Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

ایک واقعہ

Urdu · 6 min

پہلے زمانے میں جب ایک شخص کو سماجی امتیاز کا تجربہ ہوتا تھا، تو وہ اس کو اپنے مقدر کا نتیجہ سمجھ کر چپ رہ جاتا تھا۔ قدیم زمانے میں پہلی بار یہ واقعہ ہوا کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں مصر کے مسلمان گورنر، یعنی عمر بن العاص کا لڑکا، ایک قبطی کو کوڑا مارتا ہے اور مارتے ہوئے کہتا ہے: خذها وأنا ابن الأكرمين یہ لو، میں ایک معزز صاحبزادہ ہوں۔ اس قبطی کو نئے انقلاب کی خبر تھی، چنانچہ وہ مصر سے روانہ ہو کر مدینہ آیا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق سے شکایت کی کہ ان کے گورنر کے لڑکے نے ناحق اس کو کوڑے سے مارا ہے۔ خلیفہ ثانی فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجتے ہیں کہ وہاں جاؤ اور عمر بن العاص اور ان کے لڑکے جس حال میں ہوں، اسی حال میں ان کو سواری پر بیٹھا کر مدینہ لے آؤ۔

دونوں مدینہ لائے جاتے ہیں، خلیفہ ثانی عمر قبطی کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جس نے تم کو کوڑے سے مارا تھا؟ قبطی نے کہا: ہاں۔ آپ نے قبطی کو کوڑا دیا اور کہا کہ معزز صاحبزادہ، یعنی ابن الأكرمين کو مارو۔ قبطی نے مارنا شروع کیا اور اس وقت تک مارتا رہا جب تک اس کو پوری تسکین نہ ہو گئی۔

اس کے بعد خلیفہ ثانی قبطی سے کہتے ہیں کہ ان کے والد عمر بن العاص کو بھی مارو، کیونکہ انہی کی بڑائی کے بل پر بیٹے نے تمہیں مارا تھا۔ فوالله ما ضربك إلا بفضل سلطانه مگر قبطی کہتا ہے کہ نہیں، جس نے مجھے مارا تھا اس کو میں نے مار لیا، اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں۔ جب یہ سب ہو چکا تو خلیفہ ثانی نے گورنر مصر عمر بن العاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مز کم تعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهما حرارا تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟ محزو ثواب ابن المبرد الحنبلی جلد 2 صفحہ 473 فتوح مصر و اخبارہا لابن عبدالحکم صفحہ 183 محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروں کے ذریعے لائے ہوئے اس انقلاب نے سارے عالم میں اونچ نیچ کی دیواریں گرا دیں۔

مساوات انسانی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا جو بالآخر جدید جمہوری انقلاب تک پہنچ گیا۔ قدیم زمانے کی حکومتیں مشرکانہ عقائد پر قائم تھیں، عوام سورج اور چاند کو پوجتے تھے، اور حکمران افراد لوگوں کو یقین دلاتے تھے کہ وہ ان دیوتاؤں کی اولاد ہیں۔ اسی سے سورج بنسی اور چاند بنسی خاندانوں کے عقائد پیدا ہوئے۔ اسی لیے قدیم زمانے کے حکمران مذکورہ قسم کے توہماتی عقائد کو اور پختہ کرتے تھے۔

وہ چاہتے تھے کہ لوگ یہ عقیدہ رکھیں کہ بادشاہوں کی موت سے سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے، تاکہ ان کی اہمیت لوگوں کے دماغوں پر قائم رہے اور وہ کامیابی کے ساتھ ان کے اوپر حکومت کرتے رہیں۔ اس طرح قدیم زمانے کے حکمران گویا شرک اور توہم پرستی کے سرپرست بنے ہوئے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حکمران ہوتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ سورج اور چاند گرہن سادہ طبیعی واقعات ہیں، نہ کہ کسی انسان کی عظمت کا اظہار، تو اس کے بعد توہم پرستی اور مظاہر فطرت کی تعظیم کی جڑ کٹ گئی اور تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا، جبکہ گرد و پیش کی چیزوں کے بارے میں الوہیت اور تقدس کا عقیدہ ختم ہو گیا اور ان کے بارے میں وہ حقیقت پسندانہ ذہن پیدا ہونا شروع ہوا جس کو موجودہ زمانے میں سائنسی ذہن کہا جاتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسان کو صرف یہی چیز نہیں ملی، اسی کے ساتھ مزید یہ ہوا کہ آپ نے جو خدائی کتاب انسان کے حوالے کی، اس میں زور و شور کے ساتھ یہ بات بتائی گئی کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں انسان کے لیے مسخر کر دی گئی ہیں۔

اس سے یہ ذہن پیدا ہوا کہ ان چیزوں کی تسخیر کر کے انہیں اپنے کام میں لانے کی ضرورت ہے، نہ یہ کہ ان کو عظیم اور برتر سمجھ کر ان کے آگے سر جھکایا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.