Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

ایک مثال

Urdu · 10 min

ماضی کی دنیا میں جو کچھ پیش آیا، اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ اب بھی ہندوستان میں موجود ہے۔ ہندوستان موجودہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں شرک اب بھی طاقتور حالت میں موجود ہے۔ جہاں شرک اب بھی طاقتور حالت میں باقی ہے۔ اگر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ شرک کس طرح وہ ماحول بننے نہیں دیتا جہاں علمی تحقیق آزادانہ طور پر جاری ہو سکے، وہ اس کا کم از کم جزئی نمونہ آج بھی ہندوستان میں دیکھ سکتا ہے۔

1967 میں دہلی کے انگریزی اخبار میں ایک ہندوستانی سائنسدان کا انٹرویو چھپا۔ اس انٹرویو نے اچانک ملک میں سنسنی پھیلا دی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کو اگلے 2 دہائیوں میں بڑے پیمانے پر ذہنی بونا پن کے خطرے کا سامنا کرنا ہوگا۔ اگر پروٹینی فاقے کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی، انڈیا میں have to face the danger of large-scale intellectual dwarfing in two decades in if the problem of malnutrition and protein hunger was not tackled soon.

اسٹیٹس مین ڈیلی، ستمبر 4، 1976۔ یہ الفاظ ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن کے تھے، جو اس وقت انڈین ایگریکلچرل انسٹی ٹیوٹ یعنی نئی دہلی میں ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متوازن غذا کا تصور، اگرچہ نیا نہیں، مگر دماغ کے ارتقا کے سلسلے میں اس کی اہمیت ایک نئی حیاتیاتی دریافت ہے۔ اب یہ بات قطعی ہے کہ 4 سال کی عمر میں انسانی دماغ 80% سے لے کر 90% تک اپنے پورے وزن کو پہنچ جاتا ہے، اور اگر اس نازک مدت میں بچے کو مناسب پروٹین نہ ملے تو اس کا دماغ اچھی طرح نشوونما نہیں پا سکتا۔

ڈاکٹر سوامی ناتھن نے کہا کہ اگر ناقص تغذیہ اور پروٹینی فاقہ یعنی پروٹین ہنگر کے مسئلے پر جلد توجہ نہیں دی گئی، تو اگلے 2 دہائیوں میں ہمیں یہ منظر دیکھنا پڑے گا کہ ایک طرف متمدن قوموں کی ذہنی طاقت یعنی انٹلیکچول پاور میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور دوسری طرف ہمارے ملک میں ذہنی بونا پن بڑھ رہا ہے۔ نوجوان نسل کو پروٹینی فاقے سے نکالنے میں اگر ہم نے جلدی نہ کی، تو اس کا یہ سنگین نتیجہ برآمد ہوگا کہ ہر روز ہمارے یہاں 10 لاکھ ذہنی بونے یعنی انٹلیکچول ڈوافز وجود میں آئیں گے۔ اس کا بہت کچھ اثر ہماری نسلوں پر حالیہ برسوں ہی میں پڑ چکا ہوگا۔ پوچھا گیا کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

ڈاکٹر سوامی ناتھن نے اس کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اپنی کارروائیوں کے ذریعے عوام کے اندر پروٹینی شور یعنی پروٹین کانشسنس پیدا کرے، اور اس سلسلے میں رائے عامہ کو ہموار کرے۔ پروٹین کی ضرورت کا تخمینہ مقدار اور نوعیت دونوں کے اعتبار سے کرنا چاہیے۔ اوسط نشوونما کے لیے پروٹین کے مرکبات میں 80% قسم کے امینو ایسڈ ہونا ضروری ہیں۔ غیر لحمی غذاؤں میں بعض قسم کے ایسڈ مثلاً لائسین اور میتھونین یعنی متھائن کا موجود نہ ہونا عام ہے، جبکہ جوار میں لائسین کی زیادتی متعدد علاقوں میں بیماری کا سبب رہی ہے، جہاں کی خاص غذا یہی اناج ہے۔

