← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
فنِ طب
Urdu · 8 min
انسان ہر دور میں بیمار ہوتے رہے ہیں، اس بنا پر فنِ طب بھی کسی نہ کسی طور پر ہر زمانے میں پایا جاتا رہا ہے۔ مگر قدیم زمانے میں کبھی فنِ طب کو وہ اعلیٰ ترقی نہ مل سکی جو اسلام کے بعد کے دور ہیں، اور پھر موجودہ زمانے میں اس کو حاصل ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ طب کا آغاز قابلِ لحاظ صورت میں قدیم یونان میں ہوا۔ قدیم یونان میں دو بہت بڑے بڑے طبیب پیدا ہوئے: ایک بخراط، یعنی Hippocrates، اور دوسرے جالی نیوس، اور دوسرے جالی نوس۔
بخراط کا زمانہ پانچویں اور چوتھی صدی قبلِ مسیح ہے، تاہم بخراط کی زندگی کے حالات بہت کم معلوم ہیں۔ بعد کے لوگوں نے تخمینی طور پر یہ اندازہ لگایا ہے کہ بخراط غالباً 460 قبلِ مسیح میں پیدا ہوا، اور غالباً 377 قبلِ مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ حتیٰ کہ بعض محققین کو اس کے تاریخی شخصیت، یعنی historical figure، ہونے پر شبہ ہے۔ فلسفہ اور طب کی جو کتابیں اس کے نام سے مشہور ہیں، ان کے متعلق بھی یہ شبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسی کی لکھی ہوئی ہیں یا دوسروں نے لکھ کر ان کو بخراط کے نام سے موسوم کر دیا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 8، صفحہ 942 تا 943: جالی نوس، یعنی گیلن، دورِ قدیم کا دوسرا اہم ترین فلسفی اور طبیب سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے عقلی طب، یعنی rational medicine، کی بنیاد رکھی۔ جالی نوس غالباً 129 عیسوی میں پیدا ہوا، اور غالباً 199 عیسوی میں اس کی وفات ہوئی۔ روم میں جالی نوس کو کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
جالی نوس کی بیشتر تحریریں ضائع ہو گئیں، بقیہ بھی ضائع ہو گئی ہوتیں۔ یہ صرف عرب تھے جنہوں نے 9ویں صدی عیسوی میں اثرِ نو اس کے یونانی مخطوطات کو جمع کیا اور ان کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے بعد 11ویں صدی میں یہ ترجمے یورپ میں پہنچے، اور ان کو عربی سے لاتینی میں منتقل کیا گیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 نے جالی نوس کے بارے میں اپنا مقالہ ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ "جالی نوس کے آخری سالوں کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں"۔
Little is known of Galen's final year. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، volume 7، page 850: بطور واقعہ یہ بات صحیح ہے کہ قدیم یونان میں کچھ اعلیٰ طبی ذہن پیدا ہوئے، مگر بخراط اور جالی نوس جیسے لوگوں کا انجام بتاتا ہے کہ قدیم یونان میں وہ حالات موجود نہ تھے جن میں ایسے لوگوں کو اہمیت حاصل ہو سکے۔ اصل یہ ہے کہ قدیم یونان میں طب کی نشوونما کے لیے فضاء سازگار نہ تھی۔ طرح طرح کے توہماتی عقیدے اس طرح کی کھلی تحقیقات کی راہ میں حائل تھے، مثلاً بیماریوں کو پراسرار طاقتوں سے وابستہ کرنا، نباتات اور دوا والی اشیاء میں بہت سی چیزوں کو مقدس مان لینا وغیرہ۔
یونان میں طب کا آغاز ظہورِ مسیح کے تقریباً 200 سال پہلے اور تقریباً 200 سال بعد کے زمانے میں ہوا۔ اس طرح یونانی طب کا زمانہ تقریباً 400 یا 500 سال ہے۔ اس کے بعد خود یونان میں یہ فن مزید آگے نہ بڑھ سکا۔ یونان یورپ کا ایک ملک ہے، مگر یونانی طب کا تسلسل بقیہ یورپ میں جاری نہ رہ سکا کہ وہ جدید مغربی طب کے ظہور کا ذریعہ بن سکے۔
یہ واقعہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم یونان کا ماحول طب کی ترقی کے لیے سازگار نہ تھا۔ یونانی طب، جس کو بعض انفرادی شخصیتوں نے پیدا کیا تھا، وہ اپنے ظہور کے بعد تقریباً 1000 سال تک غیر معروف کتابوں میں بند پڑا رہا، یہاں تک کہ عباسی دور میں ان کتابوں کے ترجمے کیے گئے۔ عربوں نے مزید اضافے کے ساتھ فنِ طب کو اثرِ نو مدون کیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ یہ فن یورپ میں پہنچے اور جدید میڈیکل سائنس کے ظہور کا ذریعہ بنے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی انقلاب سے پہلے دنیا میں شرک اور توہم پرستی کا زور تھا۔ اس زمانے کا ماحول اتنا غیر موافق تھا کہ کوئی شخص اگر علمی اور سائنسی تحقیق کرتا تو اس کو لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی نہیں ملتی تھی۔ اس کو نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس بنا پر اس قسم کی کوششیں اگر انفرادی سطح پر ظاہر بھی ہوتیں تو وہ اکثر دب کر رہ جاتی تھیں۔
لوگ مرض اور علاج کا رشتہ دیوتاؤں سے جوڑے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں سائنسی طریق علاج کی بات لوگوں کو اپیل نہیں کرتی تھی۔ اسلام کے ذریعے جب دنیا میں توحید کا انقلاب آیا، اس کے بعد ہی ممکن ہوا کہ طبی ترقی کا وہ دروازہ کھلے جو بالآخر جدید میڈیکل سائنس تک پہنچ جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ان لفظوں میں نقل کیا گیا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً؛ أَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ إِلَّا السَّامَ.
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: الْمَوْتُ. مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 8220: یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بھی مرض اتارا ہے، اسی کے ساتھ اس کی دوا بھی اتاری ہے۔ جس نے اس کو جانا، اس نے جانا، اور جو اس سے بے خبر رہا، وہ اس سے بے خبر رہا۔
البتہ موت کی کوئی دوا نہیں۔ پیغمبر اسلام کا یہ ارشاد گویا قائدِ انقلاب کا ارشاد تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی زبان سے اس طبی حقیقت کا اعلان فرمایا، اور دوسری طرف تاریخ عملی طور پر اس کے سانچے میں ڈھلنا شروع ہو گئی۔