Maulana Wahiduddin Khan
21 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

علم اور اسلام

Urdu · 21 min

سکندر اعظم کے بعد بطلیموس ثانی، یعنی ٹالمی سیکنڈ، مصر کے علاقے کا حکمران ہوا۔ اس کا زمانہ تیسری صدی قبل مسیح ہے۔ وہ ذاتی طور پر علم کا قدر دان تھا۔ اس نے اسکندریہ میں ایک کتب خانہ بنایا، جس میں مختلف علوم کی تقریباً 500000 کتابیں تھیں۔

یہی وہ کتب خانہ ہے جو تاریخ میں "کتب خانہ اسکندریہ" یعنی Library of Alexandria کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کتب خانہ بعد کو اسلامی دور سے پہلے تباہ کر دیا گیا۔ اس کتب خانے کے بارے میں غلط طور پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اس کو جلایا گیا، حالانکہ ظہور اسلام سے بہت پہلے، چوتھی صدی عیسوی میں اس کا وجود ختم ہو چکا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 نے لکھا ہے کہ وہ رومی حکومت کے تحت تیسری صدی عیسوی تک موجود تھا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 1، صفحہ 479۔ اس کے بعد وہ باقی نہ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتب خانے کا نصف حصہ جولیس سیزر نے 47 قبل مسیح میں جلایا، تیسری صدی عیسوی میں مسیحیوں کو اس علاقے میں غلبہ حاصل ہوا۔ اس دوران، غالباً 391 عیسوی میں مسیحیوں نے اس کو جلا کر آخری طور پر اسے ختم کیا۔

اس بات کا اعتراف انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے ان الفاظ میں کیا ہے: "These institutions survived until the main museum and library were destroyed during the Civil War of the 3rd century AD. " "A subsidiary library was burned by Christians in AD 391." انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 1، پیج 479۔ دو جگہ اس واضح اعتراف کے باوجود اسی انسائیکلوپیڈیا میں تیسرے مقام پر غیر ضروری طور پر کتب خانے کی بربادی کو مسلم عہد کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ سنسرشپ کے مقالے کے تحت درج ہے کہ اس بات کے مختلف ثبوت موجود ہیں کہ اسکندریہ کا کتب خانہ مختلف مرحلوں میں جلایا گیا: 47 قبل مسیح میں جولیس سیزر کے ذریعے، 391 عیسوی میں مسیحیوں کے ذریعے، 420 عیسوی میں مسلمانوں کے ذریعے۔

بعد کے دونوں موقع پر یہ کہا گیا کہ ان کتابوں سے مسیحیت یا قرآن کو خطرہ ہے۔ "There are many accounts of the burning in several stages of part or all of the library at Alexandria, from the siege of Julius Caesar in 47 BC to its destruction by Christians in AD 391 and by Muslims in 642, in the letter to instances it was alleged that pagan literature presented a danger to the Old and New Testaments or the Quran. " انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 3، پیج 1084۔ یہاں کتب خانہ اسکندریہ کی بربادی کے واقعے کو اسلام کے ساتھ منسوب کرنا کسی طرح درست نہیں۔

خود برٹانیکا کے مذکورہ بالا دو اقتباسات اس کی واضح تردید کر رہے ہیں: "اسلام عین اپنی فطرت کے اعتبار سے علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ " "علم کی حوصلہ شکنی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ " ڈاکٹر فلپ ہٹی نے اپنی کتاب History of the Arabs میں لکھا ہے کہ یہ کہانی کہ کتب خانہ اسکندریہ خلیفہ عمر کے حکم سے برباد کیا گیا، اور شہر کے لاتعداد حماموں کی بھٹیاں چھ مہینے تک کتب خانے کی کتابوں کو جلا کر گرم کی جاتی رہیں۔ یہ ان فرضی قصوں میں سے ہے جو اچھی کہانی مگر بری تاریخ بناتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بطلیموس کا عظیم کتب خانہ اسلام سے بہت پہلے، چار قبل مسیح میں، جولین سیزر کے ذریعے جلایا جا چکا تھا۔ ایک اور کتب خانہ، جو مذکورہ کتب خانے کا ذیلی کتب خانہ تھا، وہ شاہ تھیوڈوسیئس کے حکم سے 389 عیسوی میں جلا دیا گیا۔ اس لیے عرب فتح کے وقت کوئی قابل ذکر کتب خانہ اسکندریہ میں موجود نہ تھا۔ اس لیے عرب فتح کے وقت کوئی قابل ذکر کتب خانہ اسکندریہ میں موجود نہ تھا۔

