اسلام نے اس سلسلے میں دو اہم ترین کام انجام دیا ہے، ان میں سے ایک ہے ذہنی رکاوٹ یعنی مینٹل بلاک کو دور کرنا، جو ترقی کی طرف سفر کرنے میں مانع بنی ہوئی تھی۔ دوسرے، نئے ترقیاتی دور کا عملی آغاز کرنا۔ ذہنی رکاوٹ کو دور کرنے سے مراد اشیاء کو تقدس کے مقام سے ہٹانا تھا، یہ بلاشبہ سب سے زیادہ مشکل کام تھا۔ یہ کام دورِ نبوت میں اور خلفائے راشدین کے زمانے میں پوری طرح انجام پا گیا۔
عملی آغاز کا کام اگرچہ پہلے دور میں شروع ہو چکا تھا، تاہم اس کا باقاعدہ آغاز عباسی دورِ حکومت میں بیت الحکمت کے قیام، 832 عیسوی کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد اسپین اور سسلی میں عربوں کی حکومت کے زمانے میں مزید طاقت کے ساتھ جاری رہا، اور آخر کار یورپ میں پہنچ کر جدید صنعتی انقلاب کا باعث بنا۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ موجودہ ترقیوں کا تعلق صنعتی انقلاب سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ تمام ترقیاں صنعتی انقلاب کے بطن سے ظاہر ہوئی ہیں، اور خود صنعتی انقلاب زمین کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کے استعمال کا دوسرا نام ہے۔
انسان نے کوئلے کو انرجی میں تبدیل کیا، اس نے بہتے ہوئے پانی سے جنریٹر چلا کر بجلی تیار کی، اس نے معدنی اشیاء کو نکال کر انہیں مشینوں کی صورت میں ڈھالا، اس طرح صنعتی انقلاب وجود میں آیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں تو لاکھوں سال سے زمین کے اوپر موجود تھیں، پھر اسلام سے پہلے کا انسان ان پر وہ عمل کیوں نہ کر سکا جس کے نتیجے میں وہ ان سے ترقی یافتہ تمدن کو تشکیل دیتا؟ اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ شرک اس عمل کی راہ میں مانع تھا۔ شرک کیا ہے؟
شرک نام ہے مظاہرِ فطرت کی پرستش کا۔ بالفاظِ دیگر، فطرت کی چیزوں کو مقدس ماننے کا ذہن۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام معلوم زمانوں میں انسان مظاہرِ فطرت کو معبود سمجھ کر ان کا پرستار بنا ہوا تھا۔ یونانی تہذیب، مصری تہذیب، رومی تہذیب، ایرانی تہذیب، غرض دورِ قدیم کی تمام تہذیبیں مشرکانہ تہذیبیں تھیں۔
دنیا کا ہر نمایاں واقعہ، خواہ وہ زمین اور دریا اور پہاڑ ہو یا سورج اور چاند اور ستارے، سب کے سب انسان کے لیے پرستش کا موضوع یعنی آبجیکٹ آف ورشپ بنے ہوئے تھے۔ اسلام نے ان چیزوں کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر تحقیق کا موضوع یعنی آبجیکٹ آف انویسٹیگیشن بنایا۔ اس کے بعد ہی اس چیز کا آغاز ہوا، اس کے بعد ہی اس چیز کا آغاز ہوا جس کو سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.