زمین پر انسان کے ظہور کی قطعی تاریخ سائنس دانوں کو معلوم نہیں، تاہم انہوں نے ایسے انسانی ڈھانچے دریافت کیے ہیں جن کے متعلق ان کا یقین ہے کہ وہ 10,000 سال قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس بنا پر اس معاملے میں بائبل کے بیان کو سائنس دان تسلیم نہیں کرتے۔ بائبل کی کتاب پیدائش میں انسانی نسلوں کی جو تاریخیں دی گئی ہیں، اس کے مطابق زمین پر آدم کا ظہور حضرت مسیح سے 3,700 سال پہلے ہوا۔ حتیٰ کہ 1975 کے عبرانی کیلنڈر میں حساب لگا کر بتایا گیا تھا کہ انسان ابتدا میں زمین پر 3,657 سال پہلے ظہور میں آیا۔
جدید سائنس کے نزدیک یہ حساب مضحکہ خیز حد تک غلط ہے۔ عیسائی حضرات نے اس طرح زمین کی پوری تاریخ کو بائبل کے مطابق صرف کچھ ہزار سالوں میں سمیٹ دیا تھا۔ اس حساب کے سائنسی طور پر غلط ہونے کا اظہار 18ویں صدی میں جیمز ہٹن کی تحقیقات سے ہوا، جو طبقات الارض کا ماہر تھا۔ اس نے اپنی ساری عمر چٹانوں اور زمین کی بناوٹ کا مطالعہ کیا۔
اس نے ثابت کیا کہ زمین اپنی موجودہ شکل میں کروڑوں سال کے اندر تیار ہوئی ہے۔ اس کے بعد 19ویں صدی میں چارلس لائل کے مشاہدات نے ہٹن کے نظریے کی مزید تصدیق کی۔ چارلس لائل کی مشہور و معروف کتاب "طبقات الارض کے اصول" یعنی پرنسپلز آف جیالوجی" جس کی پہلی جلد 1830 میں شائع ہوئی، بڑی حد تک اس کا سبب بنی کہ بائبل کا حسابی پیمانہ سنجیدہ بحث کے قابل نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لائل کی کتابوں کا نتیجہ تھا کہ وسیع تر دنیا اس پر مطمئن ہو گئی کہ بائبل کا بیان غلط ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ ناقابلِ قیاس تھا کہ بائبل کے بیان کو غلط سمجھا جائے۔
Indeed, Lyle's books were largely responsible for convincing the world at large that the Bible could be wrong, at any rate in some respects. یہ ہیدر ٹو ان تھنکیبل تھاٹ۔ پیج 29۔ پیج 29۔
اس قسم کے نظریات یورپ کی علمی ترقی میں رکاوٹ بن گئے۔ جس شخص نے بھی اس سے مختلف نظریہ پیش کیا، اس کو غیر مقدس بتا کر اس کو مستوجبِ سزا قرار دے دیا گیا۔ مگر اسلام میں اس قسم کے غیر واقعی نظریات موجود نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسپین میں جب اسلام کے زیرِ اثر سائنسی تحقیق کا کام شروع ہوا تو وہاں انہیں مذہب کی طرف سے کوئی مخالفت پیش نہ آئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.