اور کسی بھی معاصر مصنف نے کبھی خلیفہ عمر کے خلاف یہ الزام نہیں لگایا۔ عبداللطیف البغدادی، جس کی وفات 629 ہجری یعنی 1231 عیسوی میں ہوئی، بظاہر پہلا شخص ہے جس نے بعد کے زمانے میں اس فرضی قصے کو بیان کیا ہے۔ اس نے کیوں ایسا کیا، اس کو ہم نہیں جانتے۔ تاہم اس کا بیان بعد کو نقل کیا گیا، اور بعد کے مصنفوں نے اس کو بڑھا چڑھا کر پھیلایا۔

Philip K. Hetty (History of the Arabs - London, 1970, page 166) اسلامی تہذیب توحید کے اصول پر قائم ہے، اور وہ استثنائی طور پر دوسری قدیم تہذیبوں سے مختلف ہے۔ اسلامی تہذیب نے انسان کو فکری آزادی عطا کی، جو کہ پچھلی تمام تہذیبوں میں مفقود تھی۔ اس طرح اسلامی تہذیب کے ماحول میں علم کو ترقی کے بھرپور مواقع ملے۔

دوسری قدیم تہذیبوں میں یقیناً ایسا ہوا کہ علم کو اور اہل علم کو جبر و تشدد کا شکار بنایا گیا۔ مگر اس معاملے میں اسلامی تہذیب کو دوسری تہذیبوں کے ساتھ جوڑنا بلاشبہ ایک کھلا ہوا تاریخی ظلم ہے۔ بات اتنی ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی دور کا آغاز کرنے والا بھی حقیقتاً یورپ نہیں، بلکہ اسلام تھا۔

یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کے دور میں علم کو حوصلہ افزائی ملی، اور ہر شعبے میں بڑے بڑے اہل علم اور اہل تحقیق پیدا ہوئے۔ اس کا اعتراف عام طور پر مؤرخین نے کیا ہے۔ پروفیسر ہولڈ، یعنی پی ایم ہولڈ، اور دوسرے مستشرکین نے اسلام کی تاریخ پر ایک ضخیم کتاب تیار کی ہے۔

یہ کتاب کیمبرج ہسٹری آف اسلام کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ The Cambridge History of Islam اس کتاب کی جلد 2 بی کے ایک باب میں تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ماضی میں اسلام نے مغربی دنیا کے علوم اور تہذیب پر نہایت گہرے اثرات ڈالے۔ اس باب کا عنوان یہ ہے: "Literary Impact of Islam on the Modern West" تفصیلی معلومات دینے کے بعد مقالہ نگار نے اس باب کے آخر میں لکھا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے دوران علم کا بہاؤ تقریباً تمام تر مشرق سے مغرب کی طرف جاری تھا، جبکہ اسلام مغرب کا معلم بنا ہوا تھا۔ "During the Middle Ages the trend was almost entirely from East to West when Islam acted as the teacher of the West" پیج 888-89۔

بیرن کیارا دی واکس ایک فرانسیسی مستشرق ہے۔ اس نے اعتراف کیا ہے کہ عربوں نے واقعتاً سائنس میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ "The Arabs have really achieved great things in science" تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ امید نہیں کرنا چاہیے کہ عربوں میں وہی اعلیٰ قابلیت، وہی علمی تخیل، وہی جوش اور وہی فکری نیا پن موجود ہوگا جو یونانیوں میں تھا۔ عرب سب سے پہلے یونانیوں کے شاگرد ہیں۔

ان کی سائنس دراصل یونانی سائنس کا ایک تسلسل ہے۔ "The Legacy of Islam (1931) مینڈگمری واٹ نے مذکورہ بیان کا ذکر صفحہ 226 کرتے ہوئے اس خیال کی تردید کی ہے کہ عرب صرف یونانی مترجم تھے۔ انہوں نے عربوں کو منتقل کرنے والے سے زیادہ آگے کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ عرب سائنس اور فلسفے نے یورپ کی ترقی میں بہت بڑا حصہ لیا ہے۔

