Maulana Wahiduddin Khan
31 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

علمِ تاریخ

Urdu · 31 min

موجودہ زمانے میں تاریخی مطالعے کا طریقہ یہ ہے کہ قوم یعنی نیشن کو اکائی یعنی یونٹ قرار دے کر تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی نے اس میں تبدیلی کر کے یہ کیا، آرنلڈ ٹائن بی نے اس میں تبدیل کر کے یہ کیا ہے کہ تہذیب یعنی سولائزیشن کو تاریخی مطالعے کے لیے اکائی قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 10، صفحہ 76۔ تاہم دونوں نظریات کا مشترک خلاصہ ایک ہے: دونوں کا مدعا یہ ہے کہ تاریخ کو کسی فردِ واحد کے تابع نہ کیا جائے، بلکہ پورے انسانی گروہ کی تمام سرگرمیوں کو تاریخ کے مطالعے کا موضوع بنایا جائے۔

علمِ تاریخ میں یہ ایک زبردست تبدیلی ہے جو صرف پچھلے چند سو سال کے اندر وجود میں آئی ہے۔ موجودہ زمانے کی تاریخ کو اگر انسانِ عامہ کہیں، موجودہ زمانے کی تاریخ کو اگر انسان نامہ کہا جائے، تو قدیم زمانے کی تاریخ صرف شاہ نامہ ہوتی تھی۔ قدیم زمانے میں بادشاہوں کی تاریخ کا نام تاریخ ہوتا تھا۔ یہ صرف موجودہ زمانے کی بات ہے کہ تاریخ کو کسی عہد کے علمی، اقتصادی، سماجی، سیاسی اور تمدنی احوال کے مطالعے کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔

گویا قدیم تاریخ انسانیتِ عامہ کی تصغیر تھی، اس میں عام انسان قابلِ تذکرہ نہیں تھا، تذکرے کے قابل صرف ایک شخص تھا، اور وہ وہی تھا جس کے سر پر بادشاہت کا تاج چمک رہا ہو۔ تاریخ کو شاہ نامہ بنانے کا یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ غیر بادشاہوں کے واقعات سرے سے قابلِ ذکر ہی نہیں سمجھے جاتے تھے، خواہ بذاتِ خود وہ کتنے ہی زیادہ بڑے کیوں نہ ہوں۔ اس معاملے کی ایک عجیب مثال وہ ہے جو پیغمبروں سے متعلق ہے۔ انسانی تاریخ کا شاید سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہ ہے کہ تاریخ میں وہی بات لکھنے سے رہ گئی جو سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی تھی۔

یہ ان مقدس ہستیوں کے حالات ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ انسانیت کی مدون تاریخ میں بادشاہوں کے مفصل تذکرے، ان کے محلوں سے لے کر ان کے فوجی سرداروں تک کا حال درج ہے۔ مگر خدا کے پیغمبروں نے اپنے زمانے میں جو کام کیا، اس کا مدون انسانی تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اگر ہندوستان کی آزادی کی ایسی تاریخ لکھی جائے جس میں مہاتما گاندھی کا نام نہ ہو، اگر اشتراکی روس کی ایسی تاریخ لکھی جائے جو لینن کے ذکر سے خالی ہو، تو ایسی تاریخ لوگوں کو بہت عجیب معلوم ہوگی۔

مگر اسی قسم کا عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ انسانیت کی مدون تاریخ ان روحانی ہستیوں کے تذکرے سے مکمل طور پر خالی ہے جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ اس میں صرف آخری رسول کا استثنا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خود اس تاریخ کو بدل دیا جس کے نتیجے میں ماضی میں بار بار یہ المیہ پیش آ رہا تھا۔ ماضی میں یہ عظیم تاریخی فروگذاشت اس لیے ہوئی کہ قدیم مؤرخین کے نزدیک صرف بادشاہ اور اس سے تعلق رکھنے والے معاملات قابلِ تذکرہ تھے، اس کے سوا دوسری چیزیں ان کے نزدیک سرے سے اس قابل ہی نہ تھیں کہ ان کا تذکرہ کیا جائے۔ غیر بادشاہوں کا حال یہ تھا کہ ان کے حقیقی واقعات بھی قابلِ تذکرہ نہیں سمجھے جاتے تھے، مگر بادشاہ سے تعلق رکھنے والے فرضی افسانے بھی اس طرح اہتمام کے ساتھ لکھے جاتے تھے گویا کہ وہ بہت بڑی حقیقت ہوں۔

