← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
موت کے بعد زندگی
Urdu · 16 min
’’جب میں مر کر مٹی ہو جائوں گا تو کیا مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔‘‘ اس سوال کو اس طرح متعین کرکے تو بہت کم لوگ سوچتے ہیں مگر ہر وہ شخص جو اس بات پر گہرا یقین نہیں رکھتا کہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی سے سابقہ پیش آنے والا ہے اس کے ذہن میں ضرور یہ سوال دبا ہوا رہتا ہے۔ جو شخص آج کی زندگی میں کل کی زندگی کے لیے فکر مند نہیں ہے وہ اس بات کا ثبوت پیش کر رہا ہے کہ وہ کل کی زندگی کے متعلق شبہ میں مبتلا ہے۔ خواہ وہ باقاعدہ اس مسئلے پر سوچتا ہو یا نہ سوچتا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لیکن اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو نہایت آسانی سے اس کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ موت کے بعد پیش آنے والی حقیقتوں کو ہماری نگاہوں سے چھپا دیا ہے کیوں کہ وہ ہمارا امتحان لے رہا ہے، مگر کائنات میں ایسی بے شمار نشانیاں پھیلا دی ہیں جن پر غور کرکے ہم تمام حقیقتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ کائنات ایک آئینہ ہے جس میں دوسری دنیا کا عکس نظر آتا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنی موجودہ شکل میں اول روز سے موجود نہیں ہیں۔ انسان کی ابتداء ایک بے شکل حقیر مادے سے ہوتی ہے جو ماں کے پیٹ میں بڑھ کر انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور پھر باہر آ کر مزید ترقی کرکے پورا انسان بن جاتا ہے۔ ایک بے شعور اور حقیر مادہ جو اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ خالی آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا اس کا بڑھ کر چھ فٹ لمبا انسان بن جانا ایک ایسا واقعہ ہے جو روزانہ اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ پھر یہ سمجھنے میں آپ کو کیا دقت پیش آتی ہے کہ ہمارے جسم کے اجزاء جو نہایت چھوٹے چھوٹے ذرات بن کر زمین میں منتشر ہو جائیں گے تو دوبارہ وہ پورے انسان کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ہر انسان جس کو آپ چلتا پھرتا دیکھتے ہیں وہ دراصل انسان کی شکل میں بے شمار ایٹم ہیں جو پہلے ہماری زمین اور ہماری فضا کے اندر نامعلوم وسعتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ پھر ہوا، اور پانی اور خوراک نے ان ایٹموں کو لا کر ایک انسانی وجود میں اکٹھا کر دیا اور اب ہم انہیں منتشر ایٹموں کے مجموعے کو ایک چلتے پھرتے انسان کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی عمل دوبارہ ہوگا۔ ہمارے مرنے کے بعد ہماری زندگی کے اجزاء ہوا اور پانی اور زمین میں منتشر ہو جائیں گے اور اس کے بعد جب خدا کا حکم ہوگا تو وہ اسی طرح اکٹھا ہو کر ایک وجود کی شکل میں مجسم ہو جائیں گے جس طرح وہ پہلی بار مجسم ہوئے تھے۔ ایک واقعہ جو ہو چکا ہے وہی اگر دوبارہ ظہور میں آئے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔
خود مادی دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ زندگی کو دوسری بار دہرایا جا سکتا ہے۔ ہر سال برسات میں ہم دیکھتے ہیں کہ زمین میں سبزہ اگتا ہے اور ہرطرف ہریالی پھیل جاتی ہے پھر گرمی کا زمانہ اس کے لیے موت کا پیغام بن کر آتا ہے اور ساری زمین خشک ہو جاتی ہے۔ جہاں سبزہ لہلہا رہا تھا وہاں چٹیل میدان دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس طرح ایک زندگی پیدا ہو کر مر جاتی ہے۔ لیکن اگلی بار جب برسات کا موسم آتا ہے اور آسمان سے بارش ہوتی ہے تو وہی مرے ہوئے سبزے دوبارہ جی اٹھتے ہیں اور خشک زمین پر سبزہ زار نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح انسان بھی مرنے کے بعد زندہ کیےجائیں گے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ زندگی بعد موت کے بارے میں شبہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنا تصور موجودہ جسمانی وجود کی شکل میں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خارج میں جو ایک چلتا پھرتا جسم دکھائی دیتا ہے، یہی اصل انسان ہے اور جب یہ سڑگل جائے گا اور اس کے اجزاء مٹی میں مل چکے ہوں گے تو اس کو دوبارہ کس طرح مجسم کرکے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کی موت آتی ہے، وہ خاموش ہو جاتا ہے، اس کی حرکت رک جاتی ہے۔ اس کی تمام صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ زمین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے یا بعض قوموں کے رواج کے مطابق جلا کر دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ ریزے ریزے ہو کر اس طرح منتشر ہو جاتا ہے کہ پھر اس کا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ایک زندہ انسان کو اس طرح ختم ہوتے ہوئے ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ انسان جو ختم ہو چکا ہے وہ دوبارہ کیسے موجود ہو جائے گا۔
مگر ہمارا اصل وجود ہمارا یہ جسم نہیں ہے جس کو ہم بظاہر چلتا پھرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ بلکہ اصل وجود وہ اندرونی انسان ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ جو سوچتا ہے، جو جسم کو متحرک رکھتا ہے جس کی موجودگی جسم کو زندہ رکھتی ہے اور جس کے نکل جانے کے بعد جسم تو باقی رہتا ہے مگر اس میں کسی قسم کی زندگی نہیں پائی جاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی مخصوص جسم کا نام نہیں ہے بلکہ اس روح کا نام ہے جو جسم کے اندر موجود ہوتی ہے۔ جسم کے متعلق ہم کو معلوم ہے کہ یہ بہت سے انتہائی چھوٹے چھوٹے ریزوں سے مل کر بنا ہے جس کو زندہ خلیہ(living cell) کہتے ہیں۔ ہمارے جسم میں خلیوں کی وہی حیثیت ہے جو کسی مکان میں اس کی اینٹوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے جسمانی مکان کی یہ اینٹیں یا اصطلاحی زبان میں خلیے ہماری حرکت اور عمل کے دوران برابر ٹوٹتے رہتے ہیں جس کی کمی ہم غذا کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔ غذا ہضم ہو کر یہی مختلف قسم کے خلیے بناتی ہے جو جسم کی ٹوٹ پھوٹ کو مکمل کر دیتے ہیں۔ اس طرح انسان کا جسم مسلسل گھستا اور بدلتا رہتا ہے۔ پچھلے خلیے ٹوٹتے ہیں اور نئے خلیے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یہ عمل ہر روز ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ عرصے کے بعد سارے کا سارا جسم بالکل نیا ہو جاتا ہے۔
یہ عمل اوسطاً دس سال میں مکمل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کا جسم جو دس سال پہلے تھا۔ اس میں آج کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ آج آپ کا جسم ایک نیا جسم ہے۔ دس سال کے عرصے میں آپ کے جسم کے جو حصے ٹوٹ کر الگ ہوئے ہیں۔ اگر ان کو پوری طرح یکجا کیا جا سکے تو بعینہ آپ کی شکل کا ایک دوسرا انسان کھڑا کیا جا سکتا ہے حتیٰ کہ اگر آپ کی عمر سو سال ہو تو آپ ہی جیسے تقریباً دس انسان بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ انسان بظاہر دیکھنے میں آپ کی طرح ہوں گے۔ مگر وہ سب کے سب مردہ جسم ہوں گے جن کے اندر آپ موجود نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ آپ نے پچھلے جسموں کو چھوڑ کر ایک نئے جسم کو اپنا قالب بنا لیا ہے۔
اس طرح آپ کا جسم بنتا بگڑتا رہتا ہے مگر آپ کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ جس چیز کو آپ’’میں‘‘ کہتے ہیں وہ بدستور باقی ہے۔ آپ نے اگر کسی سے دس سال پہلے معاہدہ کیا تھا تو آپ ہر وقت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ’’میں‘‘ نے کیا تھا۔ حالانکہ اب آپ کا پچھلا جسمانی وجود باقی نہیں ہے۔ وہ ہاتھ اب آپ کے جسم پر نہیں ہے جس نے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کیےتھے اور نہ وہ زبان موجود ہے جس نے معاہدے کی بابت گفتگو کی تھی۔ لیکن’’آپ‘‘ اب بھی موجود ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ دس سال پہلے جو معاہدہ میں نے کیا تھا وہ میرا ہی معاہدہ تھا اور اب بھی میں اس کا پابند ہوں یہی وہ اندرونی انسان ہے جو جسم کے ساتھ بدلتا نہیں بلکہ جسم کی کتنی ہی تبدیلیوں کے باوجود اپنے آپ کو باقی رکھتا ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ انسان کسی خاص جسم کا نام نہیں ہے جس کے مرنے سے انسان بھی مر جائے۔ بلکہ وہ ایک ایسی روح ہے جو جسم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے اور جسم کے اجزاء منتشر ہونے کے بعد بھی بدستور باقی رہتی ہے۔ جسم کے بدلنے اور روح کے نہ بدلنے میں اس حقیقت کا صاف اشارہ موجود ہے کہ جسم فانی ہے مگر روح فانی نہیں۔
