← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
سب سے بڑا مسئلہ
Urdu · 15 min
آج بھی دنیاکے بیشتر انسان خدا اور آخرت کو مانتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ اس کے منکر ہوگئے ہوں مگر اس ماننے کا تعلق ان کے عمل سے نہیں ہے۔ حقیقی زندگی میں ہر شخص کے سامنے صرف یہ سوال ہے کہ وہ اپنی آج کی دنیا کو کس طرح کامیاب بنائے۔ اگر ہماری رصدگاہیں کسی روز یہ اعلان کر دیں کہ زمین کی قوت کشش ختم ہوگئی ہے اور وہ چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھنچی جا رہی ہے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا۔ کیوں کہ اس طرح کی ایک خبر کے معنی یہ ہیں کہ چند ہفتوں کے اندر روئے زمین سے ہر قسم کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔
مگر یہ دنیا ہر آن ایک اس سے زیادہ شدید خطرے سے دو چار ہے اور کوئی نہیں ہے جو اس سے گھبرانے کی ضرورت محسوس کرتا ہو۔ یہ خطرہ کیا ہے، یہ قیامت کا خطرہ ہے جو زمین و آسمان کی پیدائش کے روز ہی سے اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے اور جس کی طرف ہم سب لوگ نہایت تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ عقیدے کی حد تک سبھی لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو فی الواقع اس کے بارے میں سنجیدگی سے کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں۔
اگر آپ شام کے وقت کسی کھلے ہوئے بازار میں کھڑے ہو جائیں اور وہاں دیکھیں کہ لوگ کس لیے دوڑ بھاگ کر رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آج کے انسان کس چیز کو اپنا اصل مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے بھرے ہوئے بازار میں موٹروں کی آمدورفت کس لیے ہو رہی ہے، دکان دار کس لیے اپنی دکانیں سجائے ہوئے ہیں۔ انسانوں کے غول کے غول کہاں آتے جاتے نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی بات چیت کا موضوع کیا ہے اور ایک دوسرے کی ملاقات کس غرض سے ہو رہی ہے، کن چیزوں سے لوگ دلچسپی لے رہے ہیں، ان کی بہترین صلاحیتیں اور ان کے جیب کے پیسے کس مقصد کے لیے خرچ ہو رہے ہیں، جو خوش ہے وہ کیا چیز پا کر خوش ہے اور جو چہرے اداس نظر آتے ہیں، کس چیز کی محرومی نے انہیں اداس بنا دیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے کیا چیز لے کر نکلے ہیں اور کیا چیز لے کر واپس جانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کی مصروفیتوں سے، ان کے منہ سے نکلی ہوئی آوازوں سے، ان سوالات کا جواب معلوم کر سکیں تو اسی سے آپ کو اس سوال کا جواب بھی معلوم ہو جائے گا کہ آج کا انسان کس چیز کو اپنا اصل مسئلہ سمجھتا ہے اور کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حقیقت یہ ہے کہ بازاروں کو چہل پہل اور مصروف ترین سڑکوں پر انسانوں کی مسلسل آمدورفت پکار رہی ہے کہ آج کا انسان اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑ رہا ہے، وہ آخرت کو نہیں بلکہ صرف دنیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ خوش ہے تو اس لیے خوش ہے کہ اس کی دنیوی تمنائیں پوری ہو رہی ہیں۔ اگر وہ غمگین ہے تو اس لیے غمگین ہے کہ اس کی دنیوی خواہشیں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ آج کی ضرورتیں، آج کا آرام، آج کی عزت، آج کے مواقع، بس انہیں کو پالینے کا نام لوگوں کے نزدیک کامیابی ہے، اور انہیں سے محروم رہنے کا نام لوگوں کے نزدیک ناکامی۔ یہی وہ چیز ہے جس کے پیچھے سارا انسانی قافلہ بھاگا چلا جا رہا ہے۔ کسی کو بھی آنے والے دن کی فکر نہیں۔ ہر شخص بس آج کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے۔
صرف بڑے بڑے شہروں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ جہاں بھی چند انسان بستے ہیں اور کچھ چلتے پھرتے لوگ موجود ہیں۔ ان سب کا یہی حال ہے۔ آپ کسی کو دیکھیے وہ اسی خیال میں ڈوبا ہوا نظر آئے گا۔ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، بوڑھا ہو یا جوان، جاہل ہو یا عالم، شہری ہو یا دیہاتی حتیٰ کہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی سب کے سب اسی سمت میں بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ آج آدمی کی سب سے بڑی تمنا صرف یہ ہے کہ دنیا میں جتنا کچھ حاصل کر سکتا ہے حاصل کر لے، اسی کو وہ اپنے لیے ’’کام‘‘ سمجھتا ہے۔ اسی کے لیے اپنے بہترین اوقات اور بہترین صلاحیتوں کو صرف کرتا ہے۔ اسی کی فکر میں رات دن مشغول ہے۔ حد یہ ہے کہ اگر ضمیر اور ایمان کو قربان کرکے یہ چیز ملے تو وہ اپنا ضمیر اور ایمان بھی اس دیوی کی نذر کرنے کے لیے تیار ہے۔ وہ دنیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے خواہ وہ جس طرح بھی ملے۔
