عذر نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں: صحت اور فرصت۔ نعمتان مغبونٌ فيهما كثيرٌ من الناس؛ الصحة والفراغ. فتح الباری بشرح صحیح البخاری جلد 11 صفحہ 233۔
دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے، یا کوئی کام کرنے کے لیے، دو چیزیں ضروری ہیں۔ یہ دو چیزیں صحت اور فرصت ہیں۔ یہ دونوں چیزیں بلاشبہ اللہ کی عظیم نعمت ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشی کاموں میں مشغول رہتا ہے اور اعلیٰ انسانی مقاصد کے لیے سرگرم نہیں ہو پاتا، حالانکہ اعلیٰ انسانی مقاصد کے لیے جینے ہی کا نام انسانیت ہے۔
جو آدمی صرف معاش اور اقتصادیات کے لیے جیے، وہ گویا حیوان جیسی زندگی گزار رہا ہے۔ جب انسانی مقاصد کے لیے کام کرنے کا موقع آتا ہے تو بیشتر لوگ یہ سوچ کر اس کے لیے سرگرم نہیں ہو پاتے کہ جب صحت اور فرصت ملے گی تو اس کے لیے بھی کام کر لیں گے۔ حالانکہ زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ صحت اور فرصت دونوں معیاری صورت میں مل جائیں۔ بیشتر حالات میں یہی ہوتا ہے کہ اگر صحت ہے تو فرصت نہیں، اور اگر فرصت ہے تو صحت نہیں۔
اعلیٰ مقاصد کے لیے صحت اور فرصت کی شرط لگانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کبھی کوئی اعلیٰ کام نہ کر سکے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے۔ زندگی عذر سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔ آدمی کے سامنے کبھی صحت کی خرابی کا عذر ہوتا ہے، اور کبھی فرصت نہ ہونے کا عذر۔ دانشمندی یہ ہے کہ کسی بھی حال میں عذر کو عذر نہ بنایا جائے۔
عذر کو ناقابلِ لحاظ سمجھ کر اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ زندگی میں کمیاں اس لیے نہیں ہوتیں کہ وہ آدمی کو کمزور کریں، بلکہ وہ آدمی کے لیے طاقت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کمی کا احساس آدمی کی ذہنی سرگرمیوں کو بڑھاتا ہے۔ کمی کا احساس معمولی آدمی کو غیر معمولی آدمی بنا دیتا ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ عذر کے باوجود کام کرنا سیکھے۔ عذر کے باوجود وہ اپنے عمل کو جاری رکھے۔ یہی لوگ ہیں جو موجودہ دنیا میں کامیابی اور ترقی کے اعلیٰ مقامات حاصل کرتے ہیں۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 246۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.