مثال کے طور پر مصر کا ساحلی شہر اسکندریہ، سکندرِ اعظم نے 332 قبل مسیح میں آباد کیا، اسی کے نام پر اس کا نام اسکندریہ یعنی الیگزینڈریا ہے۔ سکندر کے اس شاہی کارنامے کے بارے میں اس وقت کے مؤرخین نے جو عجیب و غریب کہانیاں لکھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ سکندر نے جب سمندر کے ساحل پر اس شہر کو بنانا شروع کیا تو بحری شیاطین نے رکاوٹیں ڈالیں۔ اس کے بعد سکندر نے لکڑی اور شیشے کا ایک صندوق تیار کرایا، اس کے ذریعے غوطہ لگا کر وہ سمندر کی تہہ میں گیا۔ وہاں اس نے سمندری شیاطین کو دیکھ کر ان کی تصویریں بنائیں، پھر ان تصویروں کے مطابق ان کے معدنی مجسمے تیار کیے، اور ان مجسموں کو اسکندریہ کی بنیاد میں گاڑ دیا۔

اس کے بعد جب سمندری شیاطین وہاں آئے اور دیکھا کہ ان کی جنس کے لوگوں کو مار کر بنیاد میں دفن کر دیا گیا ہے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے۔ اسلام سے پہلے پورے قدیم دور میں یہی تمام دنیا کا حال تھا۔ معلوم انسانی تاریخ میں عرب مؤرخ ابن خلدون 1332 تا 1406 عیسوی پہلا شخص ہے جس نے تاریخ نویسی کے فن کو بدلا اور تاریخ کو شاہ نامے کے دور سے نکال کر انسان نامے کے دور میں داخل کیا۔ اس نے تاریخ کو علم الملوک کے بجائے علم الاجتماع بنایا۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ علم جس کو موجودہ زمانے میں علم اجتماع یعنی سوشیالوجی کہا جاتا ہے، وہ ابن خلدون ہی کی دین ہے۔ ابن خلدون نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ایک نئے علم یعنی علم العمران کا بانی ہے، اور یہ بات بلا اختلاف درست ہے۔ یہ دراصل ابن خلدون ہے جس نے یورپ کو جدید فن تاریخ دیا، اور خود ابن خلدون کو جس سے یہ چیز ملی وہ اسلام تھا۔ اسلامی انقلاب نے ابن خلدون کو پیدا کیا، اور ابن خلدون نے جدید فن تاریخ کو۔

ابن خلدون نے نظریہ تاریخ میں جو تبدیلی کی، اس کا اعتراف بیسویں صدی کے مشہور انگریز مؤرخ آرنلڈ ٹائن بی نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ ابن خلدون نے ایک فلسفہ تاریخ پیدا کیا۔ یہ بلاشبہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا علمی کام ہے جو کبھی بھی کسی ذہن نے کسی زمانے میں یا کسی مقام پر تخلیق کیا ہو۔ A philosophy of history which is undoubtedly the greatest work of its kind that has ever been created by any mind in any time or place. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا والیوم نائن پیج 148۔

اسی طرح رابرٹ فلنٹ نے ان غیر معمولی الفاظ میں اس کی عظمت کا اعتراف کیا ہے کہ تاریخ کے نظریہ ساز کی حیثیت سے وہ کسی بھی دور یا کسی بھی ملک میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، یہاں تک کہ اس کے تین سو سال بعد وائیکو پیدا ہوا۔ افلاطون، ارسطو، آکسٹین اس کے ہم رتبہ نہ تھے۔ As a theorist on history he had no equal in any age or country until Wiko appeared more than 300 years later. پلیٹو، ارسٹوٹل and Augustine were not his peers.

