انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مخالا نگار نے "History of Science" کے تحت لکھا ہے کہ عالمِ فطرت کو آج جس نظر سے دیکھا جاتا ہے، وہ انسانی تاریخ میں ایک بہت نئی چیز ہے۔ ماضی میں بڑی بڑی تہذیبوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ علم اور مذہب اور قانون کے میدان میں ترقیاں کریں، مگر اس وقت سائنس کا موجودہ تصور بالکل غیر موجود تھا۔ مصر، میسوپوٹامیا، ہندوستان وغیرہ کا قدیم زمانے میں یہی حال تھا؛ قدیم قومیں سائنس کے معاملے میں معاند یا کم از کم غیر متعلق بنی ہوئی تھیں۔ اگرچہ تقریباً 2500 سال پہلے یونانیوں نے ایک ایسا نظام فکر پیدا کیا جو سائنٹیفک نظام سے مشابہ تھا، مگر بعد کی صدیوں میں اس میں مزید کوئی ترقی نہ ہو سکی، حتیٰ کہ اس کو سمجھنے والے بھی باقی نہ رہ سکے۔
سائنس کی عظیم طاقت اور زندگی کے تمام پہلوؤں پر اس کا گہرا اثر بالکل ایک نئی چیز ہے۔ یورپی سائنس کی صبح روایتی طور پر یونان کے فلسفیوں کے ذریعے شروع ہوئی، جو چھٹی اور پانچویں صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں بھی صرف جزوی طور پر ہمارے علم میں آ سکیں، وہ بھی ان مصنفوں کے ذریعے جو ان کے سینکڑوں سال بعد پیدا ہوئے، اور انہوں نے اپنی کتابوں میں ان کے مختصر حوالے دیے۔ یہ مختصر حوالے بھی بہت مغالطہ آمیز ہیں؛ مثلاً "فلسفی تھیلز" کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ "ہر چیز پانی ہے"۔
بظاہر یہ ایک علمی فقرہ ہے، مگر اس کے پورے قول کو سامنے رکھیے تو وہ ایک توہم پرستانہ عقیدہ معلوم ہوگا۔ کیونکہ پورا قول اس طرح ہے: "ہر چیز پانی ہے، اور دنیا دیوتاؤں سے بھری ہوئی ہے"۔ انگریزی ترجمے میں اس کا پورا فقرہ اس طرح بتایا گیا ہے: "All is water, and the world is full of gods. " انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 16، صفحہ 366۔
تھیلز قدیم یونان کا ایک فلسفی ہے جس کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ یونان کے دوسرے فلسفیوں کی طرح اس کے حالات کے بارے میں مستند معلومات موجود نہیں۔ وہ اگرچہ قدیم دنیا کے ساتھ عقلمند آدمیوں، یعنی سیون وائز مین، میں سے ایک ہے، تاہم آج اس کی کوئی کتاب محفوظ نہیں اور نہ اس کے بارے میں کوئی معاصر ریکارڈ پایا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 9، صفحہ 920۔
حقیقت یہ ہے کہ یونانیوں اور رومیوں دونوں کے لیے سائنس کی راہ میں پیش قدمی کی رکاوٹ صرف ایک تھی، اور وہ ان کا مشرکانہ مزاج تھا۔ ان کے شرک نے ان سے وہ حقیقت پسندانہ ذہن چھین رکھا تھا جو سائنسی تحقیق کے لیے ضروری ہے۔ ایسی حالت میں وہ سائنسی ترقی کرتے تو کس طرح کرتے؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.