روحانی لباس: قرآن کی سورہ نمبر 7 میں ارشاد ہوا ہے: "اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہارے بدن کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے، اور زینت بھی۔ " اور تقویٰ کا لباس اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ غور کریں۔
اے آدم کی اولاد! شیطان تم کو بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا۔ اس نے ان کے لباس اتروائے تاکہ ان کو ان کے سامنے بے پردہ کر دے۔ وہ اور اس کے ساتھی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔
ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ الاعراف 26:27: ظاہری لباس کی طرح انسان کو ایک اندرونی لباس بھی درکار ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس ہے۔ تقویٰ کا لباس کیا ہے؟
یہ ہے اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صرف ایک معیار رکھنا۔ اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا۔ دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو گویا کہ وہ اپنے اندرونی وجود کو لباس پہناتا ہے۔
اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کر دیتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنایا ہوا۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے، اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔ شیطان آدمی کو بہکاتا ہے۔
وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتا ہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آ رہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے نازک مقامات سے اس پر حملہ کرتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریے کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتا ہے، کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے، کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتا ہے۔
کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے، کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ شیطان ان لوگوں پر کامیاب ہوتا ہے جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے، جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جنہیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلے میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 66۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.