کائنات کی گواہی: قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں، اور رات اور دن کے آنے اور جانے میں، اور اُن کشتیوں میں جو انسانوں کے کام آنے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں، اور اُس پانی میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اُس سے مردہ زمین کو زندگی بخشی، اور اُس سے زمین میں سب قسم کے جانور پھیلا دیے، اور ہواؤں کی گردش میں اور بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان حکم کے تابع ہیں، اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ البقرہ، آیت 163 تا 164۔ ہمارے سامنے پھیلی ہوئی کائنات اللہ کا ایک عظیم الشان تعارف ہے۔ زمین و آسمان کی صورت میں ایک عطا کارخانے کا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ضرور اُس کا کوئی بنانے والا ہے۔
طرح طرح کے ظاہری اختلاف اور تضاد کے باوجود، تمام چیزوں کا حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ثابت کرتا ہے کہ اُس کا خالق و مالک صرف ایک ہے۔ کائنات کی چیزوں میں نفع بخشی کی صلاحیت ہونا، گویا اس بات کا اعلان ہے کہ اُس کی منصوبہ بندی کامل شعور کے تحت بالارادہ کی گئی ہے۔ بے جان چیزوں میں قدرتی عمل سے جان اور تازگی کا آنا بتاتا ہے کہ کائنات میں موت محض عارضی ہے۔ یہاں ہر موت کے بعد لازماً دوسری زندگی آتی ہے، ایک ہی پانی اور ایک ہی خوراک سے قسم قسم کے جانداروں کا ان گنت تعداد میں پایا جانا، اللہ کی بے حساب قدرت کا پتہ دیتا ہے۔
ہوا کا مکمل طور پر انسان کو اپنے گھیرے میں لیے رہنا بتاتا ہے کہ انسان پوری طرح اپنے خالق کے قبضے میں ہے۔ کائنات کی تمام چیزوں کا انسانی ضرورت کے تحت سدھار ہوا ہونا ثابت کرتا ہے کہ انسان کا خالق ایک بے حد مہربان ہستی ہے۔ وہ اُس کی ضروریات کا اہتمام اُس وقت سے کر رہا ہوتا ہے جبکہ اُس کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ انسان کا خدا ایک ہی خدا ہے، وہی اس قابل ہے کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز بنے۔
ہمارا وجود اور وہ سب کچھ جو ہم کو زمین پر حاصل ہے، اس لیے ہے کہ ہمارا یہ خدا رحمتوں کا خزانہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اُس کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنائے، اور اپنی تمام امیدوں اور تمناؤں کو ہمیشہ کے لیے اُسی کے ساتھ وابستہ کر دے۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 60۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.