Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

ترقی کی طرف سفر

Urdu · 13 min

حضرت مسیح سے پہلے دنیا میں 4 تمدنی مرکز تھے: ایران، چین، ہندوستان، یونان۔ عباسی خلیفہ المنصور نے 762 عیسوی میں بغداد شہر آباد کیا، اس نے مختلف علاقوں کے علما اور دانشوروں کو جمع کیا، اور دوسری زبانوں سے ترجمے کی حوصلہ افزائی کی۔ ریاست کی سرپرستی میں یہ کام شروع ہو گیا۔ 832 عیسوی میں خلیفہ المامون نے بغداد میں بیت الحکمت، یعنی House of Wisdom، کی بنیاد رکھی۔

اسی کے ساتھ اس نے ایک رستگاہ، یعنی Observatory، ایک کتب خانہ اور ایک دارالترجمہ قائم کیا۔ یہاں دوسری زبانوں سے عربی ترجموں کا کام اتنے وسیع پیمانے پر شروع ہوا کہ قیامِ بغداد کے اسی سال کے اندر یونانی کتابوں کا بیشتر ذخیرہ عربوں کی تحویل میں آ گیا۔ عباسی دور میں کاغذ سازی ایک گھریلو سند بن چکی تھی، چنانچہ کثرت سے کتابیں لکھی جانے لگیں۔ 10ویں صدی میں قرطبہ، یعنی اسپین کے کتب خانے میں 400,000 سے زیادہ کتابیں موجود تھیں۔

اس زمانے میں یورپ کا یہ حال تھا کہ کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق کینٹربری کا کتب خانہ 13ویں صدی میں اپنی 1,800 کتابوں کے ساتھ مسیحی کتب خانوں کی فہرست میں پہلے نمبر کی حیثیت رکھتا تھا۔ جغرافیہ میں 9ویں صدی عیسوی کے نصف اول میں خوارزمی اور اس کے ساتھیوں نے معلوم کیا تھا کہ زمین کا محیط 20,000 اور اس کا نصف قطر 6,500 میل ہے۔ یہ صحت نہایت حیرت انگیز ہے۔ دنیائے اسلام میں یہ سرگرمیاں ایسے زمانے میں جاری تھیں جبکہ سارے کا سارا یورپ زمین کے چپٹی ہونے کا قائل تھا۔

12ویں صدی کے وسط میں الادریسی نے دنیا کا ایک نقشہ بنایا۔ اس نقشے میں اس نے دریائے نیل کا منبع بھی دکھایا، جسے اہلِ یورپ کہیں 19ویں صدی میں جا کر دریافت کرنے کے قابل بنے۔ مسلمانوں نے اہلِ یورپ کو زمین گول ہونے کا عقیدہ اور مدوجزر کے اسباب کا تقریباً صحیح نظریہ منتقل کیا۔ بطلیموس، یعنی ٹالمی، 2ویں صدی عیسوی کا مشہور یونانی عالمِ فلکیات ہے۔

اس نے نظامِ شمسی کا زمین مرکزی، یعنی Earth-centered، نظریہ پیش کیا۔ اس موضوع پر اس کی کتاب "المجست" بہت مشہور ہے۔ بطلیموس کا نظریہ تقریباً 1,500 سال تک عالمی ذہن پر چھایا رہا، یہاں تک کہ 16ویں صدی عیسوی میں کوپرنیکس اور گلیلیو اور کیپلر کی تحقیقات نے آخری طور پر اس کو غلط ثابت کر دیا۔ اب ساری دنیا میں کوئی اس کا ماننے والا نہیں۔

گردشِ زمین کے بارے میں ایک غلط نظریے کے اتنی لمبی مدت تک غالب رہنے کی وجہ دراصل غیر مقدس کو مقدس بنانے کی غلطی تھی۔ مسیحی حضرات کا یہ عقیدہ تھا کہ زمین ایک مقدس قرعہ ہے، کیونکہ وہ خدا کے بیٹے، یعنی مسیح کی جنم بھومی ہے۔ اس بنا پر یہ بات انہیں اپنے مفروضہ عقیدے کے عین مطابق نظر آئی کہ زمین مرکز ہو اور ساری کائنات اس کے گرد گھوم رہی ہو۔ زمین کے تقدس کا یہ نظریہ مسیحی حضرات کے لیے اس میں مانع ہو گیا کہ وہ اس کی مزید چھان بین کریں۔

وہ اس وقت تک اس پر قائم رہے جب تک حقائق کے طوفان نے انہیں ماننے کے لیے مجبور نہ کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 نے لکھا ہے کہ قدیم نظریۂ کائنات کے مطابق زمین کائنات کا مرکز تھی، انسان زمین کی سب سے اعلیٰ مخلوق تھا، اور انسان کی نجات، یعنی بذریعہ کفارہ، پوری زمین و آسمان کا سب سے زیادہ مرکزی واقعہ تھا۔ یہ دریافت کہ زمین بہت سے سیاروں میں سے ایک سیارہ ہے جو کہ سورج کے گرد گھوم رہے ہے، اور یہ کہ سورج کائنات کی انگنت کہکشاؤں میں صرف ایک ناقابلِ لحاظ ستارہ ہے، اس نے انسان کے بارے میں قدیم، یعنی مسیحی، تصور کو ہلا دیا۔ زمین وسیع تر کائنات کے مقابلے میں صرف ایک چھوٹا سا گرد کا دھبہ نظر آنے لگی۔