اگرچہ حیوانی غذا یعنی دودھ کا بڑے پیمانے پر استعمال پسندیدہ چیز ہے، مگر اس کا حصول بہت مہنگا ہے، کیونکہ نباتاتی غذا کو حیوانی غذا کی شکل دینے کے لیے بہت زیادہ قوت ضائع کرنی پڑتی ہے۔ اسٹیٹس مین، 4 ستمبر 1967۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد انڈین ایکسپریس، 7 ستمبر 1967 نے ایک ادارہ شائع کیا جس کا عنوان تھا "پروٹینی فاقہ یعنی پروٹین ہنگر"۔ اس ادارے میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت نے جب اناج کے سلسلے میں تائیدی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، تو مشکل ہی سے یہ شبہ کیا جا سکتا تھا کہ غلے کی بہتات کے باوجود پروٹینی فاقے کا مسئلہ سامنے آ جائے گا۔

جیسا کہ انڈین ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سوامی ناتھن نے نشاندہی کی ہے، غلوں پر زیادہ اعتماد سے ایسی صورتحال پیدا ہوگی جس سے اچھے کھاتے پیتے لوگ بھی ناقص تغذیہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ جو لوگ پروٹینی فاقے سے دوچار ہوں گے، جسمانی تکلیفوں کے علاوہ ان کے ذہنوں پر اس کے اثرات پڑیں گے، اور بچوں کی ذہنی صلاحیت پوری طرح نشوونما نہیں پا سکے گی۔ انڈین ایکسپریس نے مزید لکھا تھا کہ اس کو دیکھتے ہوئے موجودہ زرعی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، مگر اصل مسئلہ ان حد بندیوں یعنی لیمیٹیشنز کا ہے جن میں حکومت کو کام کرنا ہوگا۔ زرعی پیداوار کو حیوانی پروٹین میں تبدیل کرنا بے حد مہنگا ہے۔

حکومت نے اگرچہ متوازن خوراک اور گوشت، انڈے اور مچھلی کے زیادہ استعمال کی ایک مہم چلائی ہے، مگر اس کے باوجود عوام اپنی غذائی عادتوں یعنی فوڈ ہیبٹس کو بدلنے میں سست ہیں۔ انڈین ایکسپریس، 7 ستمبر 1967۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن کا مذکورہ بیان اخبارات میں چھپا تو ہندوستان میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا، حتیٰ کہ کچھ انتہا پسند لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر سوامی ناتھن ایگریکلچرل انسٹی ٹیوٹ کے عہدے سے استعفیٰ دیں، کیونکہ وہ اس قومی ادارے کی صورت کے لیے موضوع نہیں ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر سوامی ناتھن بالکل خاموش ہو گئے اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے روایتی مذہب میں جان کو مارنا سب سے بڑا گناہ ہے، اور چونکہ گوشت کو غذا بنانے کے لیے جاندار کو مارنا پڑتا ہے، اس لیے روایتی طور پر یہاں سبزی خوری یعنی ویجیٹیرینزم کو معیاری خوراک قرار دیا گیا ہے۔ ویجیٹیرینزم کو معیاری خوراک قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر گائے یہاں کے روایتی مذہب میں ایک مقدس جانور ہے۔ رِگ وید میں گائے کو دیوی یعنی گاڈیس بتایا گیا ہے، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 3، صفحہ 206۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر موحدانہ عقیدہ کس طرح انسانی ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس بے شمار وسائل اور امکانات موجود ہیں، اس کے باوجود وہ اب تک صحیح معنوں میں ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔ اس کی واحد وجہ اس قسم کی مشرکانہ بندشیں ہیں جنہوں نے اس کی ترقی کا راستہ روک رکھا ہے۔ یہ راستہ اس وقت تک رکا رہے گا جب تک ملک کو ان غیر حقیقی بندشوں سے آزاد نہ کیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.