Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Islam Aur Asr-e-Hazir
Islam Aur Asr-e-Hazir

دوسری دنیا

Urdu · 12 min

اب اس سوال پر غور کیجیے کہ دوسری زندگی کیسی ہوگی۔ خدا کے رسول کہتے ہیں کہ وہاں جنت اور دوزخ ہے۔ ہر شخص جو مرتا ہے وہ ان دو میں سے کسی ایک کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔ جو شخص آج کی دنیا میں خدا کا فرمانبردار ہوگا اور نیک عمل کرے گا اس کو جنت کی آرام گاہ میں جگہ ملے گی۔ اور جو بدکردار اور خدا کا نافرمان ہوگا اس کو جہنم کی تکلیفوں میں ڈالا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت پر غور کیجیے کہ انسان جو کام بھی کرتا ہے اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایک واقعہ ہے جیسے کہ بہت سے واقعات ہوتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ وہ خاص ارادے کے تحت کیا گیا ہے۔ پہلی حیثیت کو ہم واقعاتی کہہ سکتے ہیں اور دوسری کو اخلاقی۔ ایک مثال سے اس کو مزید وضاحت ہو جائے گی۔

اگر کسی درخت پر کوئی پتھر اٹکا ہوا ہو، آپ اس کے نیچے سے گزریں اور یکا یک پتھر آپ کے اوپر گر پڑے اور آپ کا سر ٹوٹ جائے تو آپ درخت سے لڑائی نہیں کریں گے نہ اس پر خفا ہوں گے بلکہ خاموشی سے اپنا سر پکڑے ہوئے گھر چلے جائیں گے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے جس سے آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس پر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے۔

درخت اور انسان میں یہ فرق کیوں ہے۔ کیوں آپ درخت سے بدلہ نہیں لیتے اور انسان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ درخت اس احساس و شعور سے خالی ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ درخت کا عمل صرف واقعاتی نوعیت رکھتا ہے جب کہ انسان کا عمل واقعاتی اور اخلاقی دونوں ہے۔

اس سے ظاہر ہوا کہ انسان کے عمل کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی وجہ سے کوئی واقعہ دنیا میں ظاہر ہوا۔ دوسرے یہ کہ وہ عمل جائز تھا یا ناجائز۔ صحیح جذبے سے کیا گیا تھا یا غلط جذبے سے۔ اس کو ہونا چاہیے تھا یا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جہاں تک عمل کی پہلی حیثیت کا تعلق ہے اس کا پورا انجام اسی دنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ مگر اس کی دوسری حیثیت کا انجام اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا۔ اور کبھی ظاہر ہوتا ہے تو نہایت ناقص شکل میں۔ جس شخص نے آپ کو پتھر مارا اس کے عمل کا یہ انجام تو فوراً ظاہر ہوگیا کہ آپ کا سر ٹوٹ گیا مگر اس کے عمل کا دوسرا انجام کہ اس نے اپنی قوتوں کا غلط استعمال کیا اس کا انجام ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس نے چاہا تھا کہ سرتوڑے اور سر ٹوٹ گیا۔ اس نے چاہا تھا کہ ایک غلط کام کرے مگر اس کے اس دوسرے ارادے کا کوئی نتیجہ ہمارے سامنے نہیں آیا۔ نتیجہ نام ہے انسانی ارادے کے خارجی ظہور کا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ارادے کا ایک نتیجہ(واقعاتی نتیجہ) ہمیشہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ پھر انسانی ارادے کا دوسرا نتیجہ— اخلاقی نتیجہ — بھی ضرور ظاہر ہونا چاہیے۔

آخرت انسانی عمل کے اسی دوسرے پہلو کا مکمل انجام ظاہر ہونے کی جگہ ہے۔ جس طرح آدمی کے عمل کا ایک پہلو کچھ واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ اسی طرح اس کے عمل کا دوسرا پہلو کچھ دوسرے واقعات کو پیدا کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلی قسم کے واقعات کو ہم اسی دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور دوسری قسم کے واقعات کو ہم مرنے کے بعد دیکھیں گے۔

ہر آدمی جو دنیا میں زندگی گزار رہا ہے وہ اپنے عمل سے اپنے لیے کوئی نہ کوئی نتیجہ پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ خواہ وہ بیکار بیٹھا ہو یا کسی کام میں مشغول ہو، اس کی ہر حالت اس کے موافق یا مخالف ایک ردعمل پیدا کرتی ہے۔ اس کے عادات و اخلاق سے لوگ اس کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوتوں کو جس طرح استعمال کرتا ہے اسی کے لحاظ سے اس کے کام بنتے یا بگڑتے ہیں، وہ اپنی کوششوں کو جس چیز میں لگاتا ہے اس نوعیت کی چیزوں پر اس کا حق قائم ہوتا ہے۔

