Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Islahi raviyya

Urdu · 4 min

اصلاحی رویہ: قرآن کی سورہ نمبر 7 میں ارشاد ہوا ہے کہ تم لوگ زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو۔ الاعراف 56۔ زمین کی اصلاح سے مراد اللہ کا وہ نظام ہے جو انسان کے سوا بقیہ دنیا میں قائم ہے۔ انسان کو خدا کے اس قائم کردہ نظام سے مطابقت کر کے رہنا ہے۔

اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے خلاف روش اختیار کرے۔ زمین کو خدا نے خاموش عمل کی دنیا بنایا ہے، اس لیے یہاں شور و غل نہ مچاؤ۔ یہاں خدا نے صاف ہوا میں سانس لینے کا انتظام کیا ہے۔ تم اپنی کثافت سے خدا کی ہوا کو خراب نہ کرو۔

نباتات اور حیوانات اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے ہیں، تم بھی اپنے دائرے میں کام کرو۔ دوسرے کے دائرے میں مداخلت نہ کرو۔ یہاں سارا کام حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ تم بھی ایسا ہی کرو، اور جذباتیت یا جلد بازی کا رویہ نہ اختیار کرو۔

اس دنیا کی تمام چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کر کے اپنا اپنا کام کر رہی ہیں۔ تم بھی دوسروں سے ہم آہنگی کر کے زمین پر زندگی گزارو۔ اس دنیا میں ہر چیز دوسرے کے لیے نفع بخش بنی ہوئی ہے۔ تم بھی اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے نفع بخشی کی حد تک خیر خواہ بن جاؤ۔

زمین کی اصلاح خدا کی طرف سے ہو چکی ہے۔ انسان کو اس کی اصلاح نہیں کرنا ہے۔ انسان کو صرف اس اصلاحی نقشے کی پیروی کرنا ہے۔ اصلاح شدہ زمین کی طرح اس کو بھی اپنے معاشرے کو اصلاح یافتہ بنا لینا ہے۔

خدا کی زمین پر انسان کے لیے دو ممکن رویے ہیں: اصلاحی رویہ اور مفسدانہ رویہ۔ اصلاحی رویہ یہ ہے کہ انسان شعوری طور پر اس درست نظام کی پیروی کرے جس کی پیروی بقیہ کائنات غیر شعوری طور پر کر رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں مفسدانہ رویہ یہ ہے کہ آدمی کائناتی نظام سے منحرف ہو جائے۔ وہ کائنات میں خدا کے قائم کردہ نظام میں اصلاح کو چھوڑ کر کوئی خود ساختہ رویہ اختیار کر لے۔

خدا کی اصلاح یافتہ زمین انسانی رہائش کے لیے بہترین جگہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ انسانی عمل کے لیے بہترین نمونہ بھی۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 68۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.