خدا کا حکم۔ قرآن کی سورہ نمبر 16 میں ارشاد ہوا ہے کہ: "اے لوگو! بے شک خدا حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا، اور خرابت داروں کو دینے کا، اور خدا روکتا ہے فحشا سے اور منکر سے، اور سرکشی سے۔ خدا تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو، اور تم خدا کے عہد کو پورا کرو، جبکہ تم آپس میں عہد کر لو، اور خسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو، اور تم خدا کو ضامن بھی بنا چکے ہو۔
بے شک خدا جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ " النحل، 90 تا 91۔ خدا کے نزدیک پہلی چیز جس کا انسان کو اہتمام کرنا چاہیے وہ عدل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کا حق جو دوسرے پر آتا ہے، وہ اس کو پوری طرح ادا کرے، خواہ صاحبِ حق کمزور ہو یا طاقتور، اور خواہ وہ پسندیدہ شخص ہو یا ناپسندیدہ۔
حقوق کی ادائیگی میں صرف حق کا لحاظ کیا جائے، نہ کہ دوسرے اعتبارات کا۔ دوسری چیز احسان ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں عالی ظرفی کا طریقہ اپنایا جائے، انصاف کے ساتھ مروت کو جمع کیا جائے، قانونی دائرے سے آگے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ فیاضی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ آدمی کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ حتی الامکان وہ اپنے لیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے، اور دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرے۔
تیسری چیز ایتائے ذی القربیٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے علاوہ اپنے رشتہ داروں کی ضرورت کے بارے میں بھی حساس ہو۔ ہر صاحبِ استعداد شخص اپنے مال پر صرف اپنا اور اپنے گھر والوں ہی کا حق نہ سمجھے، بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کو بھی وہ اپنی ذمہ داری میں شامل کرے۔ اس کے بعد آیت میں تین چیزوں سے منع فرمایا گیا ہے: فحشا سے مراد کھلی ہوئی اخلاقی برائیاں ہیں، یعنی وہ برائیاں جن کا برا ہونا خود اپنے ضمیر کے تحت ہر آدمی کو معلوم ہوتا ہے۔
منکر معروف کا الٹا ہے۔ معروف ان اچھی باتوں کو کہتے ہیں جن کو ہر معاشرے میں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس منکر سے مراد وہ ناپسندیدہ کام ہیں جو عام اخلاقی معیار کے خلاف ہیں۔ بغی کے معنی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کرنا ہے۔
اسلام ایک تعارف۔ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 72۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.