مگر اس طرح کی ہر کامیابی صرف دنیا کی کامیابی ہے۔ آخرت میں وہ بالکل کام نہیں دے سکتی۔ جو شخص صرف آج کی دنیا بنانے کی فکر میں ہے اور آخرت کی طرف سے غافل ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی جوانی میں اپنے بڑھاپے کے لیے جمع نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ جب اس کی قوتیں جواب دے دیتی ہیں اور وہ کام کرنے سے معذور ہو جاتا ہے۔ تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کاکوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ میرے پاس مکان نہیں ہے مگر اب وہ اپنا مکان نہیں بنا سکتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس موسموں سے بچنے کے لیے کپڑا اور بستر نہیں ہے مگر اب اس میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے کپڑا اور بستر مہیا کرسکے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے مگر اب وہ اپنے کھانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ حسرت کے ساتھ کسی دیوار کے سایہ میں چیتھڑا لپیٹے ہوئے پڑا رہتا ہے جس پر کتے بھونکتے ہیں۔ اور لڑکے کنکر مارتے ہیں۔
ہم اپنی آنکھوں سے اس طرح کی مثالیں دیکھتے ہیں جس سے ایک ہلکا اندازہ ہو سکتا ہے کہ آخرت کی کمائی نہ کرنے والے کے لیے آخرت کی زندگی کیسی ہوگی۔ مگر اس کے باوجود ہمارے اندر کوئی کھلبلی پیدا نہیں ہوتی۔ ہم میں کا ہر شخص صرف اپنے آج کی تعمیر میں مصروف ہے وہ اپنے کل کی کوئی فکر نہیں کرتا۔
جنگ کے زمانہ میں جب ہوائی حملے کا سائرن بجتا ہے اور اپنی مہیب آواز سے یہ اعلان کرتا ہے کہ’’دشمن کے ہوائی جہاز آتشیں بموں کو لیے غول درغول چلے آ رہے ہیں اور تھوڑی دیر میں شہر کو آگ اور دھوئیں سے بھر دیں گے، لوگ فوراً پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔‘‘ تو یکایک ہر شخص قریب کی پناہ گاہ کے راستے پر چل پڑتا ہے اور دم بھر میں انتہائی آباد سڑکیں بالکل سنسان ہو جاتی ہیں۔ جو شخص ایسا نہ کرے اس کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ احمق ہے یا اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ دنیا کے چھوٹے خطرے کا معاملہ ہے۔ دوسرا ایک اس سے بڑا اور اس سے زیادہ یقینی خطرہ ہے جس کے متعلق کائنات کے مالک کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے۔ خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اعلان کیا ہے کہ’’لوگو میری عبادت کرو، ایک دوسرے کے حقوق پورے کرو اور میری مرضی کے مطابق زندگی گزارو۔ جو ایسا نہیں کرے گا میں اس کو ایسی سخت سزا دوں گا جس کا وہ تصور نہیں کر سکتا۔ یہ ایک مستقل عذاب ہوگا جس میں وہ ہمیشہ تڑپتا رہے گا اور کبھی اس سے نکل نہ سکے گا‘‘۔ اس اعلان کو ہر کان نے سنا ہے اور ہر زبان کسی نہ کسی شکل میں اس کا اقرار کرتی ہے۔ مگر لوگوں کا حال دیکھیے تو ایسا معلوم ہوگا جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے لوگ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کا قافلہ نہایت تیزی سے اس راستے پر بھاگا جا رہا ہے جدھر جانے سے اس کو منع کیا گیا ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹر سے جو سائرن بجتا ہے اس پر عمل کرنے کے لیے فوراً لوگ دوڑ پڑتے ہیں اور مالک کائنات کی طرف سے جس خطرے کا اعلان کیا گیا ہے اس سے کسی کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی پکار پر نہیں دوڑتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی ہیڈ کوارٹر کا سائرن جس خطرے کا اعلان کرتا ہے اس کا تعلق آج کی دنیا سے ہے جس کو آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس کے نتیجے کو فوراً محسوس کر لیتا ہے۔ مگر خدا کی طرف سے جس خطرے کا اعلان کیا گیا ہے وہ مرنے کے بعد پیش آئے گا۔ ہمارے اور اس کے درمیان موت کی دیوار حائل ہے۔ وہ آج کی آنکھوں سے ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم نہ اس کے ہوائی جہازوں کو دیکھتے ہیں نہ اس کے بموں کو اور نہ اس کی آگ اور دھویں کی بارش کو۔ اس لیے ہوائی حملے کے سائرن کا تو لوگ فوراً یقین کر لیتے ہیں مگر خدا نے جس عذاب کی خبر دی ہے اس کو سن کر ان کے اندر کوئی سراسیمگی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں وہ یقین پیدا نہیں ہوتا جو لوگوں کو عمل کے لیے بیتاب کر دے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو صرف وہی دو آنکھیں نہیں دی ہیں جو پیشانی کے نیچے نظر آتی ہیں اور سامنے کی چیزوں کو دیکھ لیتی ہیں۔ ہمارے پاس ایک اور آنکھ ہے جو زیادہ دور تک دیکھ سکتی ہے۔ جو چھپی ہوئی حقیقتوں کو بھی دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ عقل کی آنکھ ہے۔ لوگوں کی بےیقینی کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنی اس دوسری آنکھ کو استعمال نہیں کرتے۔ وہ سامنے جو کچھ دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ بس یہی حقیقت ہے۔ حالانکہ اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جو چیز ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس سے زیادہ یقینی ہے وہ چیز جو ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس کائنات میں وہ کون سی حقیقت ہے جس کو ہر شخص مانتا ہو تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا۔ یعنی موت۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر بڑے چھوٹے کو تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ کسی بھی وقت اس کی موت آ سکتی ہے مگر جب موت کا خیال آتا ہے تو عام طور پر لوگ صرف اتنا سوچتے ہیں کہ’’میرے مرنے کے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا۔‘‘ مرنے سے پہلے وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہت سوچتے ہیں مگر مرنے کے بعد انہیں صرف گھر اور بچوں کی فکر ہوتی ہے۔ بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے تو وہ ساری عمر لگا دیتے ہیں مگر جو مستقبل خود ان کے سامنے آنے والا ہے اس کی تعمیر کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے۔ گویا ان کے مرنے کے بعد صرف ان کے بچوں کا وجود باقی رہے گا، خود ان کا کوئی وجود نہیں ہوگا جس کے لیے انہیں تیاری کرنے کی ضرورت ہو۔
اس انداز میں لوگوں کا سوچنا یہ بتاتا ہے کہ انہیں شاید اس کا احساس نہیں ہے کہ مرنے کے بعد بھی ایک زندگی ہے بلکہ اصل زندگی مرنے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ اگر انہیں اس بات کا یقین ہوتا کہ مر کر جب وہ قبر میں دفن ہوتے ہیں تو درحقیقت وہ قبر میں دفن نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسری دنیا میں داخل کر دیے جاتے ہیں۔ تو وہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنے سے پہلے یہ سوچتے کہ’’مرنے کے بعد میرا کیا انجام ہوگا۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا بیشتر انسان خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی اس یقین سے خالی ہو گیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا بلکہ نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔ ایک ایسی زندگی جو موجودہ زندگی سے زیادہ حقیقی ہے، جو موجودہ زندگی سے زیادہ اہم ہے۔
موت کے بعد آنے والی زندگی کے بارے میں شبہ دو وجہوں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ہر انسان مر کر مٹی میں مل جاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان مر کر ختم ہوگیا تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ دوبارہ کس طرح زندگی پائے گا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ موت کے بعد جو دنیا ہے وہ ہم کو نظر نہیں آتی۔ آج کی دنیا کو تو ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے مگر اس کے بعد والی دنیا کو اب تک کسی نے نہیں دیکھا۔ اس لیے ہم کو یقین نہیں آتا کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہو سکتی ہے۔ آیئے ان دونوں سوالوں پر غور کریں۔