آنے والا وقت۔ قرآن کی سورہ نمبر 7 میں ارشاد ہوا ہے: "اور ہر قوم کے لیے ایک مقررہ مدت ہے" پھر جب ان کی مدت آ جائے گی تو وہ نہ ایک ساتھ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ اے بنی آدم! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیات سنائیں، تو جو شخص ڈرا اور جس نے اصلاح کر لی، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اور جو لوگ میری آیات کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں، وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ ان کے نصیب کا جو حصہ لکھا ہوا ہے، وہ انہیں مل کر رہے گا، یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کے لیے ان کے پاس پہنچیں گے۔ تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے، کہاں ہیں؟
وہ کہیں گے کہ وہ سب ہم سے کھوئے گئے، اور وہ اپنے اوپر اقرار کریں گے کہ بے شک وہ انکار کرنے والے تھے۔ الاعراف 34 تا 37۔ انسان کے لیے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آ جائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہو، تو اس کے اوپر گویا خدا کی حجت پوری ہو گئی۔
اس کے بعد بھی اگر وہ اس حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ یقیناً کبر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے لیے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلے میں اپنے کو چھوٹا بنانے پر راضی کر لے۔ ایسے آدمی کے لیے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی انجام نہیں۔ انسان جب بھی حق کا انکار کرتا ہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتا ہے، کسی کو دولت و اقتدار کا اعتماد ہوتا ہے، کوئی اپنی عزت و مقبولیت پر بھروسہ کیے ہوئے ہوتا ہے۔
مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے، وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہے۔ قیامت کے دن جب یہ بے بنیاد سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچہ اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 67۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.