بعض نادان لوگ یہ کہتے ہیں کہ زندگی اور موت نام ہے کچھ مادی اجزاء کے اکٹھے ہونے اور پھر منتشر ہو جانے کا۔ ان اجزاء کے ملنے سے زندگی بنتی ہے اور ان کے الگ ہو جانے سے موت واقع ہوتی ہے۔ اسی نظریے کو اردو شاعر چکسبتؔ (وفات 1926)نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے
quoted sourceQuoted from another author or source
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا
مگر یہ ایک ایسی بات ہے جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر زندگی محض ’’عناصر میں ظہور ترتیب‘‘ کا نام ہے تو اس کو اس وقت تک باقی رہنا چاہیے جب تک عناصر کی یہ ترتیب موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہونا چاہیے کہ کوئی ہوشیار سائنس داں ان عناصر کو یکجا کرکے زندگی پیدا کر سکے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والوں میں صرف وہی نہیں ہیں جن کو کوئی ایسا حادثہ پیش آئے جو ان کے جسم کے ٹکڑے کر دے۔ بلکہ ہر حالت میں اور ہر عمر کے لوگ مرتے ہیں۔ بعض مرتبہ اچھے خاصے تندرست انسان کے دل کی حرکت یکایک اس طرح بند ہو جاتی ہے کہ کوئی ڈاکٹر بتا نہیں پاتا کہ ایسا کیوں ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والے کا جسم اپنی سابقہ حالت میں لیٹا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں’’عناصر کا ترتیبی ظہور‘‘ مکمل طور پر موجود ہے۔ مگر اس کے اندر جو روح تھی وہ نکل چکی ہے۔ سارے عناصر اسی خاص ترتیب کے ساتھ اب بھی موجود ہوتے ہیں جواب سے چند منٹ پہلے تھے مگر اس کے اندر زندگی موجود نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مادی عناصر کی ترتیب زندگی پیدا نہیں کرتی بلکہ زندگی اس سے الگ ایک چیز ہے جو اپنا مستقل وجود رکھتی ہے۔
کسی لیبارٹری میں زندہ انسان نہیں بنایا جا سکتا اگرچہ جسم کی شکل ہر وقت بنائی جا سکتی ہے۔ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ زندہ جسم کے اجزاء بالکل معمولی کیمیاوی ایٹم ہوتے ہیں۔ اس میں کار بن وہی ہے جو ہم کالک میں دیکھتے ہیں۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن وہی ہے جو پانی کی اصل ہے۔ نائٹروجن وہی ہے جس سے کرۂ ہوا کا بیشتر حصہ بنا ہے۔ اور اسی طرح دوسری چیزیں۔ مگر کیا ایک زندہ انسان محض معمولی ایٹموں کا ایک خاص مجموعہ ہے جو کسی غیر معمولی طریقے سے ترتیب دے دیا گیا ہے۔ یا وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان کا جسم فلاں فلاں مادی اجزاء سے مل کر بنا ہے مگر انہیں اجزاء کو یکجا کرکے ہم زندگی پیدا نہیں کر سکتے۔ دوسرے لفظوں میں ایک زندہ انسان کا جسم محض بے جان ایٹموں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایٹم اور زندگی دونوں ہے۔ مرنے کے بعد ایٹموں کا مجموعہ تو ہمارے سامنے موجود رہتا ہے مگر زندگی اس سے رخصت ہو کر دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زندگی مٹنے والی چیز نہیں ہے۔ بلکہ باقی رہنے والی چیز ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زندگی بعد موت کا نظریہ کس قدر عقلی اور فطری نظریہ ہے۔ یہ حقیقت پکار رہی ہے کہ زندگی صرف وہی نہیں ہو سکتی جو موت سے پہلے نظر آتی ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی ہمیں زندہ رہنا چاہیے۔ ہماری عقل تسلیم کرتی ہے کہ یہ دنیا اور اس کی عمرفانی ہے مگر انسان ایک ایسا وجود ہے جو اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ جب ہم مرتے ہیں تو درحقیقت ہم مرتے نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لیے دوسری دُنیا میں چلے جاتے ہیں۔ موجودہ زندگی ہماری مسلسل عمر کا محض ایک مختصر وقفہ ہے۔