جدید تہذیب نے انسان کو خدا سے محروم کرکے اس کو روحانی فاقہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی روحانی فاقہ کا نتیجہ ہے کہ موجودہ جاپان کے نوجوان، صنعتی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر یہ کہنے لگے ہیں کہ’’ہمارا کلچر ایک مرچنٹ کلچر ہے اور صرف مرچنٹ کلچر انسان کے لیے کافی نہیں‘‘ ۔ مغربی سوسائٹی کا وہ مظہر جس کو ہپی ازم کہتے ہیں وہ بھی اسی فاقہ زدگی کی ایک مثال ہے۔
ایک ہپی نوجوان دہلی کی سڑک پر پیدل چل رہا تھا۔ اس کے جسم پر نہایت معمولی ہندستانی لباس تھا اور گلے کے ساتھ لٹکتی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈھول، نوجوان سے اس کا وطن پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کناڈا کا رہنے والا ہے۔ مزید سوالات کے دوران اس نے کہا کناڈا میں میرے پاس ذاتی مکان اور ذاتی کار تھی۔ ایک اچھی بیوی تھی۔ معقول روزگار تھا۔ یہاں میرے پاس کوئی مکان نہیں جہاں بھی مجھے نیند آتی ہے میں سو جاتا ہوں، خواہ وہ ایک فٹ پاتھ ہو۔ میرے پاس اپنی سواری نہیں، روزگار نہیں۔ میری بیوی نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔
’’یہاں آپ کو جب اتنی تکلیف ہے تو پھر آپ نے کناڈا کو چھوڑ کر انڈیا آنا کیوں پسند کیا‘‘ ۔ اس کے جواب میں مغربی نوجوان نے نہایت سنجیدگی سے رک رک کر یہ الفاظ کہے وہاںمیں جسمانی طور پر مطمئن تھا، یہاں میں روحانی طور پر مطمئن ہوں
There I was comfortable physically, here I am comfortable spiritually.
جدید تہذیب نے انسان کو بے شمار مادی چیزیں دیں۔ مگر یہ چیزیں اس کے وجود کے صرف ’’نصف حصہ‘‘ کو تسکین دے سکتی تھیں۔ بقیہ نصف کے لیے ان میں کوئی تسکین موجود نہیں تھی۔ جدید مشینی تہذیب کا یہی وہ تضاد ہے جس نے وہ تمام مظاہر پیدا کیےجن کو موجودہ زمانہ میں ہپی ازم، بورڈم، ان رسٹ (unrest) وغیرہ کہا جاتا ہے، اور جس کو پیس آف مائنڈ کو کھونا کہتے ہیں۔ یہاں مشہور ماہر نفسیات کارل ینگ(1875-1961) کا تجربہ قابل نقل ہے۔ انہوں نے کہا
’’پچھلے تیس برسوں میں روئے زمین کے تمام متمدن ممالک کے لوگوں نے مجھ سے(اپنے نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں) مشورہ حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا ہے۔ میرے مریضوں میں زندگی کے نصف آخر میں پہنچنے والے تمام لوگ جوکہ 35 سال کے بعد کہی جا سکتی ہے، کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کا مسئلہ اپنے آخری تجزیہ میں زندگی کا مذہبی نقطۂ نظر پانے کے سوا کچھ اور ہو۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص کی بیماری یہ تھی کہ اس نے وہ چیز کھو دی تھی جو کہ موجودہ مذہب ہر دور میں اپنے پیروئوں کو دیتے رہے ہیں۔ اور ان مریضوں میں سے کوئی بھی حقیقۃً اس وقت تک شفایاب نہ ہو سکا جب تک اس نے اپنا مذہبی تصور دوبارہ نہیں پالیا۔‘‘
Quoted by C.A. Coulson, Science & Christian Belief, p. 110
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