Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

سائنس کا ظہور

Urdu · 4 min

یورپ کی تاریخ میں چھٹی صدی عیسوی سے لے کر دسویں صدی عیسوی تک کے زمانے کو "تاریک دور" یعنی Dark Age کہا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ یورپ تہذیب و تمدن سے کامل طور پر دور تھا۔ یہ یورپ کے لیے ذہنی تاریکی اور وحشت کا دور تھا۔ A Period of Intellectual Darkness and Barbarity انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 3، صفحہ 380۔

مگر اس تاریک دور کا تعلق صرف یورپ سے تھا، عین اس وقت جبکہ یورپ پر تاریک دور کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اسلامی دنیا میں تہذیب کی روشنی پوری طرح موجود تھی۔ برٹرینڈ رسل کے الفاظ میں، ٹھیک اسی زمانے میں ہندوستان سے اسپین تک اسلام کی عالی شان تہذیب ظہور میں آ چکی تھی۔ From India to Spain: the brilliant civilization if Islam flourished پیج 395۔

یہ اسلامی تہذیب جو سسلی اور اسپین میں داخل ہو کر یورپ کے اندر تک پہنچ چکی تھی، اس نے یورپ کے لوگوں کو متاثر کیا۔ مغربی یورپ کے طلبہ اسپین کی اسلامی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے لیے آنے لگے۔ مسلم دنیا کے بہت سے لوگ نکل کر یورپ پہنچے۔ جب یورپ والوں کو معلوم ہوا کہ مسلمان علم کے اعتبار سے ان سے بہت آگے جا چکے ہیں، تو انہوں نے مسلمانوں کی کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کرنا شروع کیا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایسے کتب خانے تھے جن کی کتابوں کی تعداد ایک لاکھ جلدوں سے زیادہ تھی۔ وہ تمام بنیادی لٹریچر جس نے یورپ کی نشت ثانیہ کو ابھارا، وہ مسلم لائبریریوں کی عربی کتابوں کے ترجمے سے حاصل کیا گیا تھا۔ Most of the classical literature that spurred the European Renaissance was obtained from translations of Arabic manuscripts in Muslim libraries انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 15، صفحہ 646۔ موجودہ زمانے میں کثرت سے ایسے محققین پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے واضح لفظوں میں اس واقعے کا اعتراف کیا ہے کہ عربوں کی تحقیقات کے ذریعے یورپ میں جدید سائنس کا دور شروع ہوا۔

مثلاً گستاولی باں رابرٹ بریفالڈ، جے ایم رابرٹس، مانٹگو میری واٹ وغیرہ۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں جو بات کہی جا رہی ہے وہ عالمی طور پر ایک تسلیم شدہ بات ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے لوگوں نے جس واقعے کو تاریخ مسلم میں لکھ رکھا ہے، اس کے متعلق ہمارا کہنا ہے کہ اس کو تاریخ اسلام میں لکھا جائے۔ اس کو انسان کے خانے سے نکال کر خدا کے خانے میں ڈال دیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.