← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Unani uloom
Urdu · 8 min
یونانی علوم: یورپ کا جدید ترقیاتی عہد 14 تا 17ویں صدی میں شروع ہوا، جس کو عام طور پر ریناساں یعنی Renaissance کہا جاتا ہے۔ اس کے معنی نشأتِ ثانیہ یعنی rebirth یا اثرِ نو زندگی یعنی revival کے ہیں۔ اہلِ یورب اپنے اس دور کا رشتہ ایک مغربی ملک یونان سے جوڑتے ہیں۔ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ کا دورِ جدید دراصل یونان کے دورِ قدیم کا احیا ثانی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف احیا ہے، نہ کہ احیا ثانی۔
وہ یورپ کی تاریخ میں پہلی بار پیش آیا، چنانچہ منصف مزاج محققین نے تسلیم کیا ہے کہ مغرب کی رینیساں براہِ راست— کہ مغرب کی ریناساں براہِ راست طور پر عربوں کی دین ہے۔ بریفالٹ نے لکھا ہے کہ ہماری سائنس کے لیے عربوں کی دین صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے انقلابی نظریات دیے؛ سائنس کے لیے عرب کلچر کی دین اس سے بھی زیادہ ہے۔ وہ اپنے وجود کے لیے عربوں کی مرہونِ منت ہے۔ The depth of our science to that of the Arabs does not consist in startling discoveries or revolutionary theories.
Science owes a great deal more to Arab culture; it owes its existence, making of humanity 190. بریفالٹ نے مزید لکھا ہے کہ یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی۔ It is highly probable that, but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. Page 202.
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ کتب خانہ اسلامی معاشرے کا— کتب خانہ اسلامی معاشرے کا ایک اہم پہلو تھا۔ کثرت سے ایسے ادارے موجود تھے جن کے یہاں 100,000 سے زیادہ کتابیں موجود ہوتی تھیں۔ وہ بنیادی لٹریچر جس نے یورپ کی نشأتِ ثانیہ پیدا کی، اس کا بڑا حصہ مسلم لائبریریوں کی عربی کتابوں کے ترجمے سے حاصل کیا گیا تھا۔ Most of the classical literature that spurred the European Renaissance was obtained from translations of Arabic manuscripts in Muslim libraries.
Encyclopedia Britannica, volume 15, page 646. کچھ لوگوں کے نزدیک عربوں کا کارنامہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ انہوں نے یونانی علم کو بذریعہ ترجمہ یورپ کی طرف منتقل کیا۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ یونانی کلچر کا دھارا اسپین اور سسلی کے عربوں کے ذریعے یورپ کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں اس نے یورپ کی نشأتِ ثانیہ پیدا کرنے میں مدد دی۔ This stream of Greek culture was redirected into Europe by the Arabs in Spain and Sicily, whence it helped create the Renaissance of Europe.
Page 307. مگر یہ بات صحیح نہیں، کیونکہ یونانی فلسفیوں سے عربوں کو جو چیز ملی تھی وہ نظری بحثیں تھیں، نہ کہ تجربی علم۔ بالفاظِ دیگر، انہوں نے یونانیوں سے فلسفہ پایا تھا؛ انہوں نے یونانیوں سے سائنس نہیں پائی تھی، جس کا ان کے یہاں وجود ہی نہ تھا۔ سائنس یا تجریبی علم ان مسلمانوں کی ایجاد ہے؛ وہ اس علم تک تاریخ میں پہلی بار پہنچے، اور دوسری اقوام کو، بشمول یورپ، اسے منتقل کیا۔
برٹن رسل نے درست طور پر لکھا ہے کہ سائنس عربوں کے وقت تک دو پہلو رکھتی تھی: 1) ہم کو اس قابل بنانا کہ ہم چیزوں کو جانیں۔ 2) ہم کو اس قابل بنانا کہ ہم چیزوں کو کریں۔ یونانی، بااستثناء ارشمید، ان دو میں سے صرف پہلی چیز سے دلچسپی رکھتے تھے؛ سائنس کے عملی استعمالات میں دلچسپی اولاً توہم پرستی اور جادو کے ذریعے آئی۔ Science, ever since the time of the Arabs, has had two functions: 1) to enable us to know things, and 2) to enable us to do things.
The Greeks, with the exception of Archimedes, were only interested in the first of these: interest in the practical uses of science came first through superstition and magic. The impact of science on society. Page 29. برٹن رسل نے مزید لکھا ہے کہ آج کے ایک تعلیم یافتہ کو یہ کھلی ہوئی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ کسی بات کو ماننے سے پہلے مشاہدے کے ذریعے اس کی تحقیق کی جائے، نہ کہ محض تخلیدی طور پر اس کو مان لیا جائے۔
مگر یہ مکمل طور پر ایک جدید نقطۂ نظر ہے، جو بمشکل ہی 17ویں صدی سے پہلے اپنا وجود رکھتا تھا۔ ارسطو نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے منہ میں کم دانت ہوتے ہیں؛ اگرچہ اس نے دو شادیاں کیں، وہ ایسا نہ کر سکا کہ اپنی بیوی کے منہ کو کھول کر دیکھے اور مشاہدے کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے۔ برٹن رسل نے اس قسم کی بہت سی مثالیں دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ارسطو نے بلا تحقیق بہت سی باتیں کہہ دیں، اور بعد کے لوگ بھی بدستور بلا تحقیق ان باتوں کو دہراتے رہے۔