Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Haqeeqat ki daryaaft

Urdu · 5 min

حقیقت کی دریافت: قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ارشاد ہوا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات دن کے باری باری آنے میں، عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں، وہ کہہ اٹھتے ہیں: "اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے۔ " پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔

اے ہمارے رب! تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ۔

پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کو بخش دے، اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے، اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب!

تو نے جو وعدے ہم اپنے رسولوں کی معرفت سے کیے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر، اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ آل عمران آیت 190 تا 94: انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے چاروں طرف بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں، جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ جو لوگ ان نشانیوں پر غور کریں، اور یکسو ہو کر اس کے پیغام کو سننے کی کوشش کریں، وہ یقینی طور پر مخلوقات کی اس جلوہ گاہ میں اس کے خالق کو پا لیں گے۔

کائنات کی معنویت کو دریافت کرنا کوئی سادہ بات نہیں؛ یہ مخلوق کا اپنے خالق کو دریافت کرنا ہے، یہ طالب کا اپنے مطلوب کو پا لینا ہے۔ اس دریافت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے، وہ اس کو اپنی عملی زندگی میں شامل کر لیتا ہے، وہ ان لوگوں کا ساتھی بن جاتا ہے جو اس کی طرح حقیقت کے طالب تھے، اور اس کو دریافت کر کے اس کے اوپر چل پڑے۔ حقیقت کی دریافت کوئی فلسفیانہ دریافت نہیں ہے؛ وہ اپنی ذمہ داریوں کی دریافت ہے، وہ اپنے آغاز اور انجام کی دریافت ہے۔ جو آدمی اس دریافت تک پہنچ جائے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا فراموشی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کر لیتا ہے۔

وہ جہنم کے راستوں میں بھٹکنے کے بجائے، اس صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے جو اس کو جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 62۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.