Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

چند مثالیں

Urdu · 5 min

قدیم زمانے میں مشرکانہ عقائد کے تحت چیزوں کو "مقدس" مان لیا گیا تھا؛ اس ذہن نے چیزوں کے بارے میں آزادانہ غور و فکر کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ توحید کے انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار آزادانہ غور و فکر کا ماحول پیدا کیا؛ ہر معاملے میں بے روک ٹوک تحقیق اور مطالعہ کیا جانے لگا۔ اس طرح توحید کے انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر سائنسی غور و فکر کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے بھی اگرچہ انفرادی سطح پر بعض اشخاص نے سائنس کی تحقیق کی تھی، مگر ماحول سازگار نہ ہونے کی وجہ سے ان کو پذیرائی نہیں ملی اور ان کا کام آگے نہ بڑھ سکا۔

عام طور پر دوربین کا موجد گلیلیو وفات 1642 عیسوی کو سمجھا جاتا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ ابو اسحاق ابراہیم بن جندب وفات 767 عیسوی نے افلاک کا مطالعہ کیا۔ اس نے دور کی چیزوں کو دیکھنے کے لیے کچھ اصول اخذ کیے، اور اس کے مطابق ایک دوربینی آلہ ایجاد کیا۔ گلیلیو نے اس ابتدائی دوربین کو مزید ترقی دی۔ یہ فن آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ وہ موجودہ زمانے کی الیکٹرانک دوربینوں تک جا پہنچا۔

جدید سائنس کی بنیاد تجربات پر ہے، مگر قدیم زمانے میں مختلف قسم کے توہماتی عقائد تجربات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جابر ابن حیان وفات 817 عیسوی نے تجربے کی اہمیت کو سمجھا اور اس کو علمی مطالعے میں استعمال کیا۔ اس کی تحریریں ترجمہ ہو کر یورپ میں پہنچیں۔ یہ ذہن ترقی کرتا رہا یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو موجودہ زمانے میں تجرباتی علم یا Experimental knowledge کہا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گول دائرے میں نہیں گھومتی، بلکہ بیضوی صورت کے مدار میں گھومتی ہے۔ سیاروں کی یہ حرکت آج کیپلر کے تیسرے قانون یعنی Kepler's third law کے نام سے مشہور ہے۔ مگر اس کائناتی واقعے کو ابتدائی طور پر جس نے دریافت کیا وہ ابو عبداللہ محمد ابن جابر البنانی وفات 929 عیسوی ہے۔ اس نے اپنے فلکیاتی مشاہدات کے ذریعے اس حقیقت کو معلوم کیا اور اس کے بارے میں کتاب لکھی۔

اس کی کتاب ترجمہ ہو کر یورپ پہنچی اور جدید تجرباتی سائنس کو ظہور میں لانے کا سبب بنی۔ ابو علی حسن ابن الحیثم وفات 1021 عیسوی تاریخ میں پہلا شخص ہے جس نے مادی اجسام میں جمود یعنی inertia کا تصور دیا۔ اس کی یہ دریافت ترجمہ ہو کر یورپ پہنچی۔ وہاں کے اہل علم نے اس کو پڑھا اور اس پر مزید تحقیقات کیں، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو مادی اجسام کی حرکت کے بارے میں نیوٹن کے پہلے قانون کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ دراصل ابن الحیثم ہی ہے جس نے اولاً یہ دریافت کیا کہ روشنی ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے ایسا راستہ منتخب کرتی ہے جس میں کم سے کم وقت لگے۔ یہی دریافت ہے جو موجودہ زمانے میں فرما کے اصول یعنی Fermat's principle کے نام سے ساری دنیا میں مشہور ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.