نیوٹن اور دوسرے لوگوں نے اس سوال کی تحقیق شروع کی کہ انسان جو ذرے کا ذرہ ہے، کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کو یہ مقدس حیثیت حاصل ہے کہ وہ اس کی منزل خداوندی نقشے میں معراج کی حیثیت رکھتے ہیں؟ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 522: مسیحی حضرات نے حضرت مسیح کو مقدس خدائی تثلیث کا ایک حصہ مان لیا، اور یہ مفروضہ عقیدہ بنایا کہ خدا کے بیٹے کا انسانی کفارے کے لیے صلیب پر چڑھنا تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے جو زمین پر پیش آیا۔ اس طرح زمین ان کے اعتقادی خانے میں ایک مقدس حیثیت حاصل کر گئی۔ وہ ہر ایسی سوچ کے شدید ترین مخالف بن گئے جس میں زمین کی مرکزی حیثیت ختم ہوتی ہو۔

مسیحی حضرات کا یہ عقیدہ ان کے لیے نظامِ شمسی کی آزادانہ تحقیق میں حائل ہو گیا۔ اسی طرح غیر مقدس کو مقدس بنانا قدیم زمانے میں تمام ترقیوں کا دروازہ روکے ہوئے تھے۔ چاند کو مقدس بنانا اس میں مانع تھا کہ انسان اس کے اوپر اپنا پاؤں رکھنے کی بات سوچ سکے۔ دریا کو مقدس سمجھنا اس میں مانع ہو گیا کہ انسان دریا کو مسخر کر کے اس سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنائے۔

گائے کو مقدس سمجھنا اس میں مانع بن گیا کہ انسان اس کے گوشت کی پروٹینی اہمیت کو سمجھے اور اس کو اپنی خوراک بنائے۔ اس قسم کی تمام تحقیقی و تسخیر کا کام صرف اس وقت شروع ہو سکا جبکہ اشیائے فطرت کو تقدس کے مقام سے ہٹایا گیا اور اس کو اس سطح پر لایا گیا جہاں انسان ان کو ایک عام چیز کی حیثیت سے دیکھ سکے۔ اسلام سے پہلے ستاروں کو صرف پرستش کا موضوع سمجھا جاتا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار بڑے پیمانے پر انسان نے رستگاہیں قائم کیں اور ان کو مطالعے کا موضوع بنایا۔

زمینی معدنیات کو اب تک تقدس کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اہلِ اسلام نے پہلی بار کیمسٹری کا فن دریافت کر کے مادے کو تحقیق و تجزیے کا موضوع بنایا۔ زمین کو اب تک خدائی چیز سمجھا جاتا تھا، مثلاً یہ کہ آسمان مذکر دیوتا ہے اور زمین مؤنث دیوتا۔ مسلمانوں نے پہلی بار اس کی پیمائش کر کے اس کا طول و عرض معلوم کیا۔

سمندر کو انسان اب تک صرف پوجنے کی چیز سمجھتا تھا۔ مسلمانوں نے پہلی بار اس کو وسیع پیمانے پر آبی گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا۔ طوفان اور ہوا کو انسان پراسرار چیز سمجھ کر پوجتا تھا۔ مسلمانوں نے اس کو ہوا چکی، یعنی windmill، میں تبدیل کر دیا۔

درختوں سے پراسرار کہانیاں وابستہ کر کے ان کو قابلِ تعظیم سمجھا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے ان پر تحقیق شروع کی، حتیٰ کہ انہوں نے نباتات کی علمی فہرست میں مجموعی طور پر 2,000 پودوں کا اضافہ کیا، جن دریاؤں کو لوگ مقدس سمجھتے تھے اور ان کو خشک کرنے کے لیے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو زندہ حالت میں اس کے اندر ڈال دیتے تھے۔ ان دریاؤں سے نہریں کاٹ کر آبپاشی کے لیے استعمال کیا اور زراعت کو بالکل نئے دور میں داخل کر دیا۔ اس زمانے میں مسلمان دوسری قوموں سے اتنا زیادہ آگے تھے کہ مسلمان جب اسپین سے ملک بدر کیے گئے تو انہوں نے وہاں رستگاہیں چھوڑیں، جن کے ذریعے وہ آسمانی اجرام کا مطالعہ کرتے تھے۔

ان چھوڑی ہوئی رستگاہوں کا استعمال اسپین کے عیسائی نہیں جانتے تھے، چنانچہ انہوں نے ان کو کلیسا کے گھنٹہ گھر میں تبدیل کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شرک اور توہم پرستی کا غلبہ تھا، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی شرک اور توہم پرستی ہر قسم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اسلام کے ذریعے توحید کا جو انقلاب آیا، اس نے تاریخ میں پہلی بار شرک اور توہم پرستی کے غلبے کو عملاً ختم کیا۔ اس کے بعد عین اس کے فطری نتیجے کے طور پر انسانی تاریخ ترقی کے راستے پر چل پڑی۔

قدیم زمانے میں بعض ملکوں میں کچھ تخلیقی ذہن، یعنی creative mind، پیدا ہوئے۔ انہوں نے ماحول سے الگ ہو کر سوچا، مگر ماحول کی عدم مساعدت بلکہ مخالفت کی وجہ سے ان کی کوشش آگے نہ بڑھ سکی۔ ان کے علم کی کلی پھول بننے سے پہلے اپنی شاخ پر مرجھا کر رہ گئی۔ اسلامی انقلاب نے جب اس کے موافق ماحول پیدا کیا تو علم کا وہ سیلاب پوری تیزی سے بہہ پڑا جو ہزاروں سال سے توہمات کے بند کے پیچھے رکا ہوا تھا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.