکہ انسان خود اپنے ارادے سے خدا کا تابعدار بنے۔ امانت دوسرے لفظوں میں اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے، اپنے آپ پر وہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کر رہا ہے، یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے، اور تمام چیزیں اس کی محکوم ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔

آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا تحمل نہیں کر سکتے، تاہم انسان نے شدید اندیشے کے باوجود اس کو قبول کر لیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے، اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کو اپنے اوپر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالتِ امتحان میں ہے، اور موجودہ دنیا اس کے لیے وسیع امتحان گاہ ہے۔

یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے، کیونکہ اسی کی وجہ سے جزا و سزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور و مقهور ہیں، اس لیے ان کے واسطے جزا و سزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے، اس لیے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 80۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.