← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
غیر خدا کو مقدس ماننا
Urdu · 12 min
Nathan Soderblom ناتھر سوڈر بلاوم نے 1913 میں کہا تھا کہ مذہب کا بنیادی تصور، یعنی سنٹرل نیشن، تقدس کا عقیدہ ہے۔ اس وقت سے اب تک تاریخِ مذاہب کا مطالعہ وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے؛ جرمن، فرانسیسی، انگریزی زبانوں میں کثیر تعداد میں محققانہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ موجودہ علمائے مذاہب کا تقریباً اتفاق ہے کہ مذہب کا بنیادی تخیل تقدس، یعنی holiness، کا عقیدہ ہے؛ یعنی چیزوں میں ایسی پراسرار صفات یا پراسرار طاقتیں ماننا جو عام انسانوں میں نہ پائی جاتی ہوں، یا عام عقلی اصولوں کے تحت جن کی توجیہ نہ کی جا سکتی ہو۔
انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس میں اس موضوع پر مفصل بحث زیرِ عنوان "تقدس یعنی holiness" موجود ہے۔ تقدس کا یہ عقیدہ کوئی فرضی چیز نہیں؛ وہ انسان کی فطرت میں آخری گہرائیوں تک پیوست ہے۔ اس کے استعمال کی صحیح صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے اس جذبے کو ایک خدا کے لیے خاص کر دے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا یہ جذبہ غیر خدا کی طرف مڑ جاتا ہے، جس جذبۂ تقدس کا رخ حقیقتاً خالق کی طرف ہونا چاہیے تھا، اس کا رخ مخلوق کی طرف ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایک غیبی حقیقت ہے، آدمی اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں پاتا، اس لیے وہ ایسا کرتا ہے کہ آس پاس کی دنیا میں جو چیزیں نمایاں نظر آتی ہیں، انہی کو مقدس سمجھ کر پوجنے لگتا ہے۔
یہی نفسیات ہے جس نے قدیم زمانے میں وہ چیز پیدا کی جس کو مذہب کی اصطلاح میں شرک اور علمی اصطلاح میں فطرت کی پرستش یعنی nature worship کہا جاتا ہے۔ انسان کا تقدس کا جذبہ اندر سے زور کر رہا تھا کہ کسی کو مقدس مان کر اس کی پرستش کرے؛ اس نے ہر اس چیز کی پرستش شروع کر دی جو اس کو بظاہر نمایاں اور ممتاز دکھائی دی، مثلاً سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، آگ، بھونچال، جانور وغیرہ وغیرہ۔ پیغمبروں کی تعلیمات کے تحت ایک خدائے برتر کا تصور موجود تھا۔ پیغمبروں کی تعلیمات کے تحت ایک خدائے برتر کا تصور موجود تھا۔
انسان نے فرض کر لیا کہ ایک خدا کہیں آسمان کی بلندیوں پر ہے، اور یہ تمام چیزیں اس کے ماتحت دیوی دیوتا ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 12، صفحہ 877۔ موجودہ زمانے کے علمائے مذاہب کا عام طور پر اتفاق ہے کہ مذہب کی اصل تقدس کا عقیدہ ہے، یعنی بعض چیزوں میں ایسی مخصوص صفات یا پراسرار طاقتیں ماننا جو دوسروں میں نہ پائی جاتی ہوں، اور عام عقلی اصولوں کے تحت جن کی توجیہ ممکن نہ ہو۔ اسی سے ان مقدس چیزوں کے حق میں خوف اور امید کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔
ان کے مقابلے میں آدمی اپنے آپ کو عاجز محسوس کرتا ہے؛ وہ سمجھتا ہے کہ یہاں میری حد ختم ہو گئی۔ یہ مقدس چیزیں مختلف قسم کی ہو سکتی ہیں، مثلاً پتھر، جانور، سمندر، سورج، چاند، اور اسی طرح بادشاہ اور مذہبی شخصیتیں وغیرہ۔ آدمی جن چیزوں کو اس طرح مقدس مان لے، ان کی وہ پرستش کرتا ہے، ان کے نام پر قربانی کرتا ہے، ان کو خوش کرنے کے لیے رسمیں مناتا ہے، تاکہ ان کے قہر سے بچے اور ان کی عنایتوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مکھالہ نگار نے لکھا ہے کہ تقدس کا عقیدہ مقدس شخصیتوں میں ظہور کرتا ہے، جیسے مذہبی پیشوا، بادشاہ، مخصوص جگہیں مثلاً مندر اور بت، اور فطری مظاہر مثلاً دریا، سورج، پہاڑ، درخت۔
مذہبی پیشوا مذہبی پرستش کے عمل میں خاص ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے؛ اس کے رسمی اعمال خدائی عمل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی طرح بادشاہ آسمان و زمین کے درمیان خاص کڑی ہے؛ اسی بنا پر اس کو "آسمانی فرزند" یا "خدائی ہتھیار" جیسے لقب دیے جاتے ہیں۔ علم الانسان کے جو محققین تقدس یعنی holiness کو مذہب کی اصل بتاتے ہیں، ان میں سے چند کے نام یہاں بطور مثال درج کیے جاتے ہیں: ناتھن سوڈر بلاوم، ریڈاف آٹو، ایمیل ڈرک ہائم، میکس شیلر، جرارڈس وین ڈیر لیو، ڈبلیو بریڈ کرسٹنسس، فریڈرش ہائلر، فریڈرش ہائلر، گستاو مینشنگ، راجر کیلس، مرسیا، ایلیڈے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 16، پیج 124۔
