← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
علمِ اعداد
Urdu · 9 min
اعداد یعنی ہندسہ، کا موجودہ طریقہ ابتدا میں ہندوستان میں بعض افراد نے ایجاد کیا، تاہم یہ زمانہ وہ تھا جبکہ ہر مروجہ چیز کو مقدس سمجھ لیا جاتا تھا اور ہر نئی چیز کو شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ ہندسے کا یہ طریقہ اس وقت ہندوستان میں رواج نہ پا سکا، وہ صرف بعض انفرادی کتابوں میں بند ہو کر رہ گیا۔ لوگ قدیم طریقے کو مقدس سمجھ کر اس کو پکڑے رہے، وہ نئے طریقے کو اختیار نہ کر سکے۔ اس کے بعد ہندسے کے ان واضحین کو معلوم ہوا کہ بغداد میں ایک سلطنت قائم ہوئی ہے جو نئی چیزوں کی قدردانی کرتی ہے، چنانچہ ایک ہندوستانی 154 ہجری یعنی 771 عیسوی میں سفر کر کے بغداد گیا۔
اس وقت بغداد میں عباسی خلیفہ المنصور کی حکومت تھی۔ ہندوستانی پنڈت نے المنصور کی خدمت میں دو سنسکرت رسالے پیش کیے، ان میں سے ایک "سدھانت" سدھاتنا کے بارے میں تھا، اس کو عربوں نے "سندھ ہند" کا نام دیا۔ اس کا دوسرا رسالہ ریاضی کے بارے میں تھا، المنصور کے حکم سے محمد ابن ابراہیم انفرادی نے 796 تا 806 عیسوی کے درمیان ان کا عربی ترجمہ کیا۔ الخوارزمی 780 تا 850 عیسوی نے اس عربی ترجمے کو پڑھا اور اس کے ذریعے ہندی ہندسے سے واقفیت حاصل کی، جس میں بنیادی گنتی 9 یعنی 1 تا 9 تک تھی، اور اس کے بعد صفر کے اضافے سے تمام گنتیاں بنانے کا طریقہ بتایا گیا تھا۔
الخوارزمی نے اس کو "ہندی ہندسہ" کہا اور اس کو اختیار کرنے کی اپیل کی۔ ہٹی، صفحہ 307 تا 308۔ الخوارزمی کی کتاب کا لاتینی ترجمہ بارہویں صدی میں اڈیلارڈ نے کیا۔ اس طرح گنتی کا یہ فن یورپ پہنچا۔
عربوں نے اگرچہ اس کو "ہندی ہندسہ" کہا تھا، مگر یورپ میں اس کو عربی گنتی یعنی Arabic numerals کا نام دیا گیا۔ عجیب بات ہے کہ الخوارزمی کی عربی کتاب کا نسخہ ضائع ہو گیا، البتہ اس کا لاتینی ترجمہ اب بھی یورپ کی لائبریریوں میں موجود ہے۔ ہٹی، صفحہ 573 تا 574۔ یورپ میں قدیم زمانے میں رومی ہندسہ رائج تھا، وہ یورپ میں 2000 سال تک رائج رہا۔
یہ علامتی حروف کی شکل میں لکھا جاتا تھا، مثلاً 88 کا عدد لکھنے کی صورت یہ تھی: LXXXVIII۔ اس کے نتیجے میں حساب کتاب بے حد دشوار تھا، مگر اہلِ یورپ رومی ہندسے کو مقدس مانتے تھے، وہ اس کو دیوتاؤں کا عطیہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ سوچ نہیں پاتے تھے کہ اس کو بدلیں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔ غیر مقدس اعداد کو مقدس ماننے کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم کے میدان میں وہ سینکڑوں سال تک کوئی ترقی نہ کر سکے۔ یہ اسلامی انقلاب تھا جس نے پہلی بار اعداد کے تقدس کے طلسم کو توڑا، اور پھر یورپ میں علمی ترقی کا دور شروع ہوا۔
لیونارڈو یعنی لیونارڈو فیبوناچی غالباً پیزا یعنی اٹلی میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے، تاہم بعد کی تاریخ میں اس نے غیر معمولی شہرت حاصل کی، کیونکہ یہی وہ شخص ہے جس نے عرب اعداد کو یورپ میں روشناس کرایا۔ اس کا زمانہ بارہویں اور تیرہویں صدی کے درمیان ہے۔ لیونارڈ کا باپ الجزائر میں تجارت کرتا تھا۔
اس نے اپنے بیٹے کو ایک عرب استاد کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اس کو حساب کی تعلیم دے۔ عرب استاد نے لیونارڈ کو ہندسہ ہندسے کا علم سکھایا۔ اس کے بعد لیونارڈ نے مصر، شام، سسلی وغیرہ کا سفر کیا۔ اس نے الخوارزمی کی تحریریں پڑھیں۔
عرب اعداد سے پوری واقفیت حاصل کرنے کے بعد اس نے کتابیں لکھ کر ان کو اس سے متعارف کرایا۔ اس نے بتایا کہ اس اصول کے مطابق 9 بنیادی گنتیاں ہیں: 1، 2، 3، 4، 5، 6، 7، 8، 9۔ ان گنتیوں پر صفر کا اضافہ کر کے کوئی بھی عدد بنایا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ بہت جلد یورپ میں تجارتی حسابات کے لیے استعمال ہونے لگا۔
1220 عیسوی میں لیونارڈ کی شہرت اتنی بڑھی کہ اٹلی کے بادشاہ فریگریک نے اس کو اپنے دربار میں بلایا۔ وہاں اس نے بادشاہ کے سامنے اپنے علم کا مظاہرہ کرتے ہوئے عربی ٹائپ یعنی Arabic type پیش کیے۔ عرب اعداد کے طریقے کو جن لوگوں نے یورپ میں شائع کیا، ان میں لیونارڈ کا نام سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 10، صفحہ 817 تا 818۔
ولفریڈ بلنٹ نے لکھا ہے: "فرض کرو کہ اگر اسلام کا طوفان نہ آیا ہوتا تو کیا ہوتا؟ کوئی بھی چیز نہیں ہے جس نے مغرب میں سائنس کی ترقی کو اتنا روکا ہو جتنا کہ بے ڈھنگے رومی ہندسے نے۔ " عربی ہندسے، عربی ہندسہ، جو کہ آٹھویں صدی عیسوی کے آخر میں ہندوستان سے بغداد پہنچا تھا، اگر وہ جلد ہی بعد مغربی یورپ پہنچ جاتا اور یہاں اس کو اختیار کر لیا جاتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بہت سی سائنسی ترقی، جس کو اٹلی کی نشت ثانیہ سے منسوب کیا جاتا ہے، وہ چند سو سال پہلے حاصل ہو جاتی۔ And supposing the tide of Islam had not been stemmed, nothing so delayed the advance of science in the West as the clumsiness of the Roman numerals had the Arabic numerals, which had reached Baghdad from India towards the end of the 8th century, been soon afterwards introduced into and adopted by Western Europe as a whole.
Much of that scientific progress, which we associate with the Renaissance in Italy, might have been achieved several centuries earlier. Wilfred Blunt, The Times, London, April 2, 1976.