Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

جدید انسان

Urdu · 5 min

موجودہ صدی کے آغاز تک متمدن دنیا میں عام طور پر سمجھا جاتا تھا کہ ترقی کا راز سادہ طور پر یہ ہے کہ انسانی قافلے کو روایت یعنی ٹریڈیشن سے جدت یعنی ماڈرنٹی تک پہنچا دیا جائے۔ مگر اس سفر کے تکمیلی مرحلے میں پہنچ کر انسان دوبارہ مایوسی کا شکار ہے۔ اس کو محسوس ہو رہا ہے، اس کو محسوس ہو رہا ہے کہ انسان کی حقیقی ترقی کے لیے اس سے زیادہ گہری بنیاد درکار ہے۔ چنانچہ اب کثرت سے ایسے مضامین چھپ رہے ہیں جن کا عنوان مثلاً یہ ہوتا ہے: "Shallow or the Roots" ۔

اب خود مغربی دنیا میں یہ بات مصنفین کے لیے، ان کے قلم کا موضوع بن رہی ہے۔ ان میں سے ایک کتاب پروفیسر کنولی کی ہے جو 1988 میں چھپ کر سامنے آئی ہے: "William E. Connolly: Political Theory and Modernity" ۔ بلیک ویل، لندن، 1988۔

پروفیسر کنولی کہتے ہیں کہ جدت پسندی کا پورا منصوبہ اپنی ظاہری کامیابیوں کے باوجود بہت زیادہ مسائل سے بھرا ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا کو ہٹانے کے بعد آغازِ کار میں تعقل، رائے عامہ، اسدادِ تاریخ کے ذریعے اس کو جگہ، اس کی جگہ کو پر کرنے کی تمام کوششیں بے فائدہ ثابت ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی قسم کی انکاریت پر جا کر ختم ہوئی ہے۔ "The whole project of modernity, despite its stunning success, is highly problematic.

This is because all attempts to fill the place which God was forced to vacate at the start of the project, with reason, with the general will, the dialectic of history have been of no avail, and each has ended ended up in one kind of nihilism or another. " اسلام سے پہلے کا دور شرک کے غلبے کا دور تھا۔ اس زمانے میں انسان کے ذہن پر مشرکانہ افکار چھائے ہوئے تھے۔ مخلوقات یعنی کریشنز نے خالق یعنی کریٹر کا مقام حاصل کر لیا تھا۔

انسان بے شمار خداؤں کا پرستار بنا ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں انسان کی پوری سوچ بگڑ گئی اور اس کے اوپر تمام ترقیوں کا دروازہ بند ہو گیا۔ اس کے بعد اسلام کا ظہور ہوا۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ تھا کہ شرک کے غلبے کو ختم کر کے توحید کو غلبے کا مقام دیا جائے۔

پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں شرک کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا اور توحید کو غلبے کا مقام حاصل ہو گیا۔ یہ انقلاب اتنا دور رس تھا کہ تاریخ میں پہلی بار شرک کا دور ختم ہو گیا اور اس کے بجائے توحید کے دور کا آغاز ہوا۔ یہ دورِ توحید تقریباً ایک ہزار سال تک اپنی پوری قوت کے ساتھ جاری رہا۔ اس کے بعد جدید صنعتی تہذیب کا ظہور ہوا۔

یہ تہذیب اولاً اسلامی انقلاب کے زیر اثر مغربی یورپ میں پیدا ہوئی۔ اس کے بعد اس کے اثرات ساری دنیا میں پھیل گئے۔ اس تہذیب کا جو حصہ برا ہے وہ انسان کی اپنی آمیزش ہے اور اس کا جو حصہ بہتر ہے وہ اسلامی انقلاب کے اثرات کا تسلسل ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.