Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Sabr

Urdu · 4 min

صبر۔ صبر کا مطلب ہے رکنا، اپنے آپ کو تھامنا۔ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اونچے آدرشوں کے مطابق دنیا میں زندگی گزارے، مگر دنیا میں قدم قدم پر ایسی ناپسندیدہ باتیں سامنے آتی ہیں جو آدمی کو بھڑکا دیں، جو آدمی کے نشانے کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسری طرف کر دیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ ہر بھڑکنے والی بات پر بھڑک اٹھے، وہ ہر ناموافق چیز سے الجھ جائے، تو وہ اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔

وہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر رہ جائے گا۔ اس مسئلے کا واحد حل صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی کڑوے تجربے سے سابقہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھنے کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ جھٹکے کو سہتے ہوئے سچائی کے راستے پر آگے بڑھ جائے۔

یہ صبر ایک طرف باہر کی دنیا میں پیش آنے والے مسائل کا عملی حل ہے، دوسری طرف وہ آدمی کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ صبر نہ کرنے والے کی شخصیت منفی رجحانات کے درمیان پرورش پاتی ہے، اور جو آدمی صبر کر لے اس کی شخصیت مثبت رجحانات کے درمیان پرورش پانے لگتی ہے۔ صبر پسپائی نہیں ہے۔ صبر کا مطلب جوش والے راستے کو چھوڑ کر ہوش والے راستے کی طرف اقدام کرنا ہے۔

صبر یہ ہے کہ آدمی نازک مواقع پر اپنے جذبات کو تھامے۔ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے زیادہ مفید سمت میں اپنے عمل کا میدان تلاش کر لے۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہر شخص کو لازماً ناخوشگوار باتوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ناقابلِ مشاہدہ مناظر اس کے سامنے آتے ہیں، اس کو ناقابلِ سماعت آوازیں سننی پڑتی ہیں۔

ایسی حالت میں الجھاؤ کا طریقہ اختیار کرنے کا نام بے صبری ہے، اور اعراض کا طریقہ اختیار کرنے کا نام صبر۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو ناخوشگوار مواقع پر صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.