Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Imtehaan

Urdu · 4 min

امتحان۔ قرآن کی سورہ نمبر 20 میں ارشاد ہوا ہے: "اور ہم نے آدم کو اس سے پہلے حکم دیا تھا، تو وہ بھول گیا، اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ " اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو انہوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا۔ پھر ہم نے کہا کہ اے آدم، یہ بلاشبہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، تو کہیں وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے، پھر تم محروم ہو کر رہ جاؤ۔

طہ 115-117۔ خدا کے حکم پر قائم رہنے کے لیے مضبوط ارادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ آدمی اگر غیر متعلق چیزوں سے متاثر ہو جایا کرے، تو وہ یقیناً خدا کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ خدا کے راستے پر قائم رہنے کے لیے صرف خدا کے حکم کو جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ عزم بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ آدمی حکمِ خداوندی کے خلاف باتوں سے مزاحمت کرے، اور ان کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔

خدا نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتے فوراً سجدے میں گر گئے، مگر شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرشتوں نے اس معاملے کو خدا کا معاملہ سمجھا، اس کے برعکس ابلیس نے اس کو انسان کا معاملہ سمجھا۔ جب معاملے کو خدا کا معاملہ سمجھا جائے تو آدمی کے لیے ایک ہی ممکن صورت ہوتی ہے: وہ یہ کہ وہ اس کی اطاعت کرے۔

مگر جب معاملے کو انسان کا معاملہ سمجھ لیا جائے تو آدمی یہ کرے گا کہ وہ اب مگر جب معاملے کو انسان کا معاملہ سمجھ لیا جائے تو آدمی یہ کرے گا کہ وہ سامنے کے انسان کو دیکھے گا۔ اگر وہ اس سے طاقتور ہے تو وہ جھک جائے گا، اور اگر وہ اس سے طاقتور نہیں ہے تو وہ جھکنے سے انکار کر دے گا۔ خواہ حق کا واضح تقاضا یہی ہو کہ وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔ آدم اور ابلیس کی یہ کہانی ہر انسان کی زندگی میں بار بار دہرائی جا رہی ہے۔

ہر آدمی کی زندگی میں یہ صورت پیش آتی ہے کہ زندگی کی سرگرمیوں میں اس کا سابقہ کسی صاحبِ حق انسان سے پڑتا ہے۔ یہ حق خواہ لین دین کی صورت میں ہو یا ایک سچی بات کی صورت میں، ہر ایسے موقع پر آدمی دوبارہ اسی امتحان میں کھڑا ہو جاتا ہے جو انسانِ اول کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ایسے موقع پر جو آدمی حق کے آگے جھک جائے، وہ گویا خدا کے آگے جھکا۔ اور جو آدمی حق کے آگے نہ جھکے، اس نے گویا شیطان کی پیروی کی۔

اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 77۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.