← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
زراعت و آبپاشی
Urdu · 11 min
قدیم زمانے میں فطرت کے جن مظاہر کو خدائی اوصاف کا حامل سمجھ لیا گیا تھا، ان میں سے ایک دریا تھا۔ دریاؤں کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ ان کے اندر پراسرار قسم کی خدائی روح پائی جاتی ہے۔ یہی روح دریاؤں کو چلاتی ہے، اور دریاؤں کو انسان کے لیے نفع بخش یا نقصان رساں بناتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 17، صفحہ 129۔
قدیم یونان میں سکامنڈروس دریا کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ وہ تولید اور زرخیزی کی صلاحیت رکھتی ہے، چنانچہ 14ویں صدی قبل مسیح کا ایک یونانی مقرر کہتا ہے کہ ہماری لڑکیاں شادی سے پہلے اس مقدس دریا میں نہاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ "سکامنڈروس، میرے کنوارپن کو قبول کر"۔ مختلف ملکوں میں ایسی ساحرانہ رسوم ادا کرنے کا رواج رہا ہے، جس میں دریا کا پانی عورت کو حاملہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 12، صفحہ 882۔ دریاؤں کو مقدس ماننے کی وجہ سے یہ ہوا کہ لوگ دریاؤں کو پوجنے لگے، وہ ان کے نام پر نذر اور قربانی پیش کرنے لگے۔
اس طرح دریاؤں کی تقدیس کے نظریے نے دریاؤں کی تسخیر کا ذہن پیدا ہونے نہیں دیا۔ لوگ دریاؤں کو مقدس دیوتا کے روپ میں دیکھتے تھے، نہ کہ ایک عام طبیع واقعے کے روپ میں، جس کو سادہ انسانی تدبیر کے ذریعے استعمال کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں دریاؤں کا زرعی استعمال نہایت محدود رہا۔ آبپاشی یعنی irrigation کی تاریخ حیرت انگیز طور پر انسان کی جدید تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔
اسلام کے ذریعے جب توحید کا انقلاب آیا، اور انسان پر یہ کھلا کہ دریا ایک مخلوق ہے، نہ کہ خالق؛ وہ ایک بندہ ہے، نہ کہ خدا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ انسان بڑے پیمانے پر دریاؤں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی بات سوچ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ میں یہ پڑھتے ہیں کہ اسپین کے مسلمانوں نے جتنے بڑے پیمانے پر آبپاشی کا نظام قائم کیا، اس کی کوئی دوسری مثال ان سے پہلے کسی قوم میں نہیں ملتی۔ اسپین کے مسلمانوں نے زراعت کو اس قدر ترقی دی کہ وہ ایک مکمل فن بن گیا۔
انہوں نے درختوں کا مطالعہ کیا اور زمین کی خاصیت سے واقفیت حاصل کی۔ اسپین کے لاکھوں مربع میل جو ویران پڑے ہوئے تھے، مسلمانوں نے ان کو میوہ دار درختوں اور لہلہاتے ہوئے کھیتوں کی صورت میں بدل دیا۔ چاول، گنا، روئی، زعفران، انار، اڑو، شفتالو وغیرہ جو موجودہ اسپین میں کثرت سے پائے جاتے ہیں، وہ مسلمانوں ہی کے ذریعے اسپین کو ملے۔ انہوں نے اندلوسیہ اور اشبیلیہ کے صوبوں میں زیتون اور خرما کی کاشت کو زبردست ترقی دی۔
غرناطہ اور مالقہ کے علاقوں میں انگوروں کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔ چارلس سینوبوس یعنی فرانسیسی مصنف نے لکھا ہے کہ اسپینی عربوں نے نہروں کے ذریعے آبپاشی کا طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے بڑے بڑے کنویں کھدوائے، جنہوں نے پانی کے نئے منبع کا پتہ چلایا، ان کو انعامات دیے۔ مختلف قطعات زمین میں پانی کی تقسیم کی اصطلاحیں وضع کیں۔