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا والیوم نائن پیج 148۔ پروفیسر ہٹی نے لکھا ہے کہ ابن خلدون کی شہرت اس کے مقدمے کی وجہ سے ہے۔ اپنی اس کتاب میں اس نے پہلی بار تاریخی حالات کا ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس میں آب و ہوا اور جغرافیہ کے طبیعی حقائق کو علم تاریخ میں قرار واقعی جگہ دی گئی، اور اسی کے ساتھ روحانی اور اخلاقی طاقتوں کو بھی جو تاریخ پر اثر انداز ہوتی ہیں، قومی عروج و زوال کے قوانین کو وضع کرنے والے کی حیثیت سے ابن خلدون کو اس کا دریافت کنندہ کہا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس نے مقدمے میں خود بھی اپنے آپ کو یہی حیثیت دی ہے۔ اس نے تاریخ کے واقعی امکانات اور اس کی واقعی نوعیت کو دریافت کیا۔

کم از کم علم اجتماع کا وہ حقیقی بانی ہے۔ کوئی عرب مصنف، حتیٰ کہ کوئی یورپی مصنف، ایسا نہیں جس نے کبھی بھی تاریخ کو اس قدر جامع اور فلسفیانہ انداز سے دیکھا ہو۔ ناقدین کی متفقہ رائے کے مطابق ابن خلدون سب سے بڑا تاریخی فلسفی تھا جو اسلام نے پیدا کیا، بلکہ وہ تمام زمانوں میں پیدا ہونے والے لوگوں میں سب سے بڑے مؤرخ فلسفی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پی کے ہٹی، ہسٹری آف دا عربس، لندن 1970 پیج 568۔

ابن خلدون نے اپنے مقدمے کے پہلے حصے میں عام اجتماعیات کو بیان کیا ہے، دوسرے اور تیسرے حصے میں سیاسی اجتماعیات کا بیان ہے، چوتھے حصے میں شہری زندگی کی اجتماعیات کا تذکرہ ہے، پانچویں حصے میں اقتصادی اجتماعیات کو بیان کیا گیا ہے، چھٹے حصے میں علم الاجتماع کا بیان ہے۔ اس کا ہر باب علمی اعتبار سے نہایت اعلیٰ ہے۔ اس طرح وہ ایک ایسے علم تاریخ کی بنیاد رکھتا ہے جو صرف بادشاہوں کے احوال پر مبنی نہ ہو، بلکہ وسیع تر معنوں میں پوری قوم کی اقتصادیات، سیاسیات، تعلیم، مذہب، اخلاق اور تمدن پر مبنی ہو۔ علم تاریخ کے محققین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ عبدالرحمن ابن خلدون کے ظہور تک فن تاریخ غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑا ہوا تھا۔

ابن خلدون پہلا شخص ہے جس نے جدید فن تاریخ کا آغاز کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ خود ابن خلدون کے لیے یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ ایک ایسی چیز کو پائے جس کو اس سے پہلے کا کوئی شخص نہ پا سکا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دوسرے مؤرخین اسلامی انقلاب سے پہلے پیدا ہوئے، اور ابن خلدون اسلامی انقلاب کے بعد پیدا ہوا۔ ابن خلدون دراصل اسلامی انقلاب کی پیداوار تھا، اور یہی وہ چیز ہے جس نے ابن خلدون کو ابن خلدون بنایا۔

فن تاریخ کی ترقی میں دوبارہ وہی چیز حائل تھی جس کو مذہبی اصطلاح میں شرک کہا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے کا پورا زمانہ خدائی بادشاہتوں کا زمانہ ہے۔ کچھ بادشاہ سیدھے سیدھے خدا ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور لوگوں سے اپنی پرستش کراتے تھے۔ کچھ بادشاہ اپنے آپ کو خدا کی تجسیم یا اس کا نائب قرار دے کر عوام کے اوپر یہ عقیدہ بٹھائے ہوئے تھے کہ ان کو اپنی رعایت پر مطلق حکمرانی کا اختیار حاصل ہے۔

کچھ بادشاہ لفظی طور پر تو خدائی کا دعویٰ نہیں کرتے تھے، مگر عملاً ان کی مملکت میں وہی فضا تھی جو دوسرے ملکوں میں پائی جاتی تھی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد پانچ صفحہ 816۔ اسلام نے اس صورتحال کو بدلا۔ اسلام نے توحید کی بنیاد پر وہ انقلاب برپا کیا جس کے بعد بادشاہ اور غیر بادشاہ میں کوئی فرق نہ رہا۔

