تجربے کی زبان سے: خُرَان کی سورہ نمبر 17 میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے، تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ بے شک وہ تمہارے اوپر مہربان ہے۔ اور جب سمندر میں تم پر آفت آتی ہے تو تم ان معبودوں کو بھول جاتے ہو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے۔
پھر جب وہ تم کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم پھر جاتے ہو، اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ بنی اسرائیل 66 تا 67: خدا نے موجودہ دنیا کو خاص قوانین کا پابند بنا دیا ہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ سمندر میں اور خشکی اور فضا میں اپنی سواریاں دوڑائے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ انسان اپنے حق میں اپنے خدا کی نعمتوں کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بنے۔
مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ ایسا ہی ہونا ہے۔ ارادے کے تحت ہونے والے واقعے کو وہ اپنے آپ ہونے والا واقعہ فرض کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر اس کے اندر کوئی خدائی احساس نہیں جاگتا۔ خدا کی معرفت اتنی حقیقی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کے اندر آخری گہرائی تک اتری ہوئی ہے۔
اس کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس پر کوئی آفت آ پڑے، جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے۔ مثلاً عطا سمندر میں طوفان کا آنا، اور جہاز کا اس کے اندر پھنس جانا۔ اس طرح کے لمحات میں انسان کے اوپر سے اس کے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ ایک خدا کو پہچان کر اسے پکارنے لگتا ہے۔
یہ وقتی تجربہ انسان کو اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس پر ڈھال لے۔ وہ وقتی اعتراف کو اپنا مستقل ایمان بنا لے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ طوفان میں وہ جس حقیقت کو یاد کرتا ہے، طوفان سے نکلنے کے بعد وہ اس کو بھول جاتا ہے۔ خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے، اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔
اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقتِ اعتراف ہے، اور شرک کی اصل حقیقتِ عدمِ اعتراف۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 75۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.