اسپین میں آبپاشی کے لیے بڑی بڑی نہریں بنوائیں، اور پھر ان سے چھوٹی چھوٹی شاخیں نکالیں۔ ان کی بدولت بلنیہ یعنی ویلنسیا کا بنجر میدانی علاقہ سرسبز و شاداب علاقہ بن گیا۔ انہوں نے نہر کا مستقل محکمہ قائم کیا، جس سے نہروں پر آبپاشی کے متعلق ہر قسم کی معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔ اسپینی زراعت کو عربوں نے جو ترقی دی، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے پروفیسر ہٹی نے لکھا ہے کہ یہ زرعی ترقی مسلم اسپین کے شاندار کارناموں میں سے ایک تھی، اور وہ اس ملک کے لیے عربوں کا ایک مستقل تحفہ تھا۔
اسپینی باغات آج بھی ان کے نشان کے طور پر محفوظ ہیں۔ This agricultural development was one of the glories of Muslim Spain and one of the Arabs' lasting gifts to the land, for Spanish gardens have preserved to this day a moorish imprint. History of the Arabs, page 528. برٹرینڈ رسل نے مسلم اسپین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب اقتصادیات کی ایک ممتاز صفت ان کی زراعت تھی، خاص طور پر ان کا نہایت ماہرانہ انداز میں آبپاشی کا نظام قائم کرنا، جس کو انہوں نے اپنی صحرائی زندگی سے سیکھا تھا۔
جہاں پانی کی بہت کمی تھی، اسپینی زراعت آج تک بھی عرب آبپاشی کے نظام سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ One of the best features of the Arab economy was agriculture, particularly the skillful use of irrigation, which they learned from living where water is scarce. To this day, Spanish agriculture profits by Arab irrigation works. A history of Western philosophy, page 416.
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسپین میں جو مسلمان گئے، وہاں انہوں نے ایک نیا زرعی انقلاب برپا کر دیا۔ وہاں انہوں نے کھیتوں اور باغوں کی آبپاشی کا ایسا نظام قائم کیا جس کی نظیر ان سے پہلے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ برٹرینڈ رسل نے عجیب و غریب طور پر ان کے اس کارنامے کو ان کی صحرائی زندگی سے جوڑ دیا ہے۔ یہ توجیح سراسر بے معنی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس کارنامے کا اصل سبب وہ موحدانہ انقلاب تھا جس نے عربوں کے ذہن کو یکسر بدل دیا۔ پچھلے لوگ دریاؤں اور چشموں اور سمندروں کو خدا کے روپ میں دیکھتے تھے۔ وہ ان کو احترام کی چیز سمجھتے تھے، نہ کہ استعمال و تسخیر کی چیز۔ عربوں نے اپنے بدلے ہوئے ذہن کے تحت ان چیزوں کو مخلوق کے روپ میں دیکھا۔
انہوں نے ان کو اس نظر سے دیکھا کہ وہ کس طرح ان کو مسخر کریں اور اپنے کام میں لائیں۔ یہی وہ ذہنی انقلاب ہے جس نے عربوں کو اس قابل بنایا کہ وہ زراعت اور آبپاشی کی دنیا میں تاریخی کارنامہ انجام دے سکیں۔ صحرا کی زندگی جہاں پانی کم پایا جاتا ہو، وہاں آبپاشی کے اصول کس طرح سیکھے جا سکتے ہیں؟ برٹرینڈ رسل کو عربوں کی اس صفت کا صحیح ماخذ معلوم نہ تھا، اس لیے بالکل غیر متعلق طور پر اس نے ان کو ان کی بے آب و گیاہ زندگی سے جوڑ دیا، حالانکہ صحیح طور پر وہ ان کے اس ذہنی انقلاب سے جڑتا ہے جو توحید کے ذریعے ان کے اندر پیدا ہوا تھا۔
یہ موحدانہ زندگی کا نتیجہ تھا، نہ کہ صحرائی زندگی کا نتیجہ۔