← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
علم کی طرف سفر
Urdu · 6 min
یونان یورپ کا ایک ملک ہے، قدیم زمانے میں یہاں کئی اعلیٰ سائنسی ذہن پیدا ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک نام ارشمیدس، یعنی آرکمیڈیز، کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ابتدائی قسم کی سادہ مشین، مثلاً چرخی یعنی واٹر سکرو، ایجاد کی۔ مگر عجیب بات ہے کہ یونان کے یہ سائنسی ذہن بجلی کی طرح وقتی طور پر چمکے اور پھر جلد ہی ختم ہو گئے۔
وہ یونان کو یا وسیع تر یورپ کو سائنس اور سند کے دور میں داخل نہ کر سکے۔ خود ارشمیدس کا انجام یہ ہوا کہ اس کو ایک رومی سپاہی نے اس وقت قتل کر دیا جبکہ وہ شہر کے باہر ریت کے اوپر ریاضی کا ایک سوال حل کر رہا تھا۔ قدیم یونانی علم اور جدید سائنسی یورپ کے درمیان نہایت طویل علمی وقفہ پایا جاتا ہے۔ ارشمیدس نے اپنی مشینی چرخی 260 قبل مسیح میں ایجاد کی تھی، اور جرمنی کے گٹن برگ یعنی جے گٹن برگ نے پہلا مشینی پریس 1450 عیسوی میں ایجاد کیا۔
دونوں کے درمیان ڈیڑھ ہزار سال سے زیادہ مدت کا فاصلہ ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیا وجہ ہے کہ قدیم یونانی سائنس کا تسلسل یونان میں اور یورپ میں جاری نہ رہ سکا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب سے پہلے وہ فضا موجود نہ تھی جس میں علمی تحقیق کا کام آزادانہ طور پر جاری رہ سکے۔
اسلام نے توحید کی بنیاد پر جو انقلاب برپا کیا، اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اس میدان کی رکاوٹیں ختم ہو گئیں اور وہ موافق فضا تیار ہوئی جس میں علمی تحقیق کا کام کسی روک ٹوک کے بغیر جاری رہ سکے۔ علمی ترقی ایک مسلسل عمل کا نام ہے، مگر یونانی علماء کا کام زمانی عدم موافقت کی بنا پر مسلسل عمل کی صورت میں آگے نہ بڑھ سکا۔ وہ وقتی چمک بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلامی انقلاب نے توہماتی دور کو ختم کیا تو علمی ترقی کے عمل کے لیے موافق مواقع حاصل ہو گئے۔
اب سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل کی صورت میں جاری ہو گئی، یہاں تک کہ وہ موجودہ ترقی یافتہ دور تک پہنچی۔ ماحول کی اس عدم موافقت کی وجہ سے یونانی علماء کا کام زیادہ تر ذہنی سوچ کے دائرے میں محدود رہا۔ وہ خارجی تجربات تک نہیں پہنچا۔ مثلاً ارسطو نے طبیعیات کے موضوع پر مضامین لکھے، مگر اس نے اپنی ساری زندگی میں کوئی ایک بھی عملی تجربہ نہیں کیا۔
یونانی علماء کی سرگرمیاں منطق میں تو نظر آتی ہیں، مگر وہ تجرباتی سائنس میں بالکل دکھائی نہیں دیتیں۔ سائنس کا حقیقی آغاز اس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان کے اندر تفتیش کی روح یعنی سپرٹ آف انکیوری آزادانہ طور پر پیدا ہو جائے۔ قدیم زمانے میں یہ روح انفرادی طور پر اور وقتی طور پر کہیں کہیں ابھری، مگر وہ ماحول کے عدم موافقت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پیدا نہ ہو سکی۔ آزادانہ تحقیق کے لیے موافقت کا یہ ماحول صرف اسلام کے انقلاب توحید کے بعد ظہور میں آیا۔
اسلامی انقلاب نے اچانک پورے ماحول کو بدل دیا اور وہ سازگار فضا پیدا کر دی جس میں آزادانہ طور پر فطرت کی تحقیق کا کام ہو سکے۔ اس سائنسی فکر کا آغاز پہلے مکے میں ہوتا ہے، اس کے بعد وہ مدینہ پہنچتا ہے، پھر وہ دمشق کا سفر کرتا ہے، پھر وہ آگے بڑھ کر بغداد کو اپنا مرکز بناتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسپین اور سسلی اور اٹلی ہوتا ہوا پورے یورپ میں پھیل جاتا ہے۔ وہ پھیلتا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پورے عالمی ذہن کو بدل دیتا ہے۔
علم کا یہ ارتقائی سفر اسلامی انقلاب سے پہلے ممکن نہ ہو سکا۔ اس سے پہلے سائنسی فکر محض انفرادی یا مقامی سطح پر پیدا ہوا اور ماحول کے عدم موافقت کی وجہ سے بہت جلد ختم ہو گیا۔ اسلام نے پہلی بار سائنسی ترقی کے لیے موافق ماحول عطا کیا۔