ذہنی خول: قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ارشاد ہوا ہے کہ آدمی پر جب ہم انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ نا امید ہو جاتا ہے۔ کہو کہ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔ بنی اسرائیل 83 تا 84: ہر انسان پر یہ کیفیت گزرتی ہے کہ جب اس کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ برخود غلط نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے۔
کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہو جاتا ہے اور مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارے میں اس تجربے سے گزرتا ہے، مگر ایسے لوگ کم ہیں جو اس تجربے کے درمیان اپنی حقیقت کو دریافت کر لیں۔ وہ یہ سوچیں کہ دنیا میں جبکہ انہیں آزادی حاصل ہے، وہ حق کے مقابلے میں اتنی سرکشی دکھا رہے ہیں، مگر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جبکہ قیامت آئے گی اور ان سے ان کا سارا اختیار چھین لے گی۔
انسان کتنا زیادہ کمزور ہے، مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقتور سمجھتا ہے۔ شاکلے سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتا ہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطہ نظر بنتا ہے۔
مگر صحیح نقطہ نظر وہ ہے جو علم الہی کے مطابق صحیح ہو، اور غلط وہ ہے جو علم الہی کے مطابق غلط ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلے نے جو اس کا ذہنی خول بنا دیا ہے، وہ اس خول کو توڑے تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسے کہ وہ ہیں۔ وہ اس خول کو توڑے تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔
بالفاظ دیگر، وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پا لیں، وہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت پائی۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 76۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.