"Arab science and philosophy contributed greatly to developments in Europe" پیج 232۔ مگر اسی کے ساتھ مونٹگمری واٹ نے ایک ایسی بات کہی ہے جو اول الذکر سے بھی زیادہ قابلِ اعتراض ہے۔ مونٹگمری واٹ نے لکھا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب یونانیوں کے شاگرد تھے۔ عربی میں سائنس اور فلسفہ یونانی ترجموں کی تحریک سے آیا۔

"Science and philosophy in Arabic came into existence through the stimulus of translations from Greek" پیج 226۔ مونٹگمری واٹ کا یہ بیان صحیح نہیں کہ عربوں میں سائنسی خیالات پیدا ہونے کا محرک یونان تھا۔ بات یوں نہیں ہے کہ عربوں نے یونانی ترجمے پڑھے، اس کے بعد ان کے اندر سائنسی طرز فکر آیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان کے اندر قرآن اور موحدانہ عقیدے کے ذریعے سائنسی طرز فکر آیا۔

اس کے بعد انہوں نے یونان اور دوسرے ملکوں کی کتابوں کے ترجمے کیے، نیز خود اپنی تحقیق سے سائنس اور فلسفے میں اضافہ کیا۔ تاریخ کے محققین نے کہا ہے کہ اگرچہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عرب سائنس اور فلسفے میں یونانیوں کے شاگرد تھے، مگر یہ بھی صحیح ہے کہ وہ یونانی علوم کے صرف مترجم نہ تھے، انہوں نے خود اپنی طرف سے اس میں بہت زیادہ اضافے کیے۔ مونٹگمری واٹ، صفحہ 226۔ مثلاً عربوں نے یونان سے طب کا علم لیا، اس کے بعد انہوں نے طب کو مزید ترقی یہ دی کہ انہوں نے طبی کالج اور ہسپتال قائم کیے جو کہ اس سے پہلے یونان میں موجود نہ تھے۔

خلافت عباسی کے دور میں بغداد میں دنیا کا پہلا طبی کالج قائم کیا گیا۔ قاہرہ میں ایک ہسپتال بنایا گیا جس میں بیک وقت 8000 آدمی رہ سکتے تھے۔ اس میں عورتوں اور مردوں کے لیے علیحدہ وارڈ بنے ہوئے تھے۔ اسی طرح مختلف بیماریوں کے لیے الگ الگ شعبے تھے۔

ہر مرض کے ماہر طبہ کی خدمات اس کے لیے حاصل کی گئی تھیں۔ اس میں دوسرے مختلف انتظامات کے ساتھ لائبریری اور لیکچر روم بھی موجود تھے۔ مونٹگمری واٹ، صفحہ 227۔ اسی طرح عربوں نے اپنی تحقیق سے فن طب میں غیر معمولی اضافے کیے۔

زکریا الرازی، متوفی 923 عیسوی، نے دنیا کی پہلی طبی انسائیکلوپیڈیا "الحاوی" تیار کی۔ اس ضخیم کتاب میں ہر قسم کے امراض اور ان کی دواؤں کا مفصل تذکرہ تھا۔ یہ کتاب اس کے بعد اس کے شاگردوں نے مکمل کی۔ الرازی نے اس میں ہر بیماری کے بارے میں یونانی، شامی، ہندوستانی، ایرانی اور عرب علماء کے نظریات بیان کیے۔

اور پھر اپنے تجربات اور اپنی تحقیقات کا ذکر کیا۔ یہ کتاب لاطینی زبان میں "Continents" کے نام سے ترجمہ ہوئی اور پھر یورپ میں پھیلی۔ ابن سینا، متوفی 1027 عیسوی، نے عرب اطبہ کے درمیان غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ اس کی مشہور کتاب "القانون فی الطب" بارہویں صدی میں لاطینی میں ترجمہ ہو کر یورپ میں شائع ہوئی۔

اس کا نام "Canon of Medicine" تھا۔ اس کتاب کو یورپ میں جالینیئس اور بقرات کی کتابوں سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ابن سینا کی کتاب یورپ کی طبی دنیا پر سولہویں صدی تک چھائی رہی۔ صرف پندرہویں صدی میں یورپ میں اس کے 16 ایڈیشن چھپ کر شائع ہوئے۔