تمام انسان یکساں طور پر ایک آدم اور حوا کی اولاد قرار پائے۔ مساوات انسانی کے اس عظیم انقلاب کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ کوئی ابن خلدون پیدا ہو جو بادشاہ کو مرکز بنا کر سوچنے کے بجائے انسانیت عامہ کو مرکز بنا کر سوچے، اور پھر نئے علم تاریخ کی بنیاد رکھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم مدینے میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری 632 عیسوی میں ان کا انتقال ہو گیا۔

اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا۔ قدیم زمانے میں جن توہمات کا رواج تھا ان میں سے ایک یہ تھا کہ جب بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو سورج گرہن یا چاند گرہن پڑتا ہے۔ اس طرح گویا آسمان بڑے انسانوں کی موت پر غم مناتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی حیثیت اس وقت بادشاہ عرب کی تھی۔

چنانچہ مدینے کے کچھ مسلمانوں نے قدیم تصور کے تحت کہا کہ یہ سورج گرہن ابراہیم کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فوراً اس کی تردید کی۔ اس سلسلے میں مختلف روایات حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے: عن النعمان بن بشیر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ خرج یوما مستعجلا الی المسجد وقد انکسفت الشمس فصلى حتن جلت ثم قال ان اہل الجاہلیت کانو یقولون ان الشمس والقمر لا ینخسفان الا لموت عظیم من عظماء اہل الارض وان الشمس والقمر لا ینخسفان لموت احد ولا لحیات ولكنهما خلیختان من خلقه یحدث اللہ فی خلقه ما یشاء فایہما ان خسف فصلو حتی ینجلی او یحدث اللہ امرا سنن النسائی حدیث نمبر 1490 یعنی نعمان ابن بشیر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز نکل کر تیزی سے مسجد کی طرف آئے۔

اس وقت سورج گرہن تھا۔ آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ گرہن ختم ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند میں گرہن اس وقت لگتا ہے جبکہ زمین کے بڑوں میں سے کسی بڑے کی موت واقع ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سورج اور چاند میں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔

یہ دونوں اللہ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں۔ اللہ اپنی مخلوقات میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پس جب دونوں میں سے کسی میں گرہن لگے تو تم لوگ نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے یا اللہ کوئی بات ظاہر فرمائے۔ قدیم زمانے کے حکمران عوام کے ان توہماتی خیالات کی سرپرستی کرتے تھے تاکہ لوگوں کے اوپر ان کی عظمت چھائی رہے۔

معلوم تاریخ میں پیغمبر اسلام پہلے حکمران ہیں جنہوں نے ان توہماتی عقائد کی تردید کی اور اس کو بے بنیاد قرار دیا۔ اس طرح آپ نے انسان کو ایک نیا ذہن دیا۔ آپ نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے فرق کو فکری اور علمی طور پر ختم کر دیا۔ آپ نے ان مفروضات و توہمات کو بے بنیاد قرار دے دیا جن کے ذریعے اس قسم کے خیالات لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو گئے تھے۔

جب پورے عرب پر اسلام کا غلبہ ہو گیا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخر عمر میں اپنے تقریباً سوا لاکھ اصحاب کے ساتھ حج ادا فرمایا۔ اس حج میں آپ نے عرفات کے میدان میں وہ تاریخی خطبہ دیا جس کو خطبہ حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ یہ خطبہ گویا عرب کے حکمران کی حیثیت سے دستور انسانی کا عام اعلان تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگوں سن لو تمام لوگ ایک مرد اور عورت سے پیدا کیے گئے ہیں۔

ان میں جو مختلف قسم کا ظاہری فرق ہے وہ صرف پہچان اور تعارف کے لیے ہے۔ تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی عربی کے اوپر فضیلت نہیں۔ کسی کالے کو کسی گورے پر فضیلت نہیں اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں۔

فضیلت کی چیز صرف تقویٰ ہے۔ مسند احمد حدیث نمبر 23490۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سن لو جاہلیت کی ہر بات اور ہر معاملہ میرے قدموں کے نیچے روند دیا گیا۔ علی کل شی من امر الجاہلیت تحت قدمی موضوع السیرت النبویہ ابن کثیر جلد چار صفحہ 340۔