جدید علمائے مذاہب کا یہ کہنا درست ہے کہ مذہب کا بنیادی تخیل تقدس یعنی holiness کا عقیدہ ہے۔ تقدس کا یہ جذبہ بجائے خود فطری جذبہ ہے، مگر جب ایک اللہ کے سوا کسی اور کو مقدس مانا جائے تو یہ اصل فطری جذبے کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ یہی ہر قسم کی برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ انسان جب غیر مقدس کو مقدس مانتا ہے تو وہ ہر قسم کی ترقی کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔
غیر مقدس کو مقدس ماننے کی دو صورتیں ہیں: ایک ہے فطرت کو مقدس ماننا، اور دوسرا ہے انسانوں میں سے کسی کو مقدس ماننا۔ یہ دونوں ہی برائیاں قدیم تاریخ میں ساری دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں پائی جا رہی تھیں، اور یہی سب سے بڑا سبب ہے جس نے انسان کی سوچ کو غیر علمی سوچ بنا رکھا تھا۔ تقدس کا معاملہ انسان کی گہری نفسیات سے تعلق رکھتا ہے، اور اس قسم کی نفسیات کو کسی ایک لفظ میں بیان کرنا انتہائی دشوار ہے۔ گہری انسانیت کیفیات کے لیے جو الفاظ بولے جاتے ہیں، گہری انسانی کیفیات کے لیے جو الفاظ بولے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ علامتی ہوتے ہیں، نہ کہ حقیقی۔
اس واقعے کو ملحوظ رکھتے ہوئے، اصولاً میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ تقدس کا عقیدہ مذہب کا خلاصہ ہے۔ البتہ یہ تقدس حقیقی ہے، نہ کہ موجودہ علمائے مذاہب کے خیال کے مطابق محض فرضی۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتا ہے۔ آدمی عین اپنے اندرونی جذبے کے تحت چاہتا ہے کہ کسی کو مقدس مان کر اس کے آگے جھک جائے۔
اس جذبے کے اظہار کی دو صورتیں ہیں: ایک موحدانہ اظہار، اور دوسرا مشرکانہ اظہار۔ آدمی اگر ایک خدا کو مقدس مانے اور اس کو اپنا معبود بنا کر اس کی پرستش کرے، تو اس نے ایک صحیح جذبے کو صحیح مقام پر استعمال کیا۔ یہ دراصل خدا ہی ہے جو فی الواقع تقدس کی صفت رکھتا ہے۔ اس لیے خدا کو مقدس ماننا ایک حقیقتِ واقعے کا اعتراف کرنا ہے۔
مگر انسان ایسا کرتا ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی اس کو بظاہر نمایاں دکھائی دے یا اپنے سے مختلف نظر آئے، اس کو وہ مقدس فرض کر لیتا ہے اور اس کی پرستش اور احترام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک صحیح جذبے کا غلط استعمال ہے۔ یہ گویا جو کچھ خدا کو دینا چاہیے، وہ غیر خدا کو دینا ہے۔ مذہب کی زبان میں اسی کا نام شرک ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ہم اس کو توہم پرستی یعنی superstition کہہ سکتے ہیں۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو مقدس ماننے کی یہی غلطی تھی جو قدیم زمانے میں سائنس کے ظہور کو ہزاروں برس تک روکے رہی۔ صرف ایک خدا کو مقدس مانا جائے تو اس سے کوئی علمی اور فکری مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ خدا ہمارے دائرۂ اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ وہ آسمانوں سے پرے ہے، جہاں انسانوں کا گزر نہیں ہو سکتا۔
مگر دوسری چیزیں جن کو مقدس مان لیا جاتا ہے، وہ ہمارے دائرۂ اختیار کی چیزیں ہیں۔ یہ وہی چیزیں ہیں جن کی تسخیر سے حقیقتاً سائنس کا آغاز ہوتا ہے۔ مگر جب ان کو مقدس مان لیا جائے تو وہ قابلِ تسخیر چیز کے خانے سے نکل کر قابلِ عبادت چیز کے خانے میں چلی جاتی ہیں۔ خدا کے سوا اس دنیا میں جو چیزیں ہیں، وہ سب کی سب مخلوقات ہیں۔
وہ وہی ہیں جن کو عام طور پر "مظاہرِ فطرت" کہا جاتا ہے۔ یہی مظاہرِ فطرت سائنسی عمل کی زمین ہیں۔ ان مظاہرِ فطرت کا مطالعہ کرنا اور ان پر کنٹرول حاصل کرنا، اسی کا دوسرا نام سائنس ہے۔ اب چونکہ قدیم زمانے میں تمام قوموں نے مظاہرِ فطرت کو مقدس سمجھ لیا تھا، اس لیے وہ ان کے لیے پرستش کا موضوع بن گیا۔
وہ ان کے لیے تسخیر کا موضوع نہ بن سکا۔ یہی وہ فکری گمراہی ہے جو قدیم زمانے میں سائنسی تحقیق کے عمل کو ہزاروں سال تک روکے رہی۔ ترقی کا یہ دروازہ صرف اس وقت کھلا جب کہ توحید کے انقلاب نے انسانی ذہن کو بدلا اور مظاہرِ فطرت کو تقدس کے مقام سے ہٹا دیا۔