← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
نظام شمسی
Urdu · 11 min
علم کی ترقی کے لیے آزادانہ تحقیق کا ماحول انتہائی طور پر ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں مختلف قسم کے خود ساختہ عقائد کی وجہ سے آزادانہ تحقیق کا ماحول باقی نہیں رہا تھا۔ قدیم زمانے میں بار بار ایسا ہوا کہ ایک ذہین اور صاحبِ علم آدمی غور و فکر کرتے ہوئے کسی حقیقت تک پہنچا، مگر جب اس نے اپنا خیال لوگوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اس کو اپنے توہماتی عقائد کے غیر موافق پا کر اس کے مخالف بلکہ دشمن بن گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا فکر مزید آگے نہ بڑھ سکا۔
یونان کے فلسفی سقراط، یعنی Socrates، کو زبردستی زہر کا پیالہ پلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ان دیوتاؤں کو نظرانداز کرتا ہے جن کو شہر ایتھنز کے لوگ پوجتے ہیں۔ وہ مذہب میں نئے نئے طریقے نکالتا ہے، وہ یونان کے نوجوانوں کے ذہن کو خراب کر رہا ہے۔ سقراط کو ہلاک کرنے کا یہ واقعہ 399 قبل مسیح میں پیش آیا۔
گلیلو نے زمین کی گردش کے نظریے کی تائید کی تو رومی کلیسا اس کا سخت دشمن ہو گیا۔ اس پر مذہبی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ اس کو اندیشہ ہوا کہ اس کو موت سے کم کوئی سزا نہیں دی جائے گی، چنانچہ اس نے فلکیاتی نظریے سے توبہ کر لی۔ اس نے رومی کلیسا کی عدالت کے سامنے ان الفاظ میں اپنے رجوع کا اعلان کیا: "میں گلیلو، عمر 70 سال، آپ لوگوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر انجیل مقدس کو گواہ بنا کر اس پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں، اور زمین کی حرکت کے بعید از حقیقت دعوے سے دستبردار ہوتا ہوں۔
اس سے انکار کرتا ہوں اور اس نظریے کو قابلِ نفرت خیال کرتا ہوں۔ " یہ کوئی ایک واقعہ نہ تھا؛ اس زمانے میں مسیحی علماء کا یہی عام طریقہ تھا۔ نئی حقیقتوں کی کھوج اور فطرت کے رازوں کی تلاش، جس کا نام سائنس ہے، ان کو انہوں نے صدیوں تک ممنوع بنائے رکھا۔ ایسی چیزوں کو کالا علم، جادو، اور شیطانی تعلیم بتایا جاتا تھا۔
ان حالات میں ناممکن تھا کہ تحقیق و تلاش کا عمل مفید طور پر جاری رہ سکے۔ قرونِ وسطیٰ میں یہ کام پہلی بار مسلمانوں کے ذریعے شروع ہوا، کیونکہ قرآن کی تعلیمات نے ان کے ذہن سے وہ تمام رکاوٹیں ختم کر دیں جو گلیلو جیسے لوگوں کی راہ میں حائل تھیں۔ اس کی ایک مثال نظام شمسی کی گردش کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں صحیح نقطۂ نظر کی حوصلہ افزائی پہلی بار اسلامی انقلاب کے بعد ہوئی، اور پھر مزید ترقی کرتے ہوئے وہ جدید دریافت تک پہنچی۔
قدیم یونان میں ایک عالمِ فلکیات گزرا ہے جس کو ارسٹاکس، یعنی Aristocus of Themus، کہا جاتا ہے۔ اس کا انتقال 270 قبل مسیح میں ہوا۔ اس نے شمسی نظام کا مطالعہ کیا اور غالباً پہلی بار آفتاب مرکزی، یعنی ہیلیو سینٹرک، نظریہ پیش کیا؛ یعنی یہ کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ تاہم اس کے نظریے کو لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔
اس کے بعد بطلیموس، یعنی Ptolemy، پیدا ہوا۔ اس کا زمانہ دوسری صدی عیسوی ہے۔ بطلیموس نے اس کے برعکس زمین مرکزی، یعنی جیو سینٹرک، نظریہ پیش کیا؛ یعنی یہ کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ زمین مرکزی نظریہ مسیحی حضرات کو اپنے اس عقیدے کے عین مطابق محسوس ہوا جو انہوں نے حضرت مسیح کے بعد بنایا تھا، اور جس کی تصدیق آخری طور پر 325 عیسوی میں نیقیہ، یعنی نسیہ، کی کونسل میں ہوئی۔