قدیم تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ وقت کے ایک حکمران نے انسانوں کے درمیان ہر قسم کے اونچ نیچ اور ہر قسم کے جھوٹے امتیاز کو عملاً ختم کر دیا۔ اس کے بعد انسانی دنیا میں ایک نئی تہذیب پیدا ہوئی جس میں تمام انسان برابر کی حیثیت رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو لوگ اسلامی دنیا کے حکمران بنے وہ اگرچہ قدیم آباد دنیا کے بہت بڑے حصے کے حکمران تھے مگر مہاتما گاندھی کے الفاظ میں وہ اگرچہ ایک وسیع سلطنت کے مالک تھے مگر لوگوں کے درمیان وہ فقیروں کی طرح رہتے تھے۔ دو دے ابوبکر اینڈ عمر ورم ماسٹرز اف واسٹ ایمپائر ایٹ دے لیوڈ دا لائف اف پیپلز پاپس۔

یہ انقلاب اتنا طاقتور تھا کہ بعد کے دور میں جبکہ حکومت کے ادارے میں بگاڑ اگیا اور خلیفہ کے بجائے سلطان ہونے لگے تب بھی اسلامی تہذیب کے دباؤ کے تحت یہ حال تھا کہ کوئی سلطان قدیم طرز کا بادشاہ بن کر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس سلسلے میں تاریخ اسلام میں بے شمار واقعات موجود ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک واقعہ نقل کرتے ہیں۔ سلطان عبدالرحمن الثانی 176 تا 238 ہجری مسلم اسپین کا ایک طاقتور حکمران تھا۔

اس نے الزہرا کے نام سے اتنا بڑا محل بنایا کہ لفظ محل اس کے لیے کم معلوم ہونے لگا۔ چنانچہ اس محل کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔ سلطان عبدالرحمن ثانی کا واقعہ ہے۔ ایک سال اس نے رمضان کے مہینے میں ایک روزہ قضا کر دیا۔

شرعی عذر کے بغیر اس نے ایک روزہ نہیں رکھا۔ تاہم بادشاہ ہونے کے باوجود اس کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو قانون سے برتر سمجھ لے۔ چنانچہ اس نے قرطبہ کے علماء کو دربار میں جمع کیا اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کر کے عام آدمی کی طرح ان سے فتویٰ پوچھا۔ علامہ مقری نے لکھا ہے کہ علماء کی مجلس میں امام یحیی ابن یحیی بھی موجود تھے۔

امام یحیی نے معاملے کو سن کر فتویٰ دیا کہ بادشاہ اپنی اس غلطی پر بطور کفارہ متواتر 60 دن تک روزے رکھے۔ جب وہ فتویٰ دے کر محل سے باہر نکلے تو ایک عالم نے کہا کہ حضرت شریعت میں 60 مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم بھی تو موجود ہے۔ پھر آپ نے بادشاہ کو اتنا سخت فتویٰ کیوں دیا؟ آپ یہ فتویٰ بھی تو دے سکتے تھے کہ بادشاہ ایک روزے کے بدلے 60 مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔

امام یحیی نے کہا کہ بادشاہوں کے لیے 60 آدمی کو کھانا کھلانا کوئی سزا نہیں۔ نفح الطیب جلد دو صفحہ دست 11۔ چنانچہ تاریخ اندلس بتاتی ہے کہ سلطان عبدالرحمن الثانی ابن الحکم نے امام یحیی کے فتوے کو مانتے ہوئے پے در پے 60 روزے رکھے اور کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ حتی کہ امام یحیی کو ان کے مذہبی عہدے سے معزول بھی نہیں کیا۔

یہ اس انقلاب کا اثر تھا جو اسلام نے پیدا کیا۔ اس انقلاب نے بادشاہ اور رعایہ کا فرق ختم کر دیا تھا۔ اس انقلاب نے انسانی مساوات کا ایک ماحول بنا دیا تھا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھ سکتا تھا۔ کسی بادشاہ کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنے کو عام انسانوں سے ممتاز قرار دے سکے اور اپنے لیے قانون کی پابندی کی ضرورت نہ سمجھے۔