عرب طب گیارہویں صدی کے آغاز میں اپنے نقطہ عروج کو پہنچ گیا، اور اس کے بعد وہ سترہویں صدی تک باقی رہا۔ مونٹگمری واٹ، صفحہ 228۔ "Montgomery Watt: The Majesty That Was Islam" لندن، 1984۔ عبداللہ بن البطار، وفات 1248 عیسوی، نباتات کا بہت بڑا ماہر تھا۔

فلپ ہٹی نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے نباتات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے کا سفر کیا۔ اس نے بے شمار پودوں کی طبی اہمیت کے بارے میں تحقیق کی اور ان کا ذاتی تجربہ کیا۔ عبداللہ بن البطار نے تحقیق اور تجربے کے بعد دو مفصل کتابیں لکھیں جن میں تقریباً ڈیڑھ ہزار پودوں کے بارے میں معلومات درج ہیں۔ اس کی کتابیں اپنے زمانے میں اس موضوع پر سب سے زیادہ جامع کتابیں تھیں۔

1758 عیسوی میں اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں ہوا۔ اس کے بعد البطار کی تحقیقات یورپ میں پھیلی اور اہل یورپ کو علمی روشنی دینے کا ذریعہ بنی۔ صفحہ 75 تا 76۔ طب، فلکیات اور ریاضی کے بعد مسلم عہد کا سب سے بڑا سائنسی عطیہ کیمسٹری ہے۔

مسلم سائنس دانوں نے علم کیمیا کو کیمیا گری کے دائرے سے نکالا اور اس کو ایک باقاعدہ تجرباتی علم کا درجہ دے دیا۔ انہی کے ذریعے سے دنیا پہلی بار سائنسی طریقہ کار، یعنی سائنٹیفک میتھڈ سے متعارف ہوئی۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے فزیکل علوم میں خارجی تجربے کو رواج دیا۔ یہ یونانیوں کے الجھے ہوئے قیاسات پر ایک مانا ہوا ارتقاء تھا۔

جابر ابن حیان، 721 تا 815 عیسوی کا نام، الرازی کے بعد قرون وسطیٰ میں کیمیکل سائنس کے میدان میں سب سے بڑا نام ہے۔ فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ جابر ابن حیان نے تجربے کی اہمیت کو اس سے زیادہ واضح طور پر مانا اور بیان کیا جتنا کسی بھی قدیم کیمیا دان نے نہیں کیا تھا۔ اس نے کیمیا میں نظری اور عملی دونوں اعتبار سے قابل ذکر ترقی کی۔ "He more clearly recognized and stated the importance of experimentation that any other early alchemist had made noteworthy advance in both the theory and practice of chemistry" پیج 380۔

جابر کی کتابیں پندرہویں صدی عیسوی تک یورپ میں علم کیمیا میں آخری سند کا درجہ رکھتی تھیں۔ اٹھارہویں صدی کے ترقی یافتہ مغربی کیمسٹری کا ابتدائی زینہ جابر ابن حیان ہی نے فراہم کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جابر ابن حیان نے مختلف علوم پر تقریباً دو ہزار کتابیں تصنیف کی تھیں۔ مسلمانوں سے پہلے ایسا کوئی مصنف نہیں گزرا جس نے اتنی زیادہ علمی کتابیں لکھی ہوں۔

یہ صرف چند متفرق اور غیر مرتب حوالے ہیں۔ تاہم یہ حوالے اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اسلام علم کا دشمن نہیں، بلکہ اسلام علم کا سرپرست ہے۔ قدیم زمانے میں علم دشمنی کی روایت ان مذاہب نے قائم کی جو شرک اور توہم پرستی پر کھڑے ہوئے تھے۔ اسلام نے شرک اور توہم پرستی کو ختم کیا اور مذہب کو خالص توحید کی بنیاد پر قائم کیا۔

ایسی حالت میں اس کا سوال ہی نہیں۔ ایسی حالت میں اس کا سوال ہی نہیں کہ اسلام علم اور تحقیق کا دشمن بنے۔ علم کی ترقی شرک کی قاتل ہے۔ اس لیے مشرکانہ مذہب علم کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

مگر توحید کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ علم کی ترقی توحید کو مزید ثابت اور مستحکم بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موحدانہ مذہب علم کی ترقی کی مکمل حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لیے مورس بکائی، 1920 تا 1998 کی کتاب کا مطالعہ کافی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.