قسطنطین اعظم، یعنی 280-337 کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد، عیسائیت سارے رومی علاقے میں پھیل گئی اور اس کو زبردست اقتدار حاصل ہو گیا۔ اب مسیحی حضرات نے بطلیموس کے نظریے کی خصوصی سرپرستی کی اور ارسٹاکس کے نظریے کو مکمل طور پر تاریکی میں ڈال دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے الفاظ میں ہے: "اس کے بعد اس نقشِ کائنات میں مزید غور و فکر کا موقع باقی نہ رہا۔ " سترہویں صدی عیسوی کے آخر تک تقریباً ہر جگہ یہی نظریہ پڑھایا جاتا رہا۔
There was no further scope for cosmology in the model which continued to be taught and used almost everywhere until the 17th century. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 18، پیج 1013۔ مگر مسلمان، جو غیر مقدس کو مقدس سمجھنے کی غلطی میں مبتلا نہیں تھے، انہوں نے اس معاملے پر کھلے ذہن کے ساتھ خالص علمی انداز میں غور کیا۔ انہوں نے پایا کہ آفتاب مرکزی نظریہ زیادہ قرینِ عقل ہے، چنانچہ انہوں نے اس کو اختیار کر لیا۔
ایڈورڈ میکناول برنز نے اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ نظریہ کہ سورج ہمارے شمسی نظام کے مرکز میں ہے، اب ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔ یہ نظریہ ابتداً ارسٹاکس، یعنی 230-310 قبل مسیح، نے پیش کیا تھا، مگر تقریباً 400 سال بعد ارسٹاکس کا نظریہ دب گیا اور بطلیموس کا زمین مرکزی نظریہ غالب آ گیا۔ اس کے بعد 1200 سال سے بھی زیادہ مدت تک بطلیموس کا نظریہ ساری دنیا میں لوگوں کے ذہنوں پر چھایا رہا۔ 1496 عیسوی کو پرنیکس نے بتایا کہ زمین ہماری دنیا کا مرکز نہیں ہے۔
تحقیق اور فلکیاتی مطالعے کے بعد کوپرنیکس اس نتیجے پر پہنچا کہ سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں، مگر چرچ کی مخالفت کے اندیشے کی بنا پر وہ اپنی تحقیقات کے نتائج کو شائع کرنے سے 1543 عیسوی تک رکا رہا۔ اسپینی مسلمانوں نے کسی اور مضمون کو اتنی ترقی نہیں دی جتنی سائنس کو۔ درحقیقت اس میدان میں ان کی کامیابی نہایت اعلیٰ تھی، جو اب تک دیکھی نہیں گئی تھی۔ اسپینی مسلمان فلکیات، ریاضیات، طبیعیات، کیمسٹری، اور طب میں ممتاز ترین علمی درجہ رکھتے تھے۔
ارسطو کے احترام کے باوجود وہ اس سے نہیں ہچکچائے کہ وہ اس نظریے پر تنقید کریں کہ زمین کائنات کا مرکز ہے۔ انہوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ Despite their reverence for Aristotle, they did not hesitate to criticize his notion of a universe of concentric spheres with the Earth at the center, and they admitted the possibility that the Earth rotates on its axis and revolves around the Sun. Edward McNall Burns, Western Civilization W.
W. Norton and Company, Inc., New York, 1995, page 36. نظام شمسی کے بارے میں مسلمانوں کا صحیح نظریے تک پہنچنا صرف اس لیے ممکن ہو سکا کہ اسلام نے پابندیِ فکر کے اس ماحول کو توڑ دیا جو انسان کے لیے ذہنی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ مصنوعی بندشوں کے ختم ہوتے ہی انسانی فکر کا قافلہ تیزی سے ترقی کی طرف سفر کرنے لگا، اور بالآخر اس مرحلے تک پہنچا جہاں وہ بیسویں صدی میں ہم کو نظر آ رہا ہے۔