Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Qiyaamat me

Urdu · 4 min

قیامت میں قرآن کی سورہ نمبر 6 میں ارشاد ہوا ہے: "اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو میری آیتیں سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے؟ " وہ کہیں گے: "ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں" اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا۔ اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بے شک ہم منکر تھے، یہ اس وجہ سے کہ تمہارا رب بستیوں کو ان کے ظلم پر اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں کہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں۔

" الانعام 131 تا 132۔ شیطان جب آدمی کو خوشنما ترغیبات کے ذریعے اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتا ہے جو اس نے آغازِ تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ "میں تیری مخلوق کے بڑے حصے کو اپنا ہم نوا بنا لوں گا"۔ بنی اسرائیل 61۔ اسی طرح جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں، ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں، یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جنی استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنہوں نے دوسروں کو بے راہ کیا، انہوں نے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا، نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیاوی رونقوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کر سکے۔

ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعے جو ہدایت کھولی تھی، وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقتِ حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی۔ جاننے کے باوجود انہوں نے نہ جانا، سننے کے باوجود انہوں نے نہ سنا۔ آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پرواہ بنے ہوئے تھے۔

اس وقت ان کو نظر آ جائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا، مگر انہوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کر دیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی، مگر خوبصورت تاویل کر کے انہوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ خدا کے یہاں بھول کی معافی ہے، مگر خدا کے یہاں سرکشی کی کوئی معافی نہیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 64۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.