غرض ہر شخص اپنے گردوپیش اپنی ایک دنیا کی تخلیق کر رہا ہے جو عین اس کے عمل کے مطابق ہے۔ یہ آدمی کے عمل کا ایک پہلو ہے جو موجودہ دنیا سے متعلق ہے۔ اسی طرح اس کے کام کی دوسری حیثیت، صحیح یا غلط ہونے کی حیثیت بھی اپنا ایک انجام پیدا کرتی ہے جو دوسری دنیا میں ذخیرہ ہو رہا ہے۔ ہمارے عمل کا اخلاقی پہلو مستقل طور پر اپنے انجام کی تخلیق کر رہا ہے اور اسی کا نام مذہب کی اصطلاح میں جنت اور دوزخ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہر آن اپنے لیے جنت یا دوزخ تعمیر کر رہا ہے۔ چونکہ اس دنیا میں آدمی کو امتحان کی غرض سے ٹھہرایا گیا ہے اس لیے جنت اور دوزخ اس کی نگاہوں سے اوجھل رکھی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور قیامت آئے گی تو ہر شخص اپنی تعمیر کی ہوئی دنیا میں پہنچا دیا جائے گا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے عمل کا کوئی اخلاقی انجام ہے تو وہ ہم کو نظر کیوں نہیں آتا۔ مثلاً مکان بنانا ایک عمل ہے جس کا انجام یہ ہے کہ مکان بن کر کھڑا ہو جائے۔ یہ انجام ظاہر ہوتا ہے اور اس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ مگر اس عمل کا یہ پہلو کہ وہ جائز طریقے پر بنایا گیا ہے یا ناجائز طریقے پر، یہ بھی اگر کوئی انجام پیدا کرتا ہے تو وہ کہاں ہے۔ کیا ایسا بھی کوئی انجام ہو سکتا ہے جس کو دیکھا اور چھوا نہ جا سکتا ہو۔

اس کا جواب خود عمل کی ان دونوں حیثیتوں میں موجود ہے۔ کسی عمل کی جو واقعاتی حیثیت ہے اس کو ہر شخص دیکھتا ہے حتیٰ کہ کیمرے کی بے جان آنکھ بھی اس کو صاف طور پر دیکھ لیتی ہے۔ مگر کسی عمل کی اخلاقی حیثیت نظر آنے والی چیز نہیں ہے۔ وہ صرف محسوس ہوتی ہے دیکھی نہیں جاتی۔ عمل کی دونوں حیثیتوں کا یہ فرق خود اشارہ کر رہا ہے کہ دونوں قسم کا انجام کس طرح ظاہر ہونا چاہیے۔ یہ اس بات کا صریح اشارہ ہے کہ عمل کی پہلی حیثیت کا انجام اسی دنیا میں نظر آنا چاہیے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور عمل کی دوسری حیثیت کا انجام اس دنیا میں نظر آئے گا جو ابھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ گویا جو کچھ ہے، یہی دراصل ہونا بھی چاہیے تھا۔

مگر یہ صرف عقلی امکان ہی کی بات نہیں ہے۔ کائنات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بالفعل یہاں دونوں قسم کے انجام پائے جاتے ہیں۔ ایسے بھی جنہیں ہم واقع ہونے کے بعد فوراً دیکھ لیں اور ایسے بھی جو اگرچہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتے مگر وہ ایک حقیقت کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ کائنات میں ایسے غیر مرئی نتائج کا موجود ہونا صریح طورپر ظاہر کرتا ہے کہ اسی قسم کے دوسرے غیر مرئی نتائج بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ کائنات کی تخلیق اپنے اندر ایسے نتائج کے ہونے کا اقرار کرتی ہے۔

مثال کے طور پر آواز کو لیجیے۔ آپ جانتے ہیں کہ آواز نام ہے ایسی لہروں کا جن کو آنکھ کے ذریعہ دیکھا نہیں جا سکتا۔ جب ہم بولنے کے لیے زبان کو حرکت دیتے ہیں تو اس کی حرکت سے ہوا میں کچھ لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ انہیں لہروں کو ہم آواز کہتے ہیں۔ آواز ایک طرح کا غیر مرئی نقش ہے جو ہماری زبان کے ہلنے سے ہوا میں پیدا ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص بولتا ہے تو اس کی آواز لہروں کی شکل میں نقش ہو جاتی ہے۔ اور مستقل طور پر باقی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اب سے ہزاروں برس پہلے کسی انسان نے جو آواز اپنے منہ سے نکالی تھی، جو گفتگو یا تقریر کی تھی سب کی سب ہوا کے اندر لہروں کی شکل میں موجود ہے۔ اگرچہ آج ہم ان آوازوں کو نہیں دیکھتے اور نہ اسے سنتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے پاس ان کو گرفت کرنے والے آلات ہوں تو کسی بھی وقت ان کو بعینہٖ اپنی سابق شکل میں دہرایا جا سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مثال کے ذریعہ ہم دوسری دنیا کے مسئلے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جس طرح ہمارے چاروں طرف ہوا کا ایک غلاف ہے۔ اور ہماری ہر آواز منہ سے نکلتے ہی اس پر نقش ہو جاتی ہے۔ حالانکہ نہ ہم ہوا کو دیکھتے ہیں اور نہ اپنی آواز کے نقوش کو۔ ٹھیک اسی طرح وہ دوسری دنیا بھی ہم کو چاروںطرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اور ہماری نیتوں اور ارادوں کو مسلسل ریکارڈ کرتی جا رہی ہے۔ اس کے پردے پر ہمارے اعمال کے نقوش ثبت ہو رہے ہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو جائیں گے۔ گرامو فون میں چابی بھری ہوئی ہو اور ریکارڈ اس کے اوپر گھوم رہا ہو تو سوئی رکھتے ہی ریکارڈ کی خاموش تختی یکایک اس طرح بول پڑتی ہے۔ جیسے وہ اسی کی منتظر تھی کہ کوئی اس کے اوپر سوئی رکھے اور وہ اپنے اندر کی آواز نکالنا شروع کر دے۔ اسی طرح ہمارے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے اور جب کائنات کا مالک حکم دے گا تو سارا ریکارڈ اس طرح سامنے آ جائے گا کہ اس کو دیکھ کر آدمی بے اختیار کہے گا  مالِ هذَا الْكِتابِ لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَاّ أَحْصاها (17:49)۔ یعنی، یہ کیسی کتاب ہے۔ میرا چھوٹا بڑا کوئی عمل ا یسا نہیں ہے جو اس نے محفوظ نہ کر لیا ہو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content