Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

ذہنی روک

Urdu · 2 min

سائنس کے لیے ضروری ہے کہ چیزوں کی ماہیت جاننے کے لیے گہرائی کے ساتھ ان کا مشاہدہ اور تجربہ کیا جائے، مگر یونانیوں میں اور دوسری قدیم قوموں میں اس کا ماحول موجود نہ تھا، کیونکہ خدا کے سوا دوسری چیزوں میں بھی تقدس کو ماننے کی بنا پر ایسا ہوا کہ تمام چیزیں لوگوں کی نظر میں مقدس اور پراسرار ہو گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں ہر قوم کے اندر جادو اور توہم پرستی اور غیر اللہ کی تقدیس کا عام رواج ہو گیا تھا۔ یہ ذہن اشیاء کی سائنسی تحقیق میں معنی بن گیا۔

اگر لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو کہ واقعات جادو کے زور پر ہوتے ہیں، یا چیزوں میں پراسرار قسم کے دیوتائی اوصاف چھپے ہوئے ہیں، تو ایسی حالت میں ان کے اندر تحقیق کا ذہن نہیں ابھر سکتا۔ ایسی حالت میں وہی چیز ابھرے گی جس کو برٹرینڈ رسل نے جادو اور توہم پرستی سے تعبیر کیا ہے۔ قدیم زمانے کے عرب خود بھی اسی قسم کے توہمات میں مبتلا تھے۔ یہ توہمات دوسری قوموں کی طرح خود ان کے لیے بھی ایک ذہنی روک، یعنی مینٹل بلاک، بنا ہوا تھا۔

اسلام کے ذریعے جب ان کے اندر فکری انقلاب آیا تو ان کے درمیان سے اس ذہنی روک کا خاتمہ ہو گیا۔ اب وہ چیز کو صرف چیز کے روپ میں دیکھنے لگے، جبکہ اس سے پہلے ہر چیز انہیں مقدس اور پراسرار دکھائی دے رہی تھی۔ یہی وہ فکری انقلاب ہے جس نے عربوں میں پہلی بار سائنسی ذہن پیدا کیا، اور اس میں ترقی کر کے وہ ساری دنیا کے لیے اس چیز کو دینے والے بنے جس کو موجودہ زمانے میں سائنس کہا جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.