Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

مساواتِ انسانی

Urdu · 7 min

تمام فلسفیوں اور مفکروں کا پسندیدہ ترین خواب انسانی برابری اور مساوات ہے، مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے پہلے انسان ہیں جن کے لائے ہوئے اسلامی انقلاب نے ساری تاریخ میں پہلی بار انسانی مساوات کو عملی طور پر قائم کیا۔ اس کا اعتراف عام طور پر سنجیدہ اہل علم نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر سوامی ویویکانند نے اپنے مطبوعہ خط 175 نمبر میں کہا تھا کہ "میرا تجربہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب عملی مساوات تک قابلِ لحاظ درجے میں پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ " My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone.

اس تاریخی استثنا کا سبب بھی وہی شرک تھا جو دوسری ترقیوں میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ شرک کے غلبے نے انسانوں کے اندر نابرابری قائم کر رکھی تھی، توحید کے غلبے نے لوگوں کے اندر انسانی برابری کا نظام قائم کر دیا۔ اصل یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فطری اور طبیعی طور پر بہت سے فرق پائے جاتے ہیں، مثلاً کوئی کالا ہے اور کوئی گورا، کوئی امیر ہے اور کوئی غریب، کوئی حاکم ہے اور کوئی محکوم۔ یہ فرق خُرآن، سورہ نمبر 49 آیت 13 کے الفاظ میں "تعارف" کے لیے ہے، نہ کہ "امتیاز" کے لیے۔

یہ فرق درجہ بندی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ دنیا کا انتظام خوش اسلوبی کے ساتھ قائم ہو۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی اونچے درجے کا ہے اور کوئی نیچے درجے کا؛ وہ صرف اس لیے ہے کہ اگر اس قسم کا فرق نہ ہو تو دنیا کا متنوع کاروبار خوش اسلوبی کے ساتھ چل نہیں سکتا۔ قدیم زمانے میں شرک کے زیرِ اثر جو توہم پرستی پیدا ہوئی، اس نے جس طرح طبیعی مظاہر کے بارے میں غیر واقعی نظریات قائم کر لیے، اسی طرح انسانوں کے بارے میں بھی ساری دنیا میں غیر واقعی نظریات قائم ہوئے اور صدیوں کے درمیان پختہ ہو کر وہ قوموں کی روایات میں شامل ہو گئے۔ مثلاً اسی کے اثر سے کہیں ذات پات کا عقیدہ بنا، کہا گیا کہ کچھ لوگ خدا کے سر سے پیدا ہوئے ہیں اور کچھ لوگ خدا کے پاؤں سے۔

اس طرح اونچی ذات اور نیچی ذات کی تقسیم رائج ہوئی۔ اسی طرح بادشاہوں کے بارے میں یہ عقیدہ بنا کر کہ وہ دیوتاؤں کی نسل سے ہیں، اسی طرح بادشاہوں کے بارے میں یہ عقیدہ بنا کہ وہ دیوتاؤں کی نسل سے ہیں، اور عوام اس لیے ہیں کہ ان کی خدمت کریں۔ کہیں یہ نظریہ وضع ہوا کہ کچھ لوگ پیدائشی طور پر برتر نسل ہیں اور دوسرے لوگ پیدائشی طور پر کم نسل۔ یہ تفریق اور عدم مساوات دوبارہ شرک کے زیرِ سرپرستی رائج ہوئی، اور صدیوں کے عمل سے تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا۔

حتیٰ کہ یہ ذہن بن گیا کہ جس طرح رات کا تاریک ہونا اور دن کا روشن ہونا مقدرات میں سے ہیں، اسی طرح انسانیت کی تفریقات بھی مقدرات میں سے ہیں۔ وہ ابدی طور پر اٹل ہیں، ان کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس دور کو لانے کے لیے شرک اور توہم پرستی کے غلبے کو ختم کرنا تھا، مگر ہزاروں پیغمبروں کے آنے کے باوجود وہ ختم نہ ہو سکا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الرسل ہونے کا تقاضا تھا کہ اس کو بھی عملاً ختم کر دیا جائے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی خصوصی نصرت فرمائی، اور آپ نے اپنے اصحاب کو ساتھ لے کر وہ فکری اور عالمی انقلاب برپا کیا جس کے بعد اس نظریے کی جڑ اکھڑ گئی۔ عدم مساوات کا نظریہ ہمیشہ کے لیے بے زمین ہو کر رہ گیا۔ عرب میں شرک کے نظام کو ختم کرنے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو تقریر فرمائی، اس کے کچھ الفاظ یہ تھے: يا أيها الناس، ألا لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربي ولا أحمر على أسود ولا أسود على أحمر إلا بالتقوى. مسند احمد، حدیث نمبر 2044۔

وفي رواية: أبوكم آدم وآدم خلق من تراب. کشف الستار للہیثم حدیث نمبر 2044۔ یعنی کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں۔ کسی کالے کو کسی سرخ پر فضیلت نہیں، اور کسی سرخ کو کسی کالے پر فضیلت نہیں، سوائے تقوے کے۔

ایک روایت میں ہے: تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان محض ایک وقتی وعظ نہ تھا، وہ قیامت تک باقی رہنے والے دین کی طرف سے گویا ایک ابدی اعلان تھا۔ وہ صرف "کیا ہونا چاہیے" کی لفظی تلقین نہ تھی، بلکہ "کیا ہو چکا ہے" کی واقعاتی اطلاع تھی۔ چنانچہ ایک طرف یہ اعلان ہوا، اور دوسری طرف اس پر باقاعدہ عمل شروع ہو گیا۔

انسانیت کے درمیان تفریق کی تمام مصنوعی دیواریں ڈہ پڑیں، اور انسانیت ایک نئی دنیا میں پہنچ گئی جہاں کوئی اونچ نیچ نہ تھی، جہاں اخلاقی صفات کی بنیاد پر آدمی کو سماج میں درجہ ملتا تھا، نہ کہ محض نسلی تعلق یا پیدائشی اتفاق کی بنا پر۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.