← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
علم اللسان
Urdu · 9 min
زبان کے بارے میں توہماتی عقائد کی بنا پر علم اللسان ماضی میں سخت نامساعد حالات کا شکار رہا ہے، حتیٰ کہ ہزاروں سال تک اس کی ترقی رکی رہی۔ علم اللسان کے ایک ماہر ڈاکٹر گلنر، یعنی ڈاکٹر ارنست گلنر، نے لکھا ہے کہ فلسفۂ لسانیات میں الٹا طرز فکر پایا جاتا ہے: وہ حقیقی خیالات کو بیماری سمجھتا ہے، اور مردہ خیالات اس کے نزدیک صحت کا نمونہ ہیں۔ Linguistic philosophy has an inverted vision which treats genuine thought as a disease and dead thought as a paradigm of health. قدیم زمانے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ تحریر، یعنی خط، دیوتاؤں کا عطیہ ہے۔
مثلاً ہندوستان میں برہم لیپی کا عقیدہ الفاظ اور ترکیبیں دیوتاؤں کی مقرر کردہ ہیں، اور اس بنا پر وہ اعلیٰ ترین تعظیم، یعنی highest veneration، کی مستحق ہیں۔ جان اسٹیونز کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے "مشرق کی مقدس کتابت: Sacred Calligraphy of the East"، اس میں اس نے اپنی یہ تحقیق پیش کی ہے کہ مقدس خط کا عقیدہ صدیوں تک دنیا میں جاری رہا ہے۔ اس بارے میں تو محققین کے درمیان اختلاف ہے کہ فنِ تحریر اولاً کہاں پیدا ہوا، مصر میں یا چین میں یا ہندوستان میں یا کسی اور مقام پر۔ تاہم اس امر میں علمائے لغت متفق ہیں کہ تمام قدیم قوموں میں یہ عقیدہ مشترک طور پر پایا جاتا رہا ہے کہ تحریر خدائی چیز ہے، یہ اپنی ذات میں مقدس ہے۔
تحریر دیوتاؤں کی زبان ہے۔ One idea, however, is common to all ancient systems: writing is divine, it is inherently holy. Writing is the speech of the gods. تاریخ بتاتی ہے کہ انسانی زبانیں ہزاروں سال تک توہمات، یعنی superstitions، کا شکار رہی ہیں۔
یہ فرض کر لیا گیا کہ بعض زبانیں خدائی اصل، یعنی divine origin، رکھتی ہیں، اور ان کے بولنے والوں کو دوسری زبانوں پر خصوصی درجہ حاصل ہے۔ مثلاً یونانی زبان کے متعلق عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ وہ تمام دوسری زبانوں سے اعلیٰ ہیں، وہ دیوتاؤں کی زبان ہے، دوسری زبانیں اس کے مقابلے میں وحشیوں کی زبانیں ہیں، وغیرہ۔ یہی معاملہ عبرانی کا ہوا۔ یہودی اور مسیحی دنیا میں صدیوں تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ عبرانی زبان خدا کی اپنی زبان ہے، وہ سب سے پہلے دنیا میں بولی گئی۔
ونڈرلی اور نیڈا زبانوں پر مسیحی عقائد کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جن عوام نے لسانی ترقی کو روکا، ان میں سے ایک قدیم مسیحی مؤلفین کا یہ عقیدہ تھا، جو نشت ثانیہ کے دور میں شدت سے چھایا رہا، کہ دنیا کی تمام زبانیں عبرانی سے نکلیں۔ One of the factors which retarded linguistic progress was the belief among early Christian writers and persisting well into the Renaissance era that all languages were derived from Hebrew. William L. Wonderly and Eugene Neda in Linguistic and Christian Mission, Anthropological Anthropological Linguistics, Volume 5, page 104 to 144.
چنانچہ صدیوں تک یورپ کے علمائے لسان لاحاصل طور پر عبرانی کی افضلیت ثابت کرنے کی کوششوں میں مشغول رہے۔ وہ ہر زبان کا رشتہ عبرانی سے ثابت کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم اللسان ترقی نہ کر سکا۔ اٹھارہویں صدی میں جب یہ فکر مغلوب ہو گیا، اس وقت یورپ کی مختلف زبانوں کا علم اللسان ترقی کرنا شروع ہوا۔
خدائی زبان، یعنی divine language، کا تصور مکمل طور پر توہمات کی پیداوار ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کسی زبان کی بابت یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ خدا کی یا دیوتاؤں کی زبان ہے، تو اس کا لازمی مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ مقدس زبان کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ اب وہ لوگوں کی نظر میں قابلِ احترام ہوتی ہے، نہ کہ قابلِ تحقیق۔ اس کے بعد اس زبان کا تنقیدی جائزہ لینا، اس کے بعد اس زبان کا تنقیدی جائزہ لینا، اس کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کسی نئے انداز کی وکالت کرنا، سب بدعت قرار پاتا ہے۔
وہ اس کے تقدس کو توڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسی ہر تحقیق لوگوں کو بے جا جسارت نظر آنے لگتی ہے، نہ کہ اس کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش۔ یہ صورت جو زبانوں کے ساتھ پیش آئی، یہی قدیم زمانے میں دوسرے تمام انسانی شعبوں کا بھی حال رہا ہے۔ بے شمار قسم کے توہماتی عقائد تھے جنہوں نے انسان کی فکری ترقی کو روک رکھا تھا۔
تاریخ میں پہلی بار جس نے اس بند کو توڑا، وہ توحید کا انقلاب تھا، جو پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعے رونما ہوا۔ یہ انقلاب اولاً عرب میں پیدا ہوا، اس کے بعد اس کے اثرات ساری دنیا میں پہنچے۔ انسانی تاریخ توہم پرستی کے دور سے نکل کر حقیقت پسندی کے دور میں داخل ہو گئی۔ قرآن میں جب اعلان کیا گیا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، تو اسی وقت سائنٹیفک طرز فکر کا آغاز ہو گیا۔
لوگ غیر واقعی ذہنی بندشوں سے آزاد ہو کر چیزوں کے بارے میں سوچنے لگے۔ یہ طرز فکر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ موجودہ سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ ایک اللہ کو الہ ماننا اور دوسری تمام چیزوں کو الہ کا درجہ دینے سے انکار کرنا، یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی اور چیز کو تقدس کا مقام حاصل نہیں۔ ایک اللہ کے سوا جتنی چیزیں ہیں، وہ سب یکساں درجے میں مخلوق اور بے اختیار ہیں۔
دوسری چیزوں کو مقدس درجہ دینا، انہیں تحقیق و تسخیر کا موضوع بنانے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اس کے برعکس، ان چیزوں کو غیر مقدس قرار دینا، انہیں تحقیق و تسخیر کا موضوع بنانے کا باعث بن گیا۔ یہی اسلام کا وہ خاص کارنامہ ہے جو اس کو دورِ جدید کا خالق ٹھہرا رہا ہے۔