Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Asl kotahi

Urdu · 5 min

اصل کوتاہی۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ارشاد ہوا ہے: "اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا، اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے، تاکہ تم دوزخ سے بچ جاؤ۔ " وہ ذات جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا، اور آسمان کو چھت بنایا، اور اتارا آسمان سے پانی، اور اس سے پھل پیدا کیے، اور اس سے پیدا کیے پھل تمہاری غذا کے لیے؛ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔

البقرہ، آیت 21 تا 22۔ انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین و آسمان میں ہے، سب کا پیدا کرنے والا صرف خدا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو نہایت حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے، وہ حران ان کی نگہبانی کر رہا ہے۔ اس لیے انسان کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ خدا کو بغیر کسی شرکت کے خالق، مالک، اور رازق تسلیم کر لے؛ وہ اس کو اپنا سب کچھ بنا لے۔

مگر خدا چونکہ نظر نہیں آتا، اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی نظر آنے والی چیز کو اہم سمجھ کر اس کو خدائی مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ وہ ایک مخلوق کو جزئی یا کلی طور پر خالق کے برابر ٹھہرا لیتا ہے؛ کبھی اس کو خدا کا نام دے کر، اور کبھی خدا کا نام دیے بغیر۔ یہی انسان کی اصل کوتاہی ہے۔ پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا کو بڑائی کا مقام دے؛ اس کے علاوہ جس جس کو اس نے خدائی عظمت کے مقام پر بٹھا رکھا ہے، اس کو عظمت کے مقام سے اتار دے۔

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس کو ہر لمحہ مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے سہارے وہ زمین پر اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ انسان کو ایک ایسی زمین چاہیے جس کے اندر کشش ہو، تاکہ وہ اس کے اوپر ٹھہر سکے۔ انسان کو ایک ایسی فضا چاہیے جس میں ہر لمحہ اس کے لیے آکسیجن کی سپلائی کا انتظام ہو۔

اس کو ایک ایسا سورج چاہیے جو مسلسل اس کو روشنی اور حرارت پہنچا رہا ہو۔ اس کی یہ ضرورت ہے کہ اس کی دنیا میں پانی کی نہایت وافر مقدار موجود ہو، کیونکہ پانی کے بغیر کسی قسم کی زندگی ممکن نہیں۔ اس کو مختلف قسم کی غذا درکار ہے جو اس کو مسلسل طاقت دیتی رہے۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں خدا نے دنیا میں بھرپور مقدار میں فراہم کر دی ہیں۔

یہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ انسان صرف ایک خدا کی عبادت کرے، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 59۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.