حالانکہ اسلامی انقلاب سے پہلے یہ ایک تسلیم شدہ بات سمجھی جاتی تھی کہ بادشاہ عام انسانوں سے بلند تر حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام کا ہم عصر رومی بادشاہ ہرقل یعنی ہیرکلائس اگرچہ اپنے آپ کو مسیحی کہتا تھا مگر اس نے اپنی بھانجی سے نکاح کر لیا جو مسیحی شریعت کے خلاف تھا۔ ہی ہیڈ میریڈ ہز نیس مارٹینا داس افینڈنگ دا ریلیجس سکروپلز اف مینی اف ہز سبجیکٹس ہو ویوڈ ہز سیکنڈ میرج ایز انسیسچوس انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا والیوم ایٹ پیج 782۔ 782 لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ ایک حرام ازدواجی تعلق ہے مگر اس کے باوجود تمام لوگوں نے خاموشی اختیار کر لی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ہرقل بادشاہ تھا اور بادشاہ کو حق تھا کہ وہ جو چاہے کرے۔ عام انسانی معیار سے اس کو ناپا نہیں جا سکتا۔ پچھلے زمانے میں مختلف قسم کے توہماتی عقائد کے تحت بادشاہ کی عظمت کا غیر معمولی تصور لوگوں کے ذہنوں پر چھا گیا۔ وہ بادشاہ کو اپنے سے بلند تر کوئی مخلوق سمجھنے لگے۔

خود بادشاہ بھی مخصوص رسوم و اداب کے ذریعے اس ذہن کی مکمل تصدیق کرتے تھے۔ ان حالات میں بادشاہ کو اپنی مملکت میں وہی مقام عظمت حاصل ہوگیا جو وسیع تر کائنات میں خدا کے لیے سمجھا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر تاریخ نویسی کا فن اس سے متاثر ہوا اور تاریخ عملاً بادشاہوں کے تذکرے کا نام ہو کر رہ گئی۔ عرب میں اور دوسرے ملکوں میں جب اسلامی انقلاب آیا تو اس نے جس طرح سورج چاند کو خدائی منصب سے ہٹایا اسی طرح بادشاہوں کو بھی غیر معمولی عظمت کے مقام سے ہٹا دیا گیا۔

اب بادشاہ بھی اسی طرح ایک انسان تھا جس طرح عام لوگ ایک انسان تھے۔ اسلامی انقلاب کے اثرات ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے بیشتر آباد دنیا میں پہنچے۔ اس سے عالمی سطح پر ایک نیا ماحول پیدا ہوا۔ لوگوں کے اندر ایک نئی سوچ ابھری۔

قدیم شاہ مرکزی یعنی کنگ سینٹرڈ ذہن ختم ہوگیا اور اس کی جگہ انسان مرکزی یعنی مین سینٹرڈ ذہن پیدا ہوا۔ علم تاریخ کے اعتبار سے اس ذہن کا پہلا نمایاں اظہار عبدالرحمن ابن خلدون 1332 تا 1406 عیسوی تھا۔ انہوں نے العبر کے نام سے عربوں کی تاریخ لکھی تھی جس کا مفصل نام ہے کتاب العبری و دیوان المبتدع والخبری فی ایام العرب والعجم والبربر ومن عاصرہم من ذوی السلطان الاکبر۔ موجودہ دور میں یہ کتاب تاریخ ابن خلدون کے نام سے شائع ہو چکی ہے لیکن ابن خلدون کا اصل کارنامہ اس کا فن تاریخ پر وہ مفصل مقدمہ ہے جو اس نے تاریخ ابن خلدون مقدمے کے طور پر لکھا ہے۔

وہ مقدمہ اصل کتاب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ الگ سے وہ مقدمہ ابن خلدون کے نام سے بار بار مختلف زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ مورخ المخریزی ابن خلدون کا شاگرد تھا۔ ابن خلدون نے پندرہویں صدی عیسوی میں مصر کے اہل علم پر اثر ڈالا۔

اس کے بعد دوسرے مسلم ممالک میں اس کا تاریخی طرز فکر پھیلا۔ 1860 اور 1870 کے درمیان اس کے مقدمے کا مکمل ترجمہ فرانسیسی زبان میں شائع ہوا۔ اس طرح ابن خلدون کے تاریخی افکار یورپ میں پھیلے۔ یہاں اس کے خیالات کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔

آخر کار سترویں صدی میں وائیکو یعنی جامبتی تا ویکو اور دوسرے مغربی مورخین پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس کام کو مزید آگے بڑھایا یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید علم تاریخ کہا جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.