Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Wasiyyat-e-insan

Urdu · 3 min

وصیتِ انسان: قرآن کی سورہ نمبر 31 میں ارشاد ہوا ہے، اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے معاملے میں تاکید کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا، اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا۔ کہ تو میرا شکر کر، اور اپنے والدین کا میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جو تجھ کو معلوم نہیں، تو ان کی بات نہ ماننا۔

اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا۔ اور تم اس شخص کے راستے کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا، پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے۔ پھر میں تم کو بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے۔ لقمان 14:15 خدا کے بعد انسان کے اوپر سب سے زیادہ حق ماں باپ کا ہے۔

البتہ اگر ماں باپ کا حکم خدا کے حکم سے ٹکرائے، تو اس وقت خدا کا حکم لینا چاہیے اور ماں باپ کا حکم چھوڑ دینا ہے۔ تاہم اس وقت بھی یہ ضروری ہے کہ ماں باپ کی خدمت کو بدستور جاری رکھا جائے۔ خدا کے سلسلے میں انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس کا شکر کرے۔ وہ دل کی تمام گہرائیوں کے ساتھ خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔

اس کے تمام جذبات اور احساسات خدا کی نعمتوں کے اعتراف میں سرشار ہو جائیں۔ یہاں تک کہ وہ ہر لمحہ خدا کی یاد کرنے لگے۔ اس کا وجود سراپا خداوند ذوالجلال کا تذکرہ بن جائے۔ ماں باپ کے سلسلے میں انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کے حقوق ادا کرے۔

وہ ان کو عزت دے۔ وہ ہمیشہ ان کے مقابلے میں نرمی کے ساتھ بولے۔ وہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرے۔ وہ کامل معنوں میں ان کی خدمت گزار بن جائے۔

اگر والدین کے حکم اور خدا کے تقاضوں میں ٹکراؤ ہو، تو اس وقت انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے تقاضوں کو پورا کرے۔ ایسے وقت میں انسان پر والدین کے حکم کی پیروی ضروری نہیں۔ تاہم اس وقت بھی والدین کے ساتھ نرمی ہی کا معاملہ کرنا ضروری ہوگا۔ اخلاقی ذمہ داری کسی بھی حال میں انسان سے ساقط نہیں ہوتی۔

اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 79۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.