← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
علومِ طبّی
Urdu · 11 min
آرنلڈ ٹوئنبی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سائنس فطرت کو استعمال کرنے کا علم ہے۔ یہ فطرت کروڑوں سال سے ہماری دنیا میں موجود تھی، پھر فطرت کو کنٹرول کرنے اور اس کو انسان کے استعمال میں لانے میں اتنی دیر کیوں لگی؟ پھر اس نے خود ہی اس کا جواب دیا ہے کہ قدیم زمانے میں فطرت انسان کے لیے پرستش کا موضوع بنی ہوئی تھی، اور جس چیز کو انسان پرستش کی چیز سمجھ لے، عین اسی وقت وہ اس کو استعمال اور تسخیر کی چیز نہیں سمجھ سکتا۔ آرنلڈ ٹوئنبی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ قدیم انسان کے لیے فطرت صرف فطری ذرائع کے ایک ذخیرے کے ہم معنی نہ تھی، بلکہ وہ دیوتا تھی۔
وہ اس کے لیے مادرِ گیتی تھی، اور زمین پر پھیلی ہوئی نباتات، اس کی سطح پر گھومنے والے حیوانات، اس کے اندر چھپی ہوئی معدنیات، سب کی سب خدائی اوصاف کی مالک تھیں۔ یہی حال تمام فطری مظاہر کا تھا: چشمے اور ندیاں اور سمندر، پہاڑ، زلزلے اور بجلی کی گرج اور چمک، سب دیوی دیوتا تھے۔ یہی قدیم زمانے میں تمام انسانیت کا مذہب تھا۔ For the ancient man, nature was not just a treasure trove of natural resources, but a goddess.
Mother Earth and the vegetation that sprang from the earth, the animals that roamed the earth's surface, and the minerals hiding in the earth's balls, all part of nature's divinity. So did all natural phenomena: springs and rivers and the sea, mountains, earthquakes and lightning and thunder. Such was the original religion of all mankind. آرنلڈ جے ٹوئنبی، ریڈرْس ڈائجسٹ، مارچ 1974۔
جس فطرت کو انسان معبود کی نظر سے دیکھتا ہو، اس کو وہ تحقیق اور تسخیر کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ ٹوئنبی نے مذکورہ تاریخی واقعے کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ فطرت کے تقدس کے اس دور کو جس نے ختم کیا، وہ توحید یعنی مونوتھیزم کا عقیدہ تھا۔ توحید کے عقیدے نے فطرت کو معبود کے مقام سے اتار کر مخلوق کے مقام پر رکھ دیا۔ فطرت کے مظاہر کو پرستش کی چیز قرار دینے کے بجائے، اس کو تسخیر کی چیز قرار دے دیا۔
توحید کا یہ نظریہ پچھلے دور میں تمام پیغمبر پیش کرتے رہے، تاہم پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں توحید کی تحریک صرف شخصی اعلان تک محدود رہی۔ وہ انقلاب عام کے مرحلے تک نہیں پہنچی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں نے توحید کے عقیدے کو انقلاب عام کے مرحلے تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد اس کے لازمی نتیجے کے طور پر فطرت کے بارے میں تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔
اب انسان نے فطرت کو اس نظر سے دیکھنا شروع کیا کہ وہ اس کو جانے اور اس کو اپنے کام میں لائے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ موجودہ سائنسی دور تک پہنچ گیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مخالف نگار نے فزیکل سائنس کی تاریخ کے تحت لکھا ہے کہ یونانی سائنس دوسری صدی عیسوی کے بعد تعطل کا شکار ہو گئی، کیونکہ رومیوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سماجی دباؤ، سیاسی سختی، اور چرچ کے ذمہ داروں کی مخالف پالیسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ یونانی علماء اپنے وطن کو چھوڑ کر مشرق کی طرف چلے گئے۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کو عروج ہوا تو اسلامی دنیا میں آخر کار اس قسم کے علماء کو پذیرائی حاصل ہوئی۔ بیشتر یونانی کتابیں عربی میں ترجمہ کی گئیں۔ عربوں نے قدیم یونانی علم پر کچھ بہت اہم اضافے کیے۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں جب مغربی یورپ میں یونانی علوم سے دلچسپی پیدا ہوئی تو یورپی اہل علم سائنسی علوم کی تحصیل کے لیے مسلم اسپین جانے لگے۔
عربی کتابوں کے لاطینی ترجموں سے مغربی یورپ میں سائنس کا احیا ہوا۔ قرون وسطیٰ کے یہ اہل علم اعلیٰ کمال کے درجے تک پہنچے، اور انہوں نے سولہویں اور سترہویں صدی کے سائنسی انقلاب کی زمین تیار کی۔ Scientists of the Middle Ages reached high levels of sophistication and prepared the ground for the scientific revolution of the 16th and 17th centuries. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 14، پیج 385۔
موسولیبا یعنی چارلس مری گستاو لوبو، 1841 تا 1931 نے تمدن عرب میں لکھا ہے کہ یورپ میں عربی علوم صلیبی جنگوں کے ذریعے نہیں پہنچے، بلکہ اندلس، سسلی اور اٹلی کے ذریعے سے پہنچے۔ 1130 عیسوی میں طلیطلہ کے رئیس ریمو کی سرپرستی میں مترجمین کا ایک ادارہ قائم ہوا، جس نے مختلف فنون کی مشہور عربی کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ ان ترجموں سے یورپ کی آنکھوں کو ایک نئی دنیا نظر آنے لگی۔ چودہویں صدی تک اس ترجمے کا سلسلہ جاری رہا، نہ صرف رازی، ابن سینا اور ابن رشد وغیرہ کی کتابیں، بلکہ جالینوس، بخورات، افلاطون، ارسطو، اخلیدس، بطلیموس وغیرہ کی کتابوں کا بھی عربی ترجموں سے لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔
ڈاکٹر گلیکرک نے اپنی تاریخ میں 300 سے زیادہ عربی کتابوں کے لاطینی ترجموں کا ذکر کیا ہے۔ تمدن عرب۔ دوسرے مغربی علماء نے مزید کھل کر اس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا ہے، مثلاً رابرٹ بریفالٹ یعنی رابرٹ اسٹیفن بریفالٹ، 1874 تا 1948 نے لکھا ہے کہ یونانیوں نے سسٹم پیدا کیا، انہوں نے تعمیم کی اور اصول مقرر کیے، مگر مفصل اور طویل مشاہدے کی مشقت اور تجرباتی تحقیق یونانی مزاج کے لیے بالکل اجنبی تھی۔ جس چیز کو ہم سائنس کہتے ہیں، وہ نئے تجرباتی اور مشاہداتی اور حسابی طریقوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، اور یہ چیز یورپ کو عربوں کے ذریعے سے ملی۔
جدید سائنس اسلامی تہذیب کی سب سے زیادہ عظیم دین ہے۔ اس قسم کی تفصیلات دیتے ہوئے بریفالٹ نے کہا ہے کہ ہماری سائنس پر عربوں کا جو احسان ہے، وہ صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے ہم کو انقلابی نظریات کی بابت حیرت خیز دریافتیں عطا کیں۔ سائنس اس سے بھی زیادہ عرب کلچر کی احسان مند ہے، وہ یہ کہ اس کے بغیر جدید سائنس کا وجود ہی نہ ہوتا۔ The depth of our science to that of the Arabs does not consist in startling discoveries of revolutionary theories.
Science owes a great deal more to Arab culture; it owes its existence. بریفالٹ، The Making of Humanity. جارج سارٹن، جو کہ علومِ سائنس کا مشہور مورخ ہے، اس نے لکھا ہے کہ قرون وسطیٰ کی سب سے زیادہ بنیادی اور سب سے زیادہ واضح کامیابی تجرباتی روح کو پیدا کرنا تھا، اور یہ روح اصلًا مسلمانوں نے پیدا کی، جو بارہویں صدی عیسوی تک جاری رہی۔