Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ruhani zindagi

Urdu · 4 min

روحانی زندگی: قرآن کی سورہ نمبر 6 میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا وہ انسان جو مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی دی، اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ وہ انس، وہ اس انسان کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح منکروں کی نظر میں ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے۔ الانعام 123: ایک شخص وہ ہے جس کو حق نہیں ملا، یا حق اس کے سامنے آیا اور اس نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ایسا آدمی گویا کہ ذہنی اور فکری اعتبار سے مرا ہوا ہے۔ حق سے محرومی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی اندرونی شخصیت صحیح رخ پر حرکت میں نہیں آئی۔ اس کے ذہن کو اس کی مطلوب فکری غذا نہیں ملی۔ اس کی روح کے اندر سچائی کو پانے کی جو طلب پیدائشی طور پر موجود تھی، وہ اپنے مطلوب کو نہ پا سکی۔

ایسا انسان بظاہر جسمانی اعتبار سے زندہ ہوگا، مگر روحانی اعتبار سے وہ ایک مرا ہوا انسان ہوگا۔ مادی خوراک سے محرومی جس طرح جسم کو بے جان کر دیتی ہے، اسی طرح ایسے انسان کی اندرونی شخصیت بے جان حالت میں ہوگی۔ وہ جسمانی اعتبار سے زندہ انسان ہوگا، لیکن روحانی اعتبار سے وہ ایک مردہ انسان بنا ہوا ہوگا۔ اس کے برعکس، جس آدمی نے حق کو پا لیا، جس کا حال یہ ہوا کہ جب اس کے سامنے حق آیا تو اس نے کھلے ذہن کے ساتھ اس کو قبول کر لیا، ایسے انسان کا اندرونی وجود اچانک زندہ اور متحرک ہو جائے گا۔

حق اس کی آنکھ کی روشنی بن جائے گا، جس کے ذریعے وہ دنیا کے راستوں کو دیکھے۔ وہ اس کے پاؤں کی طاقت بن جائے گا، جس کے ذریعے وہ سچائی کے راستے پر چلے۔ اس کے خول اور اس کے کردار میں حق کی جھلک دکھائی دے گی۔ اس کا جینا سچائی کا جینا ہوگا، اور اس کا مرنا بھی سچائی کا مرنا۔

حقیقت کو پایا ہوا انسان اور حقیقت سے محروم انسان کے درمیان موت اور حیات کا فرق ہے۔ ایک اگر مردہ وجود ہے تو دوسرا پورے معنوں میں ایک زندہ وجود۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.