آخری بات
اوپرمیں نے جو کچھ بیان کیا ہے۔اب آخر میں پھرایک بار اس کو اپنے ذہن میں دہرا لیجیے۔ آپ کی زندگی ایک نہایت طویل اور مسلسل زندگی ہے۔موت اس زندگی کی آخری حد نہیں ہے بلکہ وہ اس کے دوسرے دور کی ابتداء ہے۔ موت ہماری زندگی کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل قائم کرتی ہے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ کسان ایک فصل بوتا ہے، اس پر کوشش کرتا ہے۔ اپنا سرمایہ اس میں لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ فصل تیار ہو کر سوکھ جاتی ہے۔ اس وقت وہ اسے کاٹ لیتا ہے تاکہ اس سے غلّہ حاصل کر کے اپنی سال بھرکی خوراک کا انتظام کرے۔ فصل کا کٹنا فصل کے ایک دور کا ختم ہونا اور اس کے دوسرے دور کا آغاز ہونا ہے۔ اس سے پہلے بونا اور فصل کو تیارکرنا تھا۔ اس کے بعد اس کا پھل حاصل کرنا اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرنا ہے۔ فصل کٹنے سے پہلے صرف کوشش اور خرچ تھا اور فصل کٹنے کے بعد صرف اپنی محنت کا نتیجہ پانا اور اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔
ٹھیک یہی حال ہماری زندگی کا بھی ہے۔ ہم اس دنیا میں اپنی آخرت کی فصل تیار کر رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص آخرت میں اپنا ایک کھیت رکھتاہے جس میں وہ یا تو کاشت کر رہا ہے یا اس کو خالی چھوڑے ہوئے ہے۔ اس نے یا تو خراب بیج استعمال کیےہیں یا اچھے بیچ ڈالے ہیں۔ اس نے بیج ڈال کر یا تو اسے چھوڑ دیا ہے یا وہ بیج ڈالنے کے بعد مسلسل اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس نے یا تو کانٹوں کی فصل بوئی ہے یا پھل اور پھول اگائے ہیں۔ وہ یا تو اپنی ساری قوت اس کھیتی کو بہتر بنانے میں لگائے ہوئے ہے یا دوسرے غیر متعلق مشاغل اور دلچسپیوں میں بھی وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس فصل کی تیاری کی مدت اس وقت تک ہے جب تک ہم کو موت نہیں آ جاتی۔ موت آخرت کی فصل کاٹنے کا دن ہے۔ جب اس دنیا میں ہماری آنکھ بند ہو گی تو دوسری دنیامیں ہماری آنکھ کھلے گی۔ وہاں ہماری عمر بھر کی تیار کی ہوئی کھیتی ہمارے سامنے موجود ہو گی۔
یاد رکھیے کاٹنے کے دن وہی کاٹتا ہے جس نے کاٹنے سے پہلے کھیتی کی ہو اور وہی چیز کاٹتا ہے جو اس نے اپنے کھیت میں بوئی تھی۔ اسی طرح آخرت میں ہر شخص کو وہی فصل ملے گی جو اس نے موت سے پہلے تیار کی ہے۔ ہر کسان جانتا ہے کہ اس کے گھر میں ٹھیک اتنا ہی غلّہ آئے گا جتنی اس نے محنت کی ہے اور وہی چیز آئے گی جو اس نے بوئی تھی۔ اسی طرح آخرت میں بھی آدمی کو اسی کے بقدر ملے گا جتنی اس نے جدوجہد کی ہے اور وہی کچھ ملے گا جس کے لیے اس نے کوشش کی ہو۔
موت کوشش کی مدّت ختم ہونے کا آخری اعلان ہے اور آخرت اپنی کوششوں کا انجام پانے کی آخری جگہ۔ موت کے بعد نہ دوبارہ کوشش کرنے کا موقع ہے اور نہ آخرت کبھی ختم ہونے والی ہے۔ کتنا سنگین ہے یہ واقعہ۔ کاش انسان موت سے پہلے اس حقیقت کو سمجھ لے کیوں کہ موت کے بعد سمجھنا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ موت کے بعد ہوشیار ہونے کے معنی صرف یہ ہیں کہ آدمی اس بات پرافسوس کرے کہ اس نے ماضی میں کتنی بڑی غلطی کی ہے ، ایک ایسی غلطی جس کی اب کوئی تلافی نہیں ہو سکتی۔
انسان اپنے انجام سے غافل ہے حالانکہ زمانہ اس کو نہایت تیزی سے اس وقت کی طرف لیے جا رہا ہے جب فصل کٹنے کا وقت آ جائے گا۔ وہ دنیا کے حقیر فائدوں کو حاصل کرنے میں مصروف ہے اور سمجھتا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل وہ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کر رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک عظیم موقع ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے لیے ایک ناقابل قیاس حد تک شاندار مستقبل بنا سکتا ہے۔ مگر وہ کنکریوں سے کھیل رہا ہے۔ اس کا رب اس کو اپنی جنت کی طرف بلا رہا ہے جو لامتناہی عزت اور آرام کی جگہ ہے۔ مگر وہ چند دن کی جھوٹی لذت میں کھویا ہوا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حاصل کر رہا ہوں حالانکہ وہ صرف ضائع کر رہا ہے۔ دنیا میں مکان بنا کر وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہوں حالانکہ وہ صرف ریت کی دیواریں اٹھا رہا ہے جو اسی لیے بنتی ہیں کہ بننے کے بعد منہدم ہو جائیں۔
انسان اپنے آپ کو پہچان۔ تو کیا کر رہا ہے اور تجھے کیا کرناچاہیے!(1960)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.