Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Kainaati nishaniyan

Urdu · 4 min

کائناتی نشانیاں۔ قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے: "اے انسان! کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے زمین کی چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے، اور کشتی کو بھی؟ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے، مگر یہ کہ اسی کے حکم سے۔

بے شک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا، مہربان ہے۔ اور وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تم کو زندہ کرے گا۔ بے شک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ " الحج 65-66۔

زمین کی تمام چیزیں ایک خاص توازن کو مسلسل اپنے اندر قائم رکھتی ہیں۔ اگر ان کا توازن بگڑ جائے تو چیزیں مفید بننے کے بجائے ہمارے لیے سخت مضر بن جائیں۔ پانی میں دھات کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو وہ فوراً ڈوب جائے گا، مگر پانی کو خدا نے ایک خاص قانون کا پابند بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ لکڑی یا لوہے کو کشتی کی صورت دے دی جائے تو وہ پانی میں نہیں ڈوبے گا۔ خلا میں بے شمار کرّے ہیں، ان کو بظاہر گر پڑنا چاہیے، مگر وہ خاص قانون کے تحت نہایت صحت کے ساتھ اپنے مدار پر تھمے ہوئے ہیں۔

انسان نے اپنے آپ کو خود نہیں بنایا، اس کو خدا نے پیدا کیا ہے، پھر اس کو ایسی دنیا میں رکھا جو اس کے لیے سراپا رحمت ہے۔ مگر آزادی پا کر انسان ایسا سرکش ہو گیا کہ وہ اپنے سب سے بڑے محسن کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا۔ کائنات خود اپنی ذات میں ایک مکمل دلیل ہے۔ وہ ان تمام حقیقتوں کا عملی مظاہرہ ہے جن کے ماننے کا مطالبہ انسان سے نظری طور پر کیا گیا ہے۔

انسان اگر کائنات کے نظام پر غور کرے، وہ اس کی خاموش آوازوں پر کان لگائے، وہ اس کی حکمتوں سے اپنے لیے نصیحت حاصل کرے، تو کائنات کی کھلی ہوئی کتاب ہی میں وہ تمام خدائی حقیقتوں کو پڑھ لے گا۔ مخلوقات کے آئینے میں وہ کامل طور پر خالق کو دیکھ لے گا۔ خدا کو پانا انتہائی حد تک ممکن ہے، شرط صرف یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ مطالعے کی استعداد اپنے اندر پیدا